Friday, 23 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Islam Deen e Fitrat Aur Naam Nihad Jadeed Iqdar

Islam Deen e Fitrat Aur Naam Nihad Jadeed Iqdar

اسلام دین فطرت اور نام نہاد جدید اقدار

اسلام کو اگر ایک جملے میں سمجھا جائے تو اسے بجا طور پر دینِ فطرت کہا جا سکتا ہے، کیونکہ جو کچھ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، اسلام نے اسی کو اختیار کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اور جدید دور کی بہت سی خراب اور غیر فطری چیزوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا ہے۔ یہ ٹکراؤ دراصل قدامت اور جدت کا نہیں بلکہ فطرت اور بگاڑ کا ہے۔

اسلام نے جن بنیادی امور پر سب سے زیادہ زور دیا، ان میں صفائی اور پاکیزگی سرِفہرست ہے۔ دنیا کے کسی اور مذہب یا تہذیب نے صفائی کو وہ مقام نہیں دیا جو اسلام نے دیا۔ یہاں تک کہ صفائی کو نصف ایمان قرار دیا گیا۔ اگر ایمان کو سو فیصد مان لیا جائے تو اس کا پچاس فیصد حصہ صفائی سے متعلق ہے۔ جسم، لباس، ماحول اور دل کی پاکیزگی یہ سب اسلام کے نزدیک نہایت اہم ہیں۔ وضو کی پابندی انسان کو نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی طور پر بھی پاکیزہ بناتی ہے اور یہی وہ پہلو ہے جو جدید مادہ پرست معاشروں میں ناپید ہوتا جا رہا ہے۔

"ہجرت" کا وہ لمحہ تاریخِ انسانیت کا نہایت نازک ترین لمحہ تھا۔ قریش کے سردار، عرب کے قبائل اور یہودی خاندان سب کی نظریں ایک ہی ذات پر جمی ہوئی تھیں کہ کسی طرح محمد ﷺ مکہ سے نکل نہ پائیں۔ ہر طرف خطرہ تھا، ہر قدم پر جان جانے کا اندیشہ تھا، مگر ان حالات میں بھی رسولِ اکرم ﷺ نے اصولوں اور معاملات کی پاکیزگی پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔

جب یارِ غار حضرت ابوبکر صدیقؓ ہجرت کے لیے دو اونٹنیاں لے آئے ایک اپنے لیے اور ایک رسول اللہ ﷺ کے لیے تو آپ ﷺ نے فوراً دریافت فرمایا: "یہ اونٹنی کتنے کی خریدی گئی ہے؟"

حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپ کے لیے ہے۔

مگر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تک اس کی قیمت ادا نہ کر دی جائے، میں اس پر سوار نہیں ہوں گا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اونٹنی کی پوری قیمت ادا فرمائی، پھر اس پر سوار ہوئے۔

سوچیے! جان خطرے میں ہے، دشمن تعاقب میں ہیں، مگر امانت، دیانت اور حق تلفی سے اجتناب ہر حال میں مقدم ہے۔ یہی اسلام ہے، یہی زمینی حقائق ہیں، یہی دینِ فطرت ہے اور یہی اس کی صداقت کی روشن ترین دلیل ہے۔

مغربی تہذیب، جو آج انسانی حقوق کی سب سے بڑی علمبردار بننے کی دعوے دار ہے، اپنی تاریخ پر نظر ڈالے تو اس کے چہرے سے بہت سے نقاب اتر جاتے ہیں۔ عورت، جسے آج آزادی کے نام پر ایک شے بنا دیا گیا ہے، اسے بیسویں صدی تک بنیادی انسانی حقوق بھی نہیں دیئے گئے تھے۔ امریکہ جیسے ملک میں عورت کو ووٹ کا حق بھی بیسویں صدی میں جا کر ملا۔ سوال یہ ہے کہ جو معاشرہ صدیوں تک عورت کو سیاسی اور سماجی وجود دینے سے قاصر رہا، وہ آج عورت کی آزادی کا درس کیسے دے سکتا ہے؟

اس کے برعکس اسلام نے عورت کو ابتدا ہی سے عزت، وقار اور تحفظ عطا کیا۔ قرآنِ پاک میں عورت کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ خواتین میں صرف حضرت مریمؑ کا نام صراحت کے ساتھ آیا، باقی خواتین کا ذکر نسبت سے کیا گیا کسی کو فرعون کی بیوی کہا گیا، کسی کو ایک علاقے کی ملکہ اور کسی کو نبی کی زوجہ۔ یہ اندازِ بیان خود اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام عورت کی عزت کو نمائش نہیں بناتا بلکہ پردۂ احترام میں رکھتا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ عورت کے احترام کی عملی تفسیر ہے۔ آپ ﷺ اپنی صاحبزادی کے احترام میں کھڑے ہو جاتے تھے۔ رات کے وقت اگر بیدار ہوتے تو اس قدر آہستگی اختیار کرتے کہ ازواجِ مطہرات کی نیند میں خلل نہ آئے۔ یہ بظاہر چھوٹے اعمال درحقیقت ایک گہرے شعور اور نفسیاتی حساسیت کی عکاسی کرتے ہیں، جو ایک مثالی اور فطرتی ازدواجی زندگی کی پہچان ہے۔

ہم اکثر اسلام کو احکام کی فہرست سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ وہ انسان کی فطرت کا آئینہ ہے۔ نماز اس دینِ فطرت کا سب سے مضبوط ستون ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہی اسلام کی روح ہے۔

ذرا "فجر" کی نماز پر غور کیجیے۔ انسان نیند سے بیدار ہوتا ہے، ذہن ابھی دنیا کے شور میں داخل نہیں ہوتا، ماحول میں خاموشی اور سکون ہوتا ہے۔ اگر اسی لمحے فجر کی نماز میں عشاء جتنی رکعتیں ہوتیں، تو صبح کا آغاز عبادت سے نہیں بلکہ مشقت کے احساس سے ہوتا۔ مگر یہ اسلام ہے، جو انسان پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ خالقِ کائنات انسان کی ساخت، اس کی حدود اور اس کی استعداد کو ہم سے بہتر جانتا ہے۔ اسی لیے فجر میں صرف دو رکعت سنت اور دو رکعت فرض مقرر کی گئیں، تاکہ بندہ آسانی سے اپنے رب کے حضور کھڑا ہو سکے۔ کیونکہ احادیث میں بھی آیا ہے جس کا مفہوم ہے کہ جو عمل خوش دلی سے کیا جائے اللہ اس کو پسند فرماتے ہیں چاہے وہ تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں اسلام دیگر نظاموں سے ممتاز نظر آتا ہے۔ یہاں عبادت سزا نہیں، سہولت ہے، حکم جبر نہیں، حکمت ہے۔ پانچ وقت کی نماز انسان کو نظم بھی دیتی ہے اور سکون بھی۔ وہ انسان جو یہ سمجھتا ہے کہ عبادت زندگی سے وقت چھین لیتی ہے، دراصل اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ نماز زندگی کو بامقصد بناتی ہے۔ یہی دینِ فطرت کی اصل پہچان ہے۔

آج کا مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام جدید دور سے ہم آہنگ نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ابدی صداقت ہے۔

Check Also

Molana Fazal Ur Rehman Aur Badalta Hua Aalmi Siasi Manzar Nama

By Muhammad Riaz