Insani Sehat Ka Raz, Muhammad Ke Qadmon Mein (4)
انسانی صحت کا راز، محمد ﷺ کے قدموں میں (4)

میرا یہ کالم بھی گزشتہ کالموں کے سلسلے کی کڑی ہے، جس میں سیرتِ نبوی ﷺ کے ھر ایک ایسے عمل پر روشنی ڈالی جائے گی جو آج جدید سائنسی تحقیق کی روشنی میں ایک مکمل طرزِ زندگی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ جن پر ھمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنی عملی زندگی میں مستقل عمل فرمایا۔
اور آج جس چیز کا ذکر یہاں کررہے ہیں وہ شہد (Honey) ہے۔ نبی کریم ﷺ شہد نہ صرف شوق سے تناول فرماتے تھے بلکہ اسے دوا کے طور پر بھی استعمال کرتے تھے۔ یہ محض غذائی عادت نہیں بلکہ ایک مکمل طبی حکمت تھی، جس کی تصدیق آج جدید میڈیکل سائنس کر رہی ہے۔
حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں: "کان رسولُ اللہ ﷺ یحبُّ الحلواء والعسل"، یعنی رسول اللہ ﷺ مٹھاس اور شہد کو پسند فرمایا کرتے تھے (صحیح بخاری)۔
یہ پسند ناپسند ذاتی ذوق تک محدود نہیں تھی بلکہ انسانی صحت کے عین مطابق تھی۔ حضور ﷺ نے شہد کو خاص طور پر پیٹ اور ہاضمے کی بیماریوں کے علاج کے لیے تجویز فرمایا۔
ایک مشہور حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے اپنے بھائی کے پیٹ درد کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے شہد پلاؤ"۔
یہ عمل دہرایا گیا حتیٰ کہ مریض مکمل صحت یاب ہوگیا (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔
یہاں ایک نہایت اہم نکتہ سامنے آتا ہے: حضور ﷺ نے بیماری کی نوعیت دیکھ کر فطری دوا تجویز کی، جو آج کے جدید Gastroenterology کے اصولوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔
قرآنِ مجید میں شہد کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "فِیهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ"، (اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے)، سورۃ النحل: 69
"یہ قرآن کی وہ منفرد آیت ہے جس میں کسی غذائی شے کو براہِ راست شفا قرار دیا گیا ہے"۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق شہد کھانسی اور گلے کی خراش میں بعض اوقات کیمیائی شربتوں سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے، خصوصاً بچوں میں رات کی کھانسی کم کرنے میں شہد کا کوئی نعم البدل نہیں۔
جدید نیورو سائنس یہاں تک کہتی ہے کہ شہد دماغ میں Melatonin کے اخراج میں مدد دیتا ہے، جو نیند، ذہنی سکون اور یادداشت کے لیے نہایت ضروری ہارمون ہے۔ یوں شہد صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی صحت کا بھی محافظ ہے۔
یہ تمام سائنسی حقائق اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ حضور ﷺ کی سنت محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ آپ ﷺ نے جو چیزیں اختیار کیں، وہ انسانی فطرت، جسمانی ساخت اور حیاتیاتی گھڑی کے عین مطابق تھیں۔
یہ بات عام طور پر بیان کی جاتی ہے کہ، قرآن پاک کے بعد جو سب سے زیادہ پڑھی جانے والی جو مطبوعہ تحریر ہے وہ ریڈرز ڈائجسٹ (Readers Digest) ہے جو 1922 سے نیویارک، امریکا سے شائع ہورہا ہے اور آجکل دنیا کے مختلف زبانوں میں جس میں ہندی، فرنچ، جرمن، چینی وغیرہ شامل ہے شائع ہوتا ہے اور ان کے مجموعی قارئین تقریباً 100 ملین لوگ (پرنٹ + ڈیجیٹل) ہیں۔
Readers Digest میگزین میں ایسے فیچرز شائع ہوتے ہیں جو عام قارئین کے لیے سائنسی تحقیق کے نتائج کو سادہ اور قابلِ عمل انداز میں پیش کرتے ہیں یعنی سائنس کو روزمرہ زندگی کے تجربات کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ ریڈرز ڈائجسٹ کے Health & Wellness سیکشن میں شہد کو "Liquid Gold" مائع سونا کہا گیا ہے، جیسے پیٹرول کو دنیا بھر میں Black Gold کہا جاتا ہے اس طرح شہد کو دنیا کے اس مشھور رسالے نے Liquid Gold کا نام دیا ہے۔
دنیا میں کچھ نعمتیں ایسی ہیں جو نہ صرف قیمتی ہیں بلکہ زندگی بچانے اور صحت بخش بھی ہیں۔ شہد بھی ایسی ہی نعمت ہے اور یہ قرآن، سنت اور جدید سائنس میں تینوں جگہ اہمیت رکھتا ہے۔ Multidisciplinary Digital Publishing Institut ایک مشھور زمانہ سائنسی اور تحقیقی جرنلز کی پبلشر کمپنی سوئٹزرلینڈ کی کمپنی ہے، اس نے اپنے ریویو میں لکھا ہے کہ شہد، عمر رسیدگی روکنے میں کردار ادا کرتا ہے جسے آج کے دور میں Anti-Aging، کہا جاتا ہے یعنی آپ کو بوڑھا نہیں ہونے دے گا۔
اس کے علاوہ ریڈرز ڈائجسٹ کے ہیلتھ سیکشن میں یہ بھی لکھا ہے کہ شہد sore throat اور کھانسی کے لیے ایک مشہور گھریلو نسخہ ہے اسے گرم پانی یا لیموں کے ساتھ لینا سکون بخش ہو سکتا ہے۔ چربی، کولیسٹرول اور بلڈ شوگر کنٹرول میں رکھتا ہے۔
جدید استعمال میں شہد کو چینی کا صحت بخش متبادل سمجھا جا رہا ہے۔
سوال شہد کی غذائیت کا نہیں، سوال انسان کے یقین اور شعور کا ہے۔
کیا ہم سنت کو تب مانیں گے جب لیبارٹری کی رپورٹ، ریسرچ پیپر اور WHO کی مہر لگ جائے؟
یا اس وحی پر اعتماد بحال کریں گے جس نے صدیوں پہلے انسان کو شفا کا راستہ دکھا دیا تھا؟
شہد صرف خوراک نہیں۔ یہ قرآن کی آیت ہے جو فطرت میں ڈھلی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ سنتِ رسول ﷺ ہے جو انسانی بایولوجی سے ہم آہنگ ہے اور یہ جدید سائنس ہے جو آج اسی حقیقت کو Anti-Inflammatory، Neuro-Protective اور Anti-Aging قرار دے رہی ہے۔
آج جب میڈیکل سائنس قدرتی علاج کی طرف واپس لوٹ رہی ہے، تو درحقیقت وہ اسی دروازے پر دستک دے رہی ہے جو محمد ﷺ نے چودہ سو سال پہلے کھول دیا تھا۔
شاید یہی انسانی صحت کا سب سے گہرا راز ہے:
جو راستہ وحی نے دکھایا۔
وہی راستہ آج عقل، تحقیق اور سائنس کو بھی ماننا پڑ رہا ہے۔

