Wednesday, 25 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Zindagi Ka Zehar

Zindagi Ka Zehar

زندگی کا زہر

وہ بھی ایک عام سا دن تھا۔ اپنے کام سے فارغ ہو کر میں تھکاوٹ دور کرنے کیلئے ایبٹ روڈ پر واقع اسی چائے کے ڈھابے پر چلا آیا جہاں ہم دوست عموماً آیا کرتے تھے۔ شام کے دھندلکے میں وہ شخص چپ چاپ چائے کے کھوکھے کے سامنے رکھی کرسیوں میں سے ایک کرسی پر بیٹھا تھا جہاں ہم اکثر جا کر بیٹھا کرتے تھے۔ سامنے سڑک پر زندگی اپنی پوری بے رحمی کے ساتھ رواں تھی۔ رکشوں کے ہارن، موٹر سائیکلوں کی آوازیں، اخبار بیچنے والے کی پکار اور دور کہیں اذانِ مغرب کی بازگشت۔۔ سب کچھ اپنی اپنی جگہ موجود تھا مگر اس کے اندر ایک عجیب سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے چائے کا کپ دونوں ہاتھوں میں تھاما ہوا تھا، جیسے گرم کپ کو نہیں بلکہ بکھرتی ہمت کو سمیٹ رہا ہو۔

اچانک اس نے نظریں اٹھا کر مجھے دیکھا اور گلے میں لٹکتے میڈیا کارڈ کو بغور دیکھنے کے بعد نظریں جھکاتے ہوئے آہستہ سے کہا: "کسی نے کیا خوب کہا اور سو فیصد سچ کہا کہ زہر مرنے کے لیے تھوڑا سا پینا پڑتا ہے جبکہ جینے کے لیے بہت سا پینا پڑتا ہے اور وہ بھی ہر روز"۔

یہ جملہ محض الفاظ نہیں تھے، یہ اس معاشرے کے لاکھوں لوگوں کی ان لکھی ہوئی خودکلامی تھی۔

مرنا شاید سب سے آسان کام ہے۔ ایک لمحہ، ایک فیصلہ اور سب کچھ ختم۔ مگر جینا؟ جینا تو روز کا کڑا امتحان ہے۔ جینا مطلب یہ کہ آپ ہر صبح آنکھ کھولیں، چاہے دل کہہ رہا ہو کہ بس اب بہت ہوگیا ہے۔ آج کے دور میں ایک متوسط یا غریب شخص کا اس معاشرے میں جینا صرف سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ برداشت کا دوسرا نام ہے۔ یہاں ہر شخص کسی نہ کسی درجے پر زندگی کا زہر پی رہا ہے۔۔ کوئی غربت کا، کوئی بے روزگاری کا، کوئی ناانصافی کا، کوئی رشتوں کی تلخی کا۔

اب ذرا ایک عام سرکاری یا پرائیویٹ ملازم کو دیکھ لیجیے۔ تنخواہ محدود، مہنگائی بے لگام۔ مہینے کے شروع میں چہرے پر ہلکی سی امید اور پھر گزشتہ مہینے کے کھاتوں کو دیکھ کر پھیلی مایوسی۔ بچوں کی فیس، بجلی کا بل، گیس کا بل، کرایہ۔۔ ہر چیز ایک نیا گھونٹ مانگتی ہے۔ وہ روز یہ سہتا ہے اور اگلے دن دفتر پہنچ کر مسکرا کر کہتا ہے: "اللہ کا شکر ہے، گزارا ہو رہا ہے"۔ یہی تو جینا ہے۔۔ تلخی کو شکرکے ساتھ پینا۔

ایک ماں کو دیکھ لیجیے جو صبح اندھیرے میں اٹھتی ہے، بچوں کے اسکول کے یونیفارم استری کرتی ہے، ناشتہ بناتی ہے، شوہر کو دفتر کے لیے تیار کرتی ہے اور پھر پورا دن گھر کے کاموں میں گزار دیتی ہے۔ اس کی اپنی خواہشیں، اپنے خواب، کہیں کچن کے کسی کونے میں دب جاتے ہیں۔ وہ کبھی نہیں کہتی کہ میں تھک گئی ہوں مگر اس کی خاموشی چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ جینا کتنا مشکل ہے۔ وہ بھی روز جینے کا زہر پیتی ہے۔۔ مگر بچوں کی مسکراہٹ کو اپنے دکھوں کا مداوا سمجھ کر۔

پھر وہ نوجوان ہے جو ڈگری ہاتھ میں لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ ہر اشتہار پر "تجربہ درکار ہے" لکھا دیکھ کر اس کا دل بیٹھ جاتا ہے۔ گھر میں ماں باپ کی نظریں سوال بن جاتی ہیں، محلے والوں کی باتیں طعنہ۔ "ابھی تک نوکری نہیں لگی؟" یہ سوال نہیں، خنجر ہوتا ہے۔ وہ نوجوان اگر زندہ ہے تو اس لیے کہ وہ روز خود کو سمجھاتا ہے کہ شاید کل کچھ بہتر ہو جائے گا۔ وہ زہر پی رہا ہے۔۔ امید کے نام پر۔

ہمارے معاشرے میں عورت کا جینا بھی آسان نہیں۔ شادی شدہ ہو تو سوال، بے اولاد ہو تو طعنے، اولاد ہو جائے تو تربیت پر انگلیاں۔ سسرال ہو یا میکہ، ہر جگہ ایک کسوٹی۔ وہ عورت جو خاموشی سے سب سن لیتی ہے، اصل میں زندگی کا سب سے کڑوا زہر پی رہی ہوتی ہے اور پھر بھی وہ اگلے دن مسکرا کر چائے پیش کرتی ہے۔ یہ مسکراہٹ کوئی سادہ بات نہیں، یہ جینے کی قیمت ہے۔

عدالتوں کے برآمدوں میں بیٹھے لوگ دیکھ لیجیے۔ برسوں سے چلتے مقدمات میں انصاف کی امید پر بوڑھے ہو گئے چہرے۔ ایک زمین کا کیس، ایک وراثت کا جھگڑا، ایک خاندانی تنازع۔۔ کئی فائلوں کے پیچھے کسی نہ کسی کی پوری زندگی لٹکی ہوتی ہے۔ وہ لوگ مر نہیں جاتے، وہ جیتے رہتے ہیں مگر ہر پیشی پر جینے کا زہر ایک اور گھونٹ بڑھ جاتا ہے۔

یہی حال مزدور کا ہے جو صبح سویرے دیہاڑی کی تلاش میں نکلتا ہے۔ آج کام ملا تو بچوں کے لیے روٹی، نہ ملا تو فاقہ۔ اس کے پاس مرنے کا وقت نہیں کیونکہ مرنے سے پہلے زندہ رہنا ضروری ہے۔ وہ زندگی کی تلخی کو پسینے کے ساتھ پی جاتا ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ہم معاشرے میں خودکشی پر تو بات کرتے ہیں مگر اس جینے پر بات نہیں کرتے جو روزانہ خودکشی سے کم نہیں ہوتا۔ ہم کہتے ہیں فلاں کمزور تھا، اس نے ہمت ہار دی۔ مگر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ جو زندہ ہیں، وہ کتنی مضبوطی سے ٹوٹ رہے ہیں۔

جینا دراصل ایک مسلسل عبادت ہے۔۔ بے آواز، بے نمود۔ اس میں نہ تالیاں ملتی ہیں، نہ تمغے۔ مگر یہی عبادت انسان کو انسان بناتی ہے۔ جو شخص روز اپنی انا، اپنی خواہش اور اپنی تھکن کو پی جاتا ہے، وہی اصل میں زندہ ہے۔

"زہر مرنے کے لیے تھوڑا سا پینا پڑتا ہے، جبکہ جینے کے لیے بہت سا پینا پڑتا ہے اور ہر روز پینا پڑتا ہے"۔

یہ ہمارے معاشرے کا سچ ہے۔ ہم سب کسی نہ کسی درجے پر یہ زہر پی رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اسے شکوے کے ساتھ پیتے ہیں اور کچھ صبر کے ساتھ اور شاید زندگی انہی لوگوں کے نام ہوتی ہے جو کڑواہٹ کے باوجود گھونٹ بھر شکر ادا کرتے ہوئے اپنے معاملات اپنے رب پر چھوڑ دیتے ہیں۔

Check Also

Abadi Tarazu

By Toqeer Bhumla