Sunday, 25 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Huzur e Pak Bahaisiat Sipah Salar Aur Jadeed Askari Hikmat e Amli

Huzur e Pak Bahaisiat Sipah Salar Aur Jadeed Askari Hikmat e Amli

حضورِ پاک ﷺ بحیثیتِ سپہ سالار اور جدید عسکری حکمتِ عملی

اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب، ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو حیاتِ انسانی کے ہر گوشے میں کامل نمونہ بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ عبادت و اخلاق ہی نہیں بلکہ قیادت، سیاست اور عسکری حکمتِ عملی میں بھی ایسی جامع مثال ہیں جس کی نظیر انسانی تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ بحیثیتِ سپہ سالار حضورِ اکرم ﷺ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کی بقا محض نیک نیتی سے نہیں بلکہ بصیرت، تیاری اور بروقت فیصلوں سے وابستہ ہوتی ہے۔ ان ایک عظیم اخلاقی اور روحانی رہنما ہونے کے باوجود، حضور ﷺ نے امت کے دفاع کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔

سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ ﷺ کی عسکری حکمتِ عملی جذبات پر نہیں بلکہ حقیقت پسندی پر مبنی تھی۔ مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست کے قیام کے بعد آپ ﷺ نے داخلی و خارجی خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے طلایہ دستے بھیجے جاتے، راستوں کی نگرانی کی جاتی اور بروقت اطلاعات حاصل کی جاتیں۔ یہ دراصل ابتدائی شکل کی وہی انٹیلی جنس (جاسوسی) تھی جسے آج جدید ریاستیں اپنی بقا کا بنیادی ستون سمجھتی ہیں۔ آپ ﷺ کے نظام جاسوسی کا ایک پہلو معاشی جاسوس بھی تھا، مدینہ کے یھودی تاجر تھے اور ان کا تمام کاروبار عبرانی زبان میں ہوتا تھا۔ وہ جب چاہے وہ اپنے کھاتوں میں اپنی مرضی سے تحریف کرلیتے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی تھی۔ جب دنیا کے سب سے بڑے سپہ سالار کو آگاہی ہوئی تو آپ صلعم نے زید بن حارث کو عبرانی زبان سیکھنے کی ترغیب دی اور جلد ہی زبان پر عبور حاصل کرلیا۔ اس طرح یھودیوں کے معاشی راز حاصل کرنے میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی۔ حضور نبی کریم ﷺ جاسوسوں کو مراعات بھی دیتے تھے یہ بلکل ہی ایسے ہے جس طرح آجکل ریاستیں جاسوسوں کو زیادہ مراعات اور زیادہ مشاہرے دیتیں ہیں۔

غزوۂ بدر میں محدود وسائل کے باوجود دشمن کی صف بندی، پانی کے کنٹرول اور میدان کے انتخاب نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ خندق کے موقع پر دشمن کی عددی برتری کے مقابل ایک نئی دفاعی حکمتِ عملی اختیار کی گئی جو اس خطے میں غیر معمولی تھی۔ یہ سب اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حضور ﷺ حالات کے مطابق حکمتِ عملی بدلنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔

حضور ﷺ کی قیادت کا ایک اہم پہلو مشاورت تھا۔ آپ ﷺ اپنے صحابہؓ سے رائے لیتے، جس سے ان میں اعتماد پیدا ہوتا تھا مختلف تجاویز سنتے اور پھر اجتماعی دانش کی بنیاد پر فیصلہ فرماتے۔ جدید عسکری نظریات میں اسے کمانڈ اینڈ کنٹرول اور اجتماعی فیصلہ سازی کہا جاتا ہے، جو کسی بھی فوج کی مؤثریت بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

جدید دفاعی حکمتِ عملی کا تقاضا صرف اسلحہ جمع کرنا نہیں بلکہ معلومات کی برتری حاصل کرنا بھی ہے۔ آج سیٹلائٹ، ڈرون، سائبر انٹیلی جنس اور مصنوعی ذہانت اسی مقصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دشمن کی نیت، حرکت اور صلاحیت سے باخبر رہنا جنگ جیتنے سے پہلے کی کامیابی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ نے دشمن کے قافلوں، اتحادوں اور منصوبوں پر گہری نظر رکھی، مگر اس کے باوجود بدعہدی اور فریب سے اجتناب فرمایا۔

فتح مکہ اس بات کی روشن مثال ہے کہ عسکری طاقت کا اصل مقصد تباہی نہیں بلکہ امن کا قیام ہونا چاہیے۔ مکمل غلبے کے باوجود عام معافی کا اعلان، دلوں کو فتح کرنے کی وہ حکمتِ عملی تھی جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ جدید اسٹریٹجک اسٹڈیز میں اسے سافٹ پاور کہا جاتا ہے، یعنی طاقت کے ساتھ اخلاق اور کردار کی برتری۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے دشمن بھی سیرتِ محمدی ﷺ کی عسکری حقیقت پسندی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ حضور ﷺ کی زندگی ہمیں یہ توازن سکھاتی ہے کہ سادگی اور زہد کے ساتھ مضبوط دفاع، اخلاق کے ساتھ تیاری اور ایمان کے ساتھ حکمتِ عملی کس طرح یکجا کی جا سکتی ہے۔

آج مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز صرف عسکری نہیں بلکہ فکری اور معلوماتی بھی ہیں۔ ایسے میں سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو اخلاقی بنیادوں پر کھڑی ہو، مگر دفاع اور انٹیلی جنس میں کمزور نہ ہو۔ بلاشبہ حضورِ پاک ﷺ بحیثیتِ سپہ سالار قیامت تک کے لیے ایک مکمل، متوازن اور جدید معنوں میں بھی قابلِ عمل دفاعی ماڈل پیش کرتے ہیں۔

"دس برس کی مختصر مدت میں آپ ﷺ نے بارہ لاکھ مربع میل کے وسیع وعریض علاقے کو مسخر کیا اور ان لڑائیوں (غزوات و سریا)کی کامیابی کے پیچھے اسٹریٹجک پالیسی اور کامیاب نظام جاسوسی کار فرما تھا"۔

یہاں پر میں ایک "اھم واقعے" کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو کہ پاکستان کے ایک کہنہ مشق صحافی مرحوم ارشاد احمد حقانی نے اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے اس وقت کی اسرائیلی وزیر اعظم گولڈا مئیر سے انٹرویو لیا تھا اور کچھ آف دی ریکارڈ باتیں کی تھیں جوکہ اس نمائندے نے وزیر اعظم گولڈا مئیر کی وفات کے 20 سال بعد بتائی تھی کہ 1973 میں جب عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آثار پیدا ہو چکے تھے۔ انہی دنوں ایک امریکی سینیٹر، جو اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا، اسرائیل آیا اور اسے وزیرِاعظم گولڈہ مائیر کے پاس لے جایا گیا۔ گولڈہ مائیر نے نہایت سادگی سے اس کا استقبال کیا، مختصر گفت و شنید کے بعد اسلحے کا ایک بڑا سودا طے پا گیا، حالانکہ اس وقت اسرائیل شدید معاشی بحران کا شکار تھا۔

جب یہ معاملہ اسرائیلی کابینہ کے سامنے آیا تو ارکان نے اعتراض کیا کہ اس خریداری کے بعد قوم کو سخت معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گولڈہ مائیر نے جواب دیا کہ اگر جنگ جیت لی گئی تو تاریخ صرف فتح کو یاد رکھے گی، یہ نہیں کہ قوم نے کتنی بھوک اور تنگی برداشت کی۔ بالآخر کابینہ نے اس فیصلے کی منظوری دے دی۔

کچھ عرصے بعد ایک انٹرویو میں گولڈہ مائیر نے بتایا کہ اس سوچ کی بنیاد انہیں حضرت محمد ﷺ کی سیرت کے مطالعے سے ملی۔ ان کے مطابق طالب علمی کے زمانے میں وہ مذاہب کا تقابلی مطالعہ کیا کرتی تھیں اور اسی دوران انہوں نے سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کیا۔ اس میں انہوں نے یہ "واقعہ پڑھا کہ رسولِ اکرم ﷺ کے وصال کے وقت گھر میں اتنی مالی گنجائش نہ تھی کہ چراغ جلانے کے لیے تیل خریدا جا سکے، چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کو آپ ﷺ کی زرہ رہن رکھنا پڑی، لیکن اسی وقت حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں۔

گولڈہ مائیر کے بقول اس واقعے نے انہیں گہرے طور پر متاثر کیا اور یہ احساس دلایا کہ ابتدائی اسلامی ریاست شدید معاشی تنگی کے باوجود دفاع اور عسکری تیاری سے غافل نہیں تھی۔ انہوں نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ قومیں وقتی بھوک اور مشکلات تو برداشت کر سکتی ہیں، لیکن اگر وہ اپنے دفاع کو کمزور کر لیں تو تاریخ میں زندہ نہیں رہ سکتیں۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ معاشی بحران کے باوجود دفاعی قوت کو مضبوط بنایا جائے، کیونکہ تاریخ صرف فاتح قوموں کو یاد رکھتی ہے۔

حضور اکرم ﷺ کی عسکری قیادت کسی جاہ و جلال یا فتوحات کی خواہش پر مبنی نہ تھی، بلکہ اس کی بنیاد حق کے دفاع، ظلم کے خاتمے اور امن کے قیام پر تھی۔ آپ ﷺ نے جتنی بھی جنگیں لڑیں، وہ سب ناگزیر حالات میں لڑی گئیں اور ان میں اعلیٰ درجے کی حکمتِ عملی، نظم و ضبط اور اخلاقی اصولوں کی مکمل پاسداری نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی قیادت آج بھی دنیا کی بڑی عسکری اکیڈمیوں میں زیرِ مطالعہ ہے۔

Check Also

Punjab Mein Gas Bohran: Sardi, Bebasi Aur Riyasti Khamoshi

By Noorul Ain Muhammad