Sunday, 01 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Galileo Aur Musalman Science Dano Ki Kahani

Galileo Aur Musalman Science Dano Ki Kahani

گیلیلیو اور مسلمان سائنس دانوں کی کہانی

ہمارے ملک کے بہت سے نوجوان مغرب کو آزادیٔ اظہار کا سب سے بڑا علمبردار سمجھتے ہیں۔ صبح و شام مغربی تہذیب کے گن گائے جاتے ہیں، اس کی ہر بات کو ترقی، روشن خیالی اور انسانی حقوق کا نام دیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر جامعات کے مباحث تک، مغرب کو ایک مثالی دنیا بنا کر پیش کیا جاتا ہے ایسی دنیا جہاں سوچنے، بولنے اور سوال کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔

مگر یہ تصویر مکمل نہیں، بلکہ ایک خوبصورت پردہ ہے، جس کے پیچھے ایک تلخ اور خون آلود تاریخ چھپی ہوئی ہے۔ اگر ہمارے نوجوان اس پردے کے پیچھے جھانک لیں، اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ اسی مغرب میں سچ بولنے والوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا رہا ہے، تو شاید یہ نعرے ان کے ہونٹوں پر جم جائیں اور وہ خود اپنے تصورات سے کانپ اٹھیں۔

فروری کے مہینے کی نسبت سے میں تاریخ کا ایک ایسا دردناک باب پیش کر رہا ہوں جو مغرب کے ان دعوؤں کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ کہانی کسی افسانے کی نہیں، یہ ایک حقیقی انسان کی ہے ایک ایسے سائنس دان کی جس نے آسمان کو سمجھنے کی کوشش کی، مگر زمین پر اسے جینے کا حق بھی مشکل سے ملا۔ یہ کہانی ہے اُس سچ کی جسے دبانے کی کوشش کی گئی، مگر جو صدیوں بعد بھی زندہ ہے۔ تو آئیے چلتے ہیں اور تاریخ کے دریچوں سے جھانکتے ہیں۔

روم کی مذہبی عدالت کا ہال بھرا ہوا ہے، مگر کسی کی سانس سنائی نہیں دیتی۔ پتھر کی دیواروں سے ٹھنڈک نہیں، خوف ٹپک رہا ہے۔ سیاہ جبّوں میں ملبوس جج (چرچ کے پادری) اونچی نشستوں پر بیٹھے ہیں چہرے بے تاثر، آنکھیں سخت، جیسے فیصلہ پہلے ہی لکھا جا چکا ہو۔

درمیان میں ایک 70 سالہ بوڑھا آدمی کھڑا ہے۔

کندھے جھکے ہوئے، جسم لرزتا ہوا، آنکھوں کے گرد بیماری اور بے خوابی کے سائے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے چاند کے دھبے گنے تھے، مشتری کے چاند دیکھے تھے، مگر آج وہ کسی کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتا۔

ایک سرد اور بے رحم آواز گونجتی ہے۔

"کیا تم اعتراف کرتے ہو؟"

کاغذ آگے بڑھایا جاتا ہے۔

یہ صرف کاغذ نہیں، سچ کی قبر ہے۔ اس پر لکھا ہے کہ زمین ساکن ہے، سورج نہیں اور یہ کہ میں گیلیلیو غلط تھا۔ اس سے کہا جاتا ہے:

"پڑھو۔ بلند آواز میں"۔

گیلیلیو کے ہاتھ کانپتے ہیں۔ انگلیاں کاغذ کے کنارے کو مضبوطی سے پکڑتی ہیں، جیسے وہ ڈوبتے ہوئے کسی لکڑی کے ٹکڑے کو تھام رہا ہو۔ اس کی آنکھوں کے سامنے آسمان گھوم جاتا ہے دوربین، ستارے، حساب، مشاہدے۔ سب کچھ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے: یہ جھوٹ ہے۔

آخرکار اس نے جھکے ہوئے سر کے ساتھ وہ الفاظ پڑھ دیے جو اس کا دل نہیں مانتا تھا۔ "اس نے کہا کہ وہ اپنے نظریات سے توبہ کرتا ہے، کہ وہ چرچ کے فیصلے کو تسلیم کرتا ہے"۔ عدالت مطمئن ہوگئی۔ سچ خاموش کرا دیا گیا۔

یہ توبہ ایمان کی نہیں تھی، یہ جان کی مجبوری تھی۔ یہ ضمیر کی شکست نہیں، طاقت کے جبر کا ثبوت تھی۔ گیلیلیو نے زبان سے انکار کیا، مگر کائنات نے اس کی گواہی دینا بند نہ کی۔

کہا جاتا ہے اور یہی تاریخ کا انتقام ہے کہ "جب وہ کٹہرے سے ہٹا تو اس نے آہستہ سے کہا "اور پھر بھی زمین گھومتی ہے"۔

چرچ جیت گیا تھا، مگر صرف اس دن کے لیے۔ باقی زندگی کے آخری 9 سال اس کو گھر پر نظر بند کیا گیا اور کسی سے بھی ملنے نہیں دیا جاتا تھا۔

سچ ہارا تھا، مگر صرف کاغذ پر۔

آسمان آج بھی وہی کہانی سنا رہا ہے جو گیلیلیو نے دیکھی تھی۔

تاریخ گواہ ہے کہ طاقت جب خود کو مقدس سمجھنے لگے تو سب سے پہلے سوال کو کچلا جاتا ہے اور سوال کے بعد سچ کو۔ سترہویں صدی کا یورپ بھی اسی فکری آمریت کا شکار تھا، جہاں مذہب کے نام پر ایک ادارہ چرچ خدا کی تشریح کا واحد ٹھیکیدار بن چکا تھا۔ اسی دور میں ایک شخص پیدا ہوا جس نے آسمان کو دیکھا، ستاروں کو پرکھا اور وہ بات کہہ دی جو کہی نہیں جا سکتی تھی۔ یہ وہی شخص ہے جسے دنیا آج گیلیلیو گیلیلی کے نام سے جانتی ہے جس نے پہلی مرتبہ دوربین کو سائنسی مقاصد اور فلکیات کے لئے استعمال کیا۔

گیلیلیو نہ ملحد تھا، نہ باغی، نہ مذہب دشمن۔ وہ تو خدا کی بنائی کائنات کو سمجھنے والا ایک متجسس انسان تھا۔ اس کا "جرم" یہ تھا کہ اس نے آنکھوں سے دیکھا اور زبان سے کہہ دیا کہ زمین ساکن نہیں، بلکہ سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر مسئلہ یہ نہیں تھا کہ زمین گھومتی ہے یا نہیں، اصل مسئلہ یہ تھا کہ چرچ کی اتھارٹی ہل گئی تھی۔

جب یورپ میں گیلیلیو جیسے سائنس دان کو سچ بولنے کی سزا دی جا رہی تھی، اسی دور اور اس سے پہلے کی اسلامی دنیا میں علم کو نہ جرم سمجھا جاتا تھا، نہ بغاوت۔ وہاں سوال کرنا گناہ نہیں بلکہ عبادت تصور ہوتا تھا۔ مسلمان معاشروں میں سائنس دانوں، مفکروں اور محققین کو وہ مقام دیا گیا جو کسی بھی زندہ قوم کی پہچان ہوتا ہے۔

اسلام کی پہلی وحی ہی "اقرأ" یعنی پڑھنے کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ یہ محض الفاظ کا نہیں، پورے فکری نظام کا اعلان تھا۔ قرآن بار بار کائنات میں غور و فکر، مشاہدے اور عقل کے استعمال کی دعوت دیتا ہے۔ اسی فکری بنیاد نے مسلمان سائنس دانوں کو حوصلہ دیا کہ وہ آسمان، زمین، انسان اور کائنات پر تحقیق کریں بغیر خوف کے، بغیر فتووں کے۔

عباسی دور میں قائم ہونے والا بیت الحکمت اس بات کی روشن مثال ہے۔ یہاں سائنس دانوں کو قید نہیں کیا جاتا تھا بلکہ وظائف دیے جاتے تھے، کتابیں لکھنے پر انعام ملتا تھا اور تحقیق کو ریاستی سرپرستی حاصل تھی۔ یونانی، فارسی اور ہندی علوم کا ترجمہ ہوا، مگر اندھی تقلید نہیں کی گئی بلکہ تنقید، اصلاح اور جدت پیدا کی گئی۔

البیرونی نے زمین کے قطر کا اندازہ لگایا، فلکیات، جغرافیہ اور تاریخ پر کام کیا اور مختلف تہذیبوں کا غیرجانبدار مطالعہ کیا۔ اسے بھی نہ کافر کہا گیا، نہ خاموش کرایا گیا۔

یہ سب اس لیے ممکن ہوا کیونکہ اسلامی تہذیب میں علم اور مذہب کے درمیان ٹکراؤ نہیں تھا۔ علما اور سائنس دان ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ معاون تھے۔ فقہ کے ساتھ ریاضی، حدیث کے ساتھ فلکیات اور عبادت کے ساتھ تحقیق چلتی تھی۔ مسجد کے ساتھ مدرسہ اور رصدگاہ بھی ہوتی تھی۔ حکمران جانتے تھے کہ سوال دبایا جائے تو معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔

اس کے مقابلے میں یورپ میں چرچ نے مذہب کو طاقت کا ہتھیار بنا لیا۔ بائبل کی مخصوص تشریحات کو حتمی سچ قرار دے دیا گیا اور جو اس سے اختلاف کرے وہ ایمان سے خارج سمجھا گیا۔ گیلیلیو کا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ وہ غلط تھا، مسئلہ یہ تھا کہ وہ چرچ کی اجارہ داری کو چیلنج کر رہا تھا۔ چنانچہ اسے توبہ پر مجبور کیا گیا، نظربند کیا گیا اور علم کو جرم بنا دیا گیا۔

یہ فرق ہمیں ایک اہم سبق دیتا ہے: مسئلہ مذہب نہیں، مسئلہ مذہب کے نام پر خوف پیدا کرنا ہے۔ اسلام نے خوف نہیں، تجسس پیدا کیا۔ سوال کو کفر نہیں، فکر سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان سائنس دانوں کو اپنے دور میں عزت ملی، ان کے نام زندہ رہے اور ان کے کام نے دنیا کی بنیادیں ہلا دیں۔

قومیں نعروں سے نہیں بنتیں، فتووں سے نہیں اٹھتیں
قومیں علم، تحقیق اور آزادیِ فکر سے زندہ رہتی ہیں۔

اور یہی وہ سبق ہے جو مسلمان سائنس دانوں کی تاریخ ہمیں آج بھی پڑھا رہی ہے۔

لیکن آج کی نوجوان نسل کے لیے حقیقت کو سمجھنا آسان نہیں۔ سوشل میڈیا اور دیگر جدید ذرائع نے ان کے ذہنوں میں ایک مصنوعی تصویر بٹھا دی ہے، جو اکثر حقیقت سے بالکل مختلف ہے۔ آج کا دور مصنوعی ذہانت (AI) کا دور ہے اور یہ ٹیکنالوجی، چاہے علم اور سہولت کے لیے استعمال ہو، مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ نوجوانوں کے ذہنوں پر ایک خاموش مگر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔

لہٰذا، اگرچہ آج کے نوجوان سچائی کو قبول کرنے میں کانپ سکتے ہیں اور AI نے ان کے دماغ پر اپنی چھاپ چھوڑ دی ہے، پھر بھی وہی حکم ربی لا الہ الا اللہ ہمیں بتاتا ہے کہ علم، تحقیق اور ایمان کے ذریعے ہم ہر جھوٹ، ہر دھوکے، ہر مصنوعی پردے کو پار کر سکتے ہیں۔

Check Also

Zaroorton Ka Soda

By Khalid Mehmood Rasool