Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Taleem Aur Mukhtalif Adwar Mein Islahat

Taleem Aur Mukhtalif Adwar Mein Islahat

تعلیم اور مختلف ادوار میں اصلاحات

آجکل سردیوں کی چھٹیاں ہیں تو میں نے دوبارہ مطالعہ شروع کر دیا۔ کل ہی میں تعلیم اور مختلف ادوار میں اصلاحات پر ایک مضمون پڑھ رہا تھا۔ دو دہائیاں پہلے مطالعہ کتاب کا کس قدر اہتمام ہوتا تھا گویا روزانہ باقاعدگی سے کھانا کھانے کی طرح طلبہ کیلئے کتب کا مطالعہ بھی لازمی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر اب طلبہ سے انٹرنیٹ، ٹچ موبائل، فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ایسے تمام پلیٹ فارمز نے مطالعہ جیسی خوبصورت تفریح چھین لی ہے۔

اگر ہم ماضی بعید کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بہت رشک آتا ہے۔ کیسے حسین تھے وہ دن جب اندلس کی فضاؤں میں اذان کے ساتھ علم کی صدائیں گونجا کرتی تھیں۔ جب قرطبہ کی جامع مسجد کے صحن میں چراغ جلتے تو ساتھ ہی درس و تدریس کے چراغ بھی روشن ہوتے۔ وہاں کے مدرسوں سے نکلنے والے طالب علم نہ صرف فقہ و فلسفہ میں یکتا تھے بلکہ فلکیات، ریاضی اور طب میں بھی یورپ کو حیران کر دیتے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بغداد کے بیت الحکمہ میں کتابیں اس تعداد میں تھیں کہ آج کے پاکستان کی ساری یونیورسٹیوں کے کتب خانے مل کر بھی اس کے مقابلے میں کمتر دکھائی دیتے۔ وہ دور علم کا بھی تھا اور عزت کا بھی، جہاں عالم بادشاہوں سے اونچا مانا جاتا تھا۔

اور اب؟ آج پاکستان کے گلی کوچوں میں تعلیم کہیں نظر نہیں آ رہی۔ ایک بچہ اپنے ناتواں کندھوں پر دس کلو کا بیگ اٹھائے کھڑا ہے، اس کے گلے میں پانی کی بوتل لٹک رہی ہوتی ہے اور دل میں ہزاروں خواب، استاد کے کندھوں پر مہنگائی کا بوجھ اور حکومت کی نگاہوں میں تعلیمی بجٹ کی کمی۔ آج کے بچوں کو دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ سرکاری اسکولوں کی چھتیں بارش میں ٹپکتی ہیں اور پرائیویٹ اسکولوں کی فیسیں والدین کے خون پسینے کا نچوڑ لے لیتی ہیں۔

یورپ کے طالب علم آج مصنوعی ذہانت کے پروجیکٹ بنا رہے ہیں اور ہمارا طالب علم زیادہ نمبروں کے حصول کیلئے یا تو رٹے مار رہا ہے اور یا کمرہ امتحان میں بیٹھ کر دائیں بائیں سے نقل مار کر پرچے حل کرتے ہوئے دعا مانگ رہا ہے کہ نگران پکڑے نہ۔ وہاں یونیورسٹیاں لائبریریوں اور تحقیق کے قلعے ہیں، یہاں یونیورسٹیوں میں "پارٹی کلچر" اور "پوائنٹ اسکورنگ" کی سیاست ہے۔ وہ قومیں جو کبھی ہماری شاگرد تھیں، آج ہمارے لیے استاد بن کر کھڑی ہیں اور ہم ہیں کہ اپنے ہی ماضی سے منہ چھپا کر حال کی کڑوی حقیقت سے لڑکھڑا رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر ہم نے اپنی درسگاہوں کو تعلیمی مقتل گاہ کیوں بنا دیا؟ کیوں ہمارے استاد عزت سے محروم اور ہمارے نصاب وقت سے پیچھے ہیں؟ بچے قرآن کے سپارے تو پڑھ لیتے ہیں مگر اخلاق کی روح، علم کی جستجو اور تحقیق کا ذوق ان سے غائب ہے۔

اندلس کی درسگاہوں سے آج کے اسلام آباد تک کا سفر ایک عبرت ہے۔ وہ مسلمان جو کبھی بیت الحکمہ بغداد میں زمین کے گرد سورج کی گردش پر تحقیق کرتے تھے، آج اپنے بچوں کو یہ سمجھانے میں لگے ہیں کہ تعلیم ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، نہ کہ شعور پانے کا۔

یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ ہماری شرحِ خواندگی کے اعداد و شمار بھی جعلی اعداد کی طرح اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ گاؤں کے بچے آج بھی کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں اور شہروں میں نجی اسکول فیسیں گن رہے ہیں۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں، اگر قرطبہ کے پرانے استاد، بغداد کے محقق اور یورپ کی جدید یونیورسٹیوں کے پروفیسر سب ایک ہی جگہ جمع ہو کر ہمارے حال پر نظر ڈالیں تو کیا کہیں گے؟ شاید یہی کہ "جس قوم نے کتاب کا حق ادا نہ کیا، اسے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دینا ہی بہتر ہے"۔

Check Also

Rail Ki Seeti, Ya Dard Ki Seeti

By Babar Ali