Gumbad e Khazra Ki Aik Andekha Pehredar
گنبذ خضرا ﷺ کا ایک ان دیکھا پہریدار

تاریخ کے دامن میں کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں جو بظاہر عام دکھائی دیتی ہیں، مگر درحقیقت وہ اللہ کے منتخب کردہ بندے ہوتے ہیں۔ ربِّ کائنات انہیں کسی خاص مقصد اور مخصوص خدمت کے لیے چن لیتا ہے، لیکن دنیا کی آنکھ ان کے اصل مقام کو نہیں پہچان پاتی۔ زمانہ انہیں کسی اور حوالہ، کسی اور پہچان سے جانتا ہے، حالانکہ ان کی اصل نسبت وہ ہوتی ہے جو صرف اللہ جانتا ہے اور وہ خدمت جو خاموشی سے انجام پاتی ہے۔
صاحبِ نسبت بزرگ 10 محرم کو بجنور، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ نام والد نے فضل اللہ رکھا، مگر جیسا کہ پروفیسر محمد انوار الحسن شیرکوٹی اپنی کتاب حیات عثمانی کے صفحہ نمبر 30 میں رقم طراز ہیں کہ، عشرۂ محرم میں ولادت کی وجہ سے امام حسینؓ کے یومِ شہادت سے نسبت قائم ہوئی اور یوں وہ شبیر کے نام سے پہچانے جانے لگے۔
جب پاکستان آزادی کے ساتھ ایک خود مختار اسلامی ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا تو اس موقع پر یہ طے کیا گیا کہ پاکستان کا قومی پرچم کسی ایسی شخصیت کے ہاتھوں لہرایا جائے جو دینی وقار رکھتی ہو۔ تحریکِ پاکستان کی نظریاتی ترجمان ہو اور جس پر قوم کو اعتماد ہو۔
14 اگست 1947 کو (شبِ آزادی، 13 اور 14 اگست کی درمیانی رات) مقام کراچی دستور ساز اسمبلی (Constituent Assembly) کے احاطے میں (جو اُس وقت پاکستان کا دارالحکومت تھا)۔
یہ محض اتفاق نہیں تھا بلکہ قدرت کا ایک بامعنی انتخاب تھا کہ جس شخصیت کو سبز ہلالی پرچم سے یہ نسبت عطا ہوئی، اسی کے مقدر میں بعد ازاں سبز گنبد کی خدمت بھی لکھی جا چکی تھی۔ دنیا نے انہیں ایک قومی اعزاز کے حوالے سے جانا، مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی خدمت کے لیے چن لیا جو نگاہوں سے اوجھل مگر مقام میں بے مثال تھی۔ یوں ایک ہی ہستی کے حصے میں سبز پرچم کی سربلندی بھی آئی اور سبز گنبد کے سائے میں ادب و خدمت کی سعادت بھی اور یہی وہ راز ہے جو تاریخ کے ہر صفحے پر نمایاں نہیں ہوتا، مگر اہلِ نظر اسے پہچان لیتے ہیں۔
اب بات کو زیادہ طول دینا مناسب نہیں۔ صاحبانِ علم اس اشارے کو پہلے ہی پا چکے ہوں گے کہ گفتگو کس شخصیت کے گرد گھوم رہی ہے۔ جی ہاں، یہاں ذکر ہو رہا ہے عظیم عالمِ دین، علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا۔
آپ کا تعلق دارالعلوم دیوبند کے اس علمی سلسلے سے تھا جس نے برصغیر میں اسلامی فکر کو نئی زندگی بخشی۔ علامہ شبیر احمد عثمانیؒ، شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔ علمِ حدیث اور تفسیر میں آپ کو غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ آپ کی تفسیر "تفسیرِ عثمانی" آج بھی برصغیر میں مستند اور مقبول تفاسیر میں شمار ہوتی ہے، جو قرآن فہمی کے ساتھ ساتھ عقائدِ اہلِ سنت کی مضبوط ترجمانی کرتی ہے۔
علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی ایک منفرد خوبی یہ تھی کہ آپ سیاست اور دین کے درمیان توازن قائم رکھتے تھے۔ آپ نہ تو محض خانقاہی عالم تھے اور نہ ہی صرف سیاسی رہنما، بلکہ ایک ایسے مفکر تھے جو بدلتے حالات میں شریعت کی روشنی میں راہ دکھانا جانتے تھے۔ آپ نے ہمیشہ شدت، تکفیر اور انتشار سے اجتناب کیا اور اتحادِ امت پر زور دیا۔
آپ کی ذاتی زندگی بھی سادگی، تقویٰ اور اخلاص کی عملی تصویر تھی۔ آپ صاحب اولاد نہیں بن پائے لیکن کبھی اس بات کا شکوہ نہیں کیا۔ دنیاوی جاہ و منصب کے باوجود آپ نے کبھی علم کا سودا نہیں کیا۔ حق بات کہنے میں آپ کو کسی ملامت کی پروا نہیں تھی، چاہے مخاطب کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی بات میں وزن اور اثر دونوں تھے۔
تو آئیے، اصل عنوان کی طرف بڑھتے ہیں، جہاں کالم کا مقصد اور روح دونوں واضح ہو جائیں۔
1925ء کا سال عالمِ اسلام کی تاریخ میں ایک نہایت حساس اور تکلیف دہ دور کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی سال حجازِ مقدس پر آلِ سعود کی حکومت قائم ہوئی اور اقتدار سنبھالتے ہی ایک مکتبہ فکرکے تحت تاریخی اسلامی مزارات کی مسماری کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ جنت البقیع، جنت المعلیٰ اور متعدد صحابہؓ، اہلِ بیتؓ اور اکابرینِ امت کے مزارات زمین بوس کر دیے گئے۔ یہ اقدامات صرف تعمیرات کے خلاف نہیں تھے بلکہ امتِ مسلمہ کی صدیوں پر محیط دینی روایت، تاریخی شعور اور روحانی وابستگی پر کاری ضرب تھے۔
مزارات کی مسماری کے بعد 1925ء کے اواخر اور 1926ء کے اوائل میں عالمِ اسلام میں یہ تشویشناک خبریں گردش کرنے لگیں کہ معاذ اللہ، روضۂ رسول ﷺ اور گنبدِ خضرا کو بھی مسمار کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
یہ خبر سنتے ہی برصغیر، مصر، شام، عراق، ترکی اور دیگر مسلم ممالک میں شدید اضطراب پیدا ہوا۔ علما، مشائخ اور دانشوروں نے اسے محض فقہی اختلاف نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے ایمان، عشقِ رسول ﷺ اور وحدت کا مسئلہ قرار دیا۔ عالمی علما کی کوششیں اس وقت سعودی حکومت کا مؤقف یہ تھا کہ، مزارات شرک کا ذریعہ بنتے ہیں، عمارتوں کی تعظیم غیر شرعی ہے۔
اگرچہ کئی ممالک کے علما نے احتجاج کیا، خطوط لکھے اور وفود بھیجے، لیکن ابتدا میں سعودی حکام اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔
اسی نازک مرحلے پر برصغیر کے جید عالم، مفسرِ قرآن اور محدث علامہ شبیر احمد عثمانیؒ منظرِ عام پر آئے۔ آپ نے اس مسئلے کو جذباتی نعرہ بازی کے بجائے علمی، فقہی اور تاریخی بنیادوں پر اٹھایا۔
علامہ عثمانیؒ نے درج ذیل نکات پر مدلل موقف پیش کیا: روضۂ رسول ﷺ کی حیثیت، یہ کسی عام قبر کی طرح نہیں بلکہ صاحبِ قبر ﷺ کی وجہ سے احترام کا مرکز ہے، تعظیمِ مقام اور عبادت میں واضح فرق ہے۔
امت کے جلیل القدر فقہا (احناف، شوافع، مالکیہ) کے نزدیک قبورِ صالحین کی تعظیم شرک نہیں۔ صحابہؓ، تابعینؒ اور ائمہؒ کے ادوار میں روضۂ رسول ﷺ پر کبھی اعتراض نہیں کیا گیا۔ گنبدِ خضرا صدیوں سے قائم ہے۔
عباسی، عثمانی اور دیگر اسلامی خلافتوں نے ہمیشہ اس کی حفاظت کی روضۂ رسول ﷺ کو نقصان پہنچانا پوری امت کے دینی جذبات کو مجروح کرے گا۔ اس کے نتائج صرف فقہی نہیں بلکہ سیاسی اور اجتماعی بھی ہوں گے۔
علمی وقار سے بھرپور تھے، حق سختی کے بجائے حکمت پر مبنی تھے۔ الزام تراشی کے بجائے امت کے اتحاد کا پیغام رکھتے تھے۔ بالآخر 1926ء میں یہ فیصلہ ہوا کہ مزارات کی عمومی مسماری کا سلسلہ روکا نہیں جائے گا، لیکن روضۂ رسول ﷺ اور گنبدِ خضرا کو ہاتھ نہیں لگایا جائے گا۔
یوں گنبدِ خضرا محفوظ رہا اور تاریخ نے یہ ثابت کر دیا کہ علم، حکمت اور اخلاص طاقت سے زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔
حضور اکرم ﷺ نے ظاہری طور پر اس دنیا میں 63 برس گزارے، جبکہ یہ غلامِ رسول اس حد تک ادب شناس تھا کہ اس نے دو برس کم عمر پائی اور 61 برس کی عمر میں اس فانی دنیا سے کوچ کرگئے یہ محض اتفاق نہیں، عاشق کے لیے یہی تو سب سے حسین بہانہ ہوتا ہے اور اللہ سبحانہ ایسے مواقع سچے عاشقوں کو دیتا ہے۔

