Tuesday, 03 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. America, Balochistan Aur Karachi

America, Balochistan Aur Karachi

امریکہ، بلوچستان اور کراچی

دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ میں، جہاں اسکول بچوں کے لیے محفوظ ترین جگہ سمجھے جاتے ہیں، وہاں بھی تشدد کی ایک گہری بیماری پھوٹ پڑتی ہے۔ 14 دسمبر 2012 کو Sandy Hook Elementary School، نیو ٹاؤن، کنیکٹیکٹ میں ایک 20 سالہ حملہ آور نے اپنی والدہ کو قتل کرنے کے بعد اسکول میں داخل ہو کر 20 بچوں اور 6 بالغ اساتذہ کو قتل کر دیا۔ چند منٹوں میں 154 گولیاں چلیں اور یہ واقعہ امریکہ کی تاریخ کی سب سے بھیانک اسکول گن شوٹنگز میں شامل ہوگیا۔

پچھلے دس سالوں میں امریکہ کے اسکولوں میں تقریباً 560 سے زائد گن شوٹنگ واقعات ہو چکے ہیں، جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ پھر یہ سلسلہ 2021 سے 2024 تک بڑھ جاتا ہے اور 2025 میں اگرچہ تعداد کم ہوئی، لیکن خوف اور انسانی صدمے کا اثر اتنا شدید رہا کہ ہر واقعہ دلوں میں ایک مستقل زخم چھوڑ گیا۔

یہ تشدد اکثر فرد کے ذہنی بحران، تنہائی، گن کلچر اور سیکیورٹی کی ناکامی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ہر واقعہ کے بعد میڈیا شور مچاتا، عدالتیں کارروائی کرتی ہیں اور سیاستدان بحث کرتے ہیں، مگر اسکولوں کو مکمل محفوظ بنانے میں ہمیشہ ناکامی رہتی ہے۔ قتل عام کی رپورٹیں انسانی جذبات کو جھنجھوڑ دیتی ہیں، لیکن اصل مسئلہ اکثر نظامی اور معاشرتی محرومی میں چھپا ہوتا ہے۔

امریکہ کے کسی اسکول میں ایک فائرنگ ہو جائے تو ٹی وی اسکرینیں سرخ ہو جاتی ہیں۔ اینکر کی آواز لرزنے لگتی ہے۔ "انسانیت خطرے میں ہے" کے بینر چلنے لگتے ہیں۔ لیکن جب مستونگ میں جنازے اٹھتے ہیں۔ جب عبادت گاہوں میں لاشیں گرتی ہیں۔ جب ماں اپنے بچے کی شناخت کے لیے لاش کے چہرے سے مٹی ہٹاتی ہے۔ تو وہی میڈیا خاموش ہو جاتا ہے۔ یا محض ایک Ticker News بن کر گزر جاتا ہے۔ یہ ہے میڈیا کا دوہرا معیار۔

اسی وقت، بلوچستان کے شہر مستونگ، کوئٹہ، تربت اور دیگر علاقوں میں خوف کی وہی تصویر دہرائی جا رہی ہے۔ یہاں تشدد کے واقعات زیادہ تر سیاسی و معاشی محرومی، شناخت کے مسائل، ریاست اور بعض گروہوں کے درمیان تنازع اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا میں یہ رپورٹس اکثر محدود اور نامکمل رہتی ہیں، کیونکہ ان کی ترجیحات میں مائنس بلوچستان/پنجاب/ kpk اور کراچی کو چھوڑ کر پورا سندھ ہے ان کی ترجیحات صرف میٹروپولیٹن شھر ہے اور اسی لئے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ بھی تقریباً صفر ہوتی ہے۔

امریکہ میں اسکول گن شوٹنگز عام طور پر فرد کے جنون یا ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہوتی ہیں، جبکہ بلوچستان میں تشدد زیادہ منظم اور نظریاتی ہوتا ہے اور اکثر اس کے پیچھے دشمن پڑوسی ملک کا ہاتھ ہوتا ہے۔ مگر اصل سبق یہ ہے کہ جہاں نظام ناکام ہو، انسانی جانیں محفوظ نہیں رہتیں، چاہے وہ امریکہ ہو یا بلوچستان۔

اب سوال اٹھتا ہے کہ پاکستان کے میڈیا کا کردار کس حد تک انسانی جانوں اور انصاف کے تحفظ میں مددگار ہے؟ مثال کے طور پر، اگر کراچی میں کوئی واقعہ ہوتا ہے، جیسے گل پلازہ میں آگ لگنا، جس میں اب تک دہشت گردی کا عنصر نہیں ملا، تو یہ واقعہ فوری طور پر میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ زیادہ تر میڈیا ہاؤسز کے ہیڈ آفس کراچی میں ہیں اور وہاں کام کرنے والوں کا زیادہ تعلق بھی کراچی سے ہے، اس لیے وہ "کنویں کے مینڈک" کی مثال کو سچ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہوتے ہیں اور دن رات جو واقع کراچی میں ہوا ان کی آ ڑ میں اس کے ذریعے قومیت اور سیاسی ایجنڈے کو پروان چڑھانے کا موقع مل جاتا ہے اور صوبائی حکومت کو ناکام کہہ کر بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ کراچی کو وفاق کے زیر انتظام کیا جائے۔ چاہے وہ معصوم بچے کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کا معاملہ ہو تو بھی لیکن اگر یہی واقعہ کراچی کے بجائے سکھر، میرپورخاص، پشاور یا سبی بلوچستان میں ہوتا، تو ہمارا نام نہاد آزاد اور غیر جانبدار میڈیا ایک دو دن کا شور مچاتا اور پھر خاموش ہو جاتا۔

اسی طرح، مستونگ، ہرنائی یا کوئٹہ جیسے شہر جہاں ملک دشمن، بھارت جیسے ابلیس ملک کا ہاتھ ہے، وہاں میڈیا کی توجہ بہت کم رہتی ہے۔ یہی دوہرا معیار بلوچستان کے مسائل پر رپورٹنگ میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ حال ہی میں لاھور میں ایک دل دہلانے والا واقعہ پیش آیا جس میں ایک ماں اور اس کا دس مہینے کا معصوم بچہ ایک نالے میں گرنے سے ھلاکت ہوئی تو وہاں پر تو کسی سیاسی پارٹی نے یا کہیں سے بھی کوئی آواز نہیں آئی کہ لاھور کو وفاق کے حوالے کیا جائے۔ نہ کسی میڈیا ہائوس سے یہ خبر نشر ہوئی کہ لاھور کو وفاق کے حوالے کیا جائے۔

یہ ایک مخصوص مائنڈ سیٹ ہے جو میڈیا کے ذریعے کراچی کی عوام کو برین واش کرتی رہتی ہے، کسی حد تک کامیاب بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن جو لوگ پاکستان کو ایک اکائی اور دنیا کے سب سے بڑے دانا کے قول پر عمل کرتے ہیں جی ہاں آقائے دو جہاں ﷺ کی ایک حدیث ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس نے عصبیت (قومیت) کی وہ ھم میں سے نہیں۔ اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے سندھ کے سب سے بڑے شھر کراچی، حیدرآباد اور سکھر کی باشعور عوام ان ٹٹ پونجیوں اینکرز کے لارے لپے میں نہیں آتے کیونکہ ان کے سامنے رحمت اللعالمین ﷺ کی وہ حدیث ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

انسانی جانیں کہیں بھی یکساں قیمت کی حامل ہیں، مگر میڈیا کی ترجیحات انہیں مختلف بنا دیتی ہیں۔ امریکہ میں اسکول شوٹنگز میں میڈیا شور مچاتا ہے، بلوچستان میں دہشت گردی کی رپورٹ محدود رہتی ہے اور کراچی میں اگر کوئی واقعہ ہوتا ہے تو میڈیا اسے طویل عرصے تک اجاگر کرتا ہے، یہ ہے دوہرا معیار۔ یہ تمام حقائق ایک سخت سبق سکھاتے ہیں: تشدد صرف بندوق یا آگ کا مسئلہ نہیں، بلکہ نظام، انصاف، محرومی اور انسانی رویوں کا مسئلہ ہے۔ امریکہ کی ناکامی ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت، قانون اور وسائل ہی کافی نہیں۔ بلوچ عوام اور کراچی کے شہری بھی اگر صرف فورس اور میڈیا کے شور پر اعتماد کریں تو نتائج مہلک ہو سکتے ہیں۔ امن کے لیے ضروری ہے کہ انصاف، تعلیم، محرومی کی کمی اور سیاسی شراکت داری کو ترجیح دی جائے اور میڈیا اپنی ذمہ داری کے ساتھ رپورٹنگ کرے۔

آخر میں، امریکہ، بلوچستان اور کراچی کے یہ واقعات ایک ہی پیغام دیتے ہیں: انسانی جان سب جگہ یکساں قیمت کی حامل ہے اور اگر نظام اور میڈیا اپنی ذمہ داری ادا نہ کریں تو تشدد بڑھتا ہے، خوف اور نفرت معاشرے کے ہر گوشے کو جکڑ لیتی ہے۔

Check Also

America, Balochistan Aur Karachi

By Amir Mohammad Kalwar