Monday, 26 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Maa: Fitrat, Science Aur Deen Ki Nigah Mein

Maa: Fitrat, Science Aur Deen Ki Nigah Mein

ماں: فطرت، سائنس اور دین کی نگاہ میں

19 جنوری 2017 کو میری والدہ مجھے سکھر کے ایک نجی ہسپتال میں اس دنیا کی فانی حقیقت میں اکیلا چھوڑ کر ہمیشہ کے سفر پر روانہ ہوگئیں۔ ان کی محبت، دعا اور قربانی کا سایہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں رہے گا۔ ماں کی یاد ہر خوشی میں سکون اور ہر دکھ میں تسلی کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

آئیے، میں آپ کو قدرت کی ایک حیرت انگیز اور خوشی بکھیرنے والی انوکھی بات سناؤں۔ ماں وہ رشتہ ہے جسے لفظوں میں سمونا ناممکن ہے، شاید اسی لیے دنیا کی ہر زبان میں ماں کا لفظ، م (M) سے شروع ہوتا ہے۔

Mother (انگریزی)، Mother (لاطینی ماخذ)، Mère (فرانسیسی)، Madre (ہسپانوی/اطالوی)، Mutter. (جرمن)، Maa / Mom / Mama، Urdu، ماں، Sindhi ماء، امان، أُمّ۔ (عربی)۔

یہ محض اتفاق نہیں۔ ماہرین لسانیات کے مطابق، "م" وہ پہلی آواز ہے جو بچہ ماں کی گود میں یا دودھ پیتے وقت فطری طور پر ادا کرتا ہے۔ یہ آواز نہ سکھائی جاتی ہے، نہ سکھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے ماں کا تصور زبان سے پہلے دل میں اتر جاتا ہے۔

م میں محبت ہے، مہربانی ہے، مامتا ہے، معافی ہے اور محفوظ پناہ کا احساس ہے۔

دینی اور تاریخی روایات کے مطابق دنیا کی پہلی ماں حضرت حوّاؑ تھیں، جو حضرت آدمؑ کی زوجہ تھیں۔ چونکہ تمام انسان حضرت آدمؑ اور حضرت حوّاؑ ہی کی اولاد ہیں، اس لیے انہیں "امّ البشر" (تمام انسانوں کی ماں) کہا جاتا ہے۔

سائنس کے مطابق ماں کی محبت فطری اور حیاتیاتی ہے۔ حمل، ولادت اور دودھ پلانے کے دوران عورت کے جسم میں Oxytocin اور دیگر ہارمونز خارج ہوتے ہیں، جو بے پناہ محبت، صبر اور قربانی کی فطری صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ ماں کے دماغ کے وہ حصے فعال ہو جاتے ہیں جو فیصلہ سازی، حفاظت اور جذباتی سمجھ سے متعلق ہیں۔ اسی لیے ماں جسمانی تکلیف، نیند کی کمی اور روزمرہ کے دباؤ کے باوجود بچے کی حفاظت اور اس کی خوشی میں سب کچھ بھول جاتی ہے۔

نفسیات کے مطابق بھی ماں کی محبت منفرد ہے۔ جان بولبی کے Attachment Theory کے مطابق بچے کا پہلا مضبوط جذباتی تعلق ماں سے بنتا ہے۔ یہ تعلق بچے کو اعتماد، تحفظ اور خود اعتمادی فراہم کرتا ہے۔ ماں کی محبت بلا شرط (Unconditional) ہوتی ہے، وہ اولاد کی خوشی کے لیے اپنی خواہشات، آرام اور کبھی کبھی اپنی صحت بھی قربان کر دیتی ہے۔ اس لیے ماں نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی اور روحانی طور پر بھی بے پناہ طاقتور ہوتی ہے۔

دین اسلام میں ماں کو بہت ہی اعلیٰ مقام حاصل ہے۔

نبی کریم ﷺ کے ماں کے بارے میں مستند اقوال: جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے" (سنن نسائی، صحیح)

یہ حدیث ماں کی خدمت اور مقام کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

حسنِ سلوک میں ماں کو تین بار فوقیت:

حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے پوچھا: "یارسول اللہ ﷺ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟"

نبی ﷺ نے فرمایا: "تمہاری ماں"

پھر پوچھا گیا: "پھر کون؟"

فرمایا: "تمہاری ماں"

پھر پوچھا گیا: "پھر کون؟"

فرمایا: "تمہاری ماں"

اس کے بعد فرمایا: "تمہارا باپ"

(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

ماں کی قدر باپ سے تین گنا زیادہ بیان ہوئی ہے۔

ماں کی دعا کی قبولیت:

حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "ماں کی دعا اور رضا کی نیت میں سب سے زیادہ برکت ہے" (تفسیر طبری و دیگر کتب)۔

ماں کی دعا بچے کی زندگی میں خیر و برکت لاتی ہے۔

ماں کے ساتھ حسنِ سلوک:

نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں برکت دے گا اور اس کے اعمال کو قبول فرمائے گا" (سنن ابن ماجہ، صحیح)

ماں کے ساتھ اچھا سلوک عبادت کے مترادف ہے۔

ایک بزرگ کو اپنی ماں کی غمخواری و خدمت گزاری کی بدولت غیب سے ایسے سامان پیدا ہوگئے کہ آپ علم کے نور سے منور ہوگئے۔ تذکرۃ الاولیاء میں اس حکایت کو درج کیا گیا ہے۔ لکھا ہے کہ میں نے اعلیٰ مذہبی تعلیم کے حصول کے لئے دو طالب علموں کے ہمراہ شہر سے باہر جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے اپنی والدہ سے اس کا اظہار کیا۔ والدہ نے کہا کہ میں ضعیف ہوں مجھ کو اس حالت میں چھوڑ کر کہاں جاتے ہو۔ چنانچہ آپ رک گئے اور دوسرے ساتھی چلے گئے۔ پانچ ماہ بعد آپ گورستان میں بیٹھ کر رونے لگے کہ میں یہاں بیکار ہوں اور میرے ساتھی کل عالم سے ہو کر آئیں گے۔ آپ ابھی رو ہی رہے تھے کہ ایک طرف ایک نورانی شکل بزرگ نمودار ہوئے اور آپ سے رونے کا سبب پوچھا۔ آپ نے سارا حال سنایا۔ اس بزرگ نے فرمایا تم کوئی غم نہ کرو اگر تم چاہو تو میں تمہیں روزانہ سبق پڑھا دیا کروں گا۔ تاکہ تم ان سے بڑھ جاؤ۔ چنانچہ تین سال تک وہ روزانہ سبق پڑھاتے رہے۔ فرماتے ہیں میں نے یہ دولت والدہ کی رضامندی سے حاصل کی۔

Check Also

Aqil Baligh Ka Janaza, Bachon Ke Kandhon Par

By Shahid Nasim Chaudhry