Sahafat Zarf Ka Imtihan
صحافت ظرف کا امتحان

صحافت صرف سوال پوچھنے کا ہی نام نہیں، ظرف کا امتحان بھی ہے۔ ایک اچھا انٹرویو صرف اس بات سے نہیں پہچانا جاتا کہ صحافی نے کتنے سخت سوال کیے بلکہ اس سے بھی کہ اس نے موقع محل کی مناسبت سے سوال پوچھتے ہوئے سامنے والے کے وقار، حدود اور انسانی احترام کو کس حد تک ملحوظ خاطر رکھا۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جہاں صحافت اور تماشہ ایک دوسرے سے الگ ہوتے ہیں۔
حال ہی میں ایک انٹرویو میں اداکارہ میرا سفید لباس میں نہایت پُرسکون اور متوازن انداز میں بیٹھی نظر آئیں۔ یقین مانیں پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ وہ اپنی شخصیت کے اس پہلو کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں جو شور، تنازع اور سکینڈلز سے ہٹ کر ہے۔۔ ایک سنجیدہ، باوقار اور اپنے کام پر بات کرنے کی خواہش رکھنے والی فنکارہ۔ جب ان سے ذاتی زندگی کے حوالے سے تلخ سوالات کیے گئے تو انہوں نے نہ غصہ کیا، نہ بدتمیزی، نہ ہی گفتگو کو تلخ ہونے دیا۔
صرف ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: "آپ میری ذاتی زندگی کے بجائے میری نئی فلم سائیکو پر بات کریں کیونکہ آپ میرے فلم کے سیٹ پر تشریف لائے ہیں"۔
یہ جملہ صرف ایک درخواست نہیں تھا جس میں بین السطور ایک حد کا تعین کیا گیا تھا۔۔ نرمی سے، شائستگی سے۔ مگر یہ انٹرویو کرنے والا انتہائی ڈھٹائی سے اپنی بات پر ڈٹا رہا اور بار بار ایک ہی طرح کے سوالات دہراتا رہا۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض اوقات صحافت کو بےرحمی سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ خیال پیدا ہوگیا ہے کہ جتنا زیادہ کسی کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، جتنا زیادہ اس کی نجی زندگی کو اچھالا جائے اتنا ہی انٹرویو "بولڈ" اور "کامیاب" سمجھا جائے گا۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ صحافت کا مقصد کسی کی تذلیل نہیں، سچ کی تلاش ہے۔ بدقسمتی سے صحافتی اقدار تو پاکستان میں بہت نایاب ہو چکی ہیں۔
اگر کوئی شخص واضح طور پر یہ کہہ دے کہ وہ اپنی نجی زندگی پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا تو ایک مہذب صحافی کا فرض ہے کہ وہ اس حد کا احترام کرے۔ بار بار وہی سوال دہرانا نہ صحافتی جرات ہے، نہ ذہانت۔۔ سوال کا مقصد جواب حاصل کرنا ہوتا ہے، نہ کہ کسی کو بےبس محسوس کروانا۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اداکار، سیاست دان، کھلاڑی یا کوئی بھی عوامی شخصیت۔۔ سب سے پہلے انسان ہوتے ہیں۔ ان کی نجی زندگی، ان کی کمزوریاں، ان کی خاموشیاں، یہ سب بھی احترام کے دائرے میں آتے ہیں۔ اگر ہم ہر مشہور شخص کو صرف اس کے سکینڈلز کی عینک سے دیکھیں گے تو پھر ہم اس کے فن، اس کی محنت اور اس کی انسانیت کو نظرانداز کر دیں گے۔
یہاں مسئلہ صرف ایک انٹرویو کا نہیں، پورے معاشرتی رویے کا ہے۔ ہم بطور ناظرین بھی اکثر اسی مواد کو پسند کرتے ہیں جس میں سنسنی ہو، تضحیک ہو، کردار کشی ہو۔ پھر ہم شکایت کرتے ہیں کہ میڈیا کا معیار گر گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ میڈیا وہی دکھاتا ہے جو معاشرہ دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر ہم احترام کو ترجیح دیں گے تو صحافت بھی مہذب ہو جائے گی۔
میرا کے ماضی پر اختلاف ہو سکتا ہے، ان کے فیصلوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے مگر کسی انسان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا کسی بھی اختلاف کا جواز نہیں بن سکتا۔ کسی کے کردار کا فیصلہ عدالت کر سکتی ہے، معاشرہ نہیں اور صحافی کا کام منصف بننا نہیں، سوال پوچھنا ہے۔

