Meri Saadgi Dekh Main Kya Chahta Hoon
میری سادگی دیکھ میں کیا چاہتا ہوں

آج کے اخبار کی خبر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پورے بینکنگ نظام کو ریگولیٹ کرنے والے سب سے بڑے ادارے اسٹیت بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر تقریباً 16 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔ دوسری طرف کراچی کے ایک عام سے گھر میں پیدا ہونے والا ایک نوجوان صالح آصف جس نے محض تین برس پہلے اپنے دو دوستوں کے ساتھ امریکہ میں بغیر کسی بڑی سرمایہ کاری کے مصنوعی ذہانت پر مبنی کوڈنگ ٹیکنالوجی کی ایک کمپنی قائم کی، آج اس کی کمپنی کی مالیت اس سے کئی گنا زیادہ بتائی جا رہی ہے اور ایلون مسک کی کمپنی SpaceX کے ساتھ 60 ارب ڈالر کے معاہدے کی خبریں پاکستان کے میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔
اب ذرا دونوں تصویروں کو ایک ساتھ رکھیے۔ ایک طرف ایک پورا ملک، اس کا مرکزی بینک، اس کی معیشت، اس کے قرضے، اس کی فائلیں، اس کی پالیسیاں اور دوسری طرف ایک نوجوان، ایک لیپ ٹاپ، چند خواب اور ریاضی سے لگاؤ۔ یہ موازنہ صرف اعداد کا نہیں، سوچ کا ہے۔
صالح آصف کسی شاہی خاندان میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ وہ بھی ہمارے بچوں کی طرح ایک عام پاکستانی بچہ تھا۔ کراچی کے ایک معمولی سے اسکول میں پڑھا، پھر ایک اوسط درجے کے کالج میں تعلیم حاصل کی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس کے اندر ریاضی کے ساتھ ایک غیر معمولی تعلق تھا۔ اعداد اس سے بات کرتے تھے، سوال اسے ڈراتے نہیں تھے اور مسئلہ حل کرنا اس کے لیے بوجھ نہیں، کھیل تھا۔ قسمت نے ساتھ دیا، اسکالرشپ ملی، امریکہ پہنچ گیا اور پھر وہیں اپنے تین دوستوں کے ساتھ ایک ایسی کمپنی کی بنیاد رکھ دی جس نے دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ صالح آصف صرف ایک شخص نہیں، ایک سوال ہے۔
وہ سوال جو ہر پاکستانی گاؤں، ہر قصبے، ہر سرکاری اسکول کے بوسیدہ کمرے میں بیٹھا ہوا ہے۔ میں خود ریاضی میں ایک اوسط درجے کا طالب علم تھا مگر میری کلاس میں چار پانچ ایسے لڑکے ضرور تھے جن کے لیے ریاضی محض مضمون نہیں تھی، فطرت تھی۔ استاد کتاب سے سوال دیتے، وہ حل کر دیتے۔ کبھی استاد اپنی طرف سے کوئی پیچیدہ سوال لکھ دیتے تو وہ بھی مسکرا کر حل کر دیتے۔ بعض اوقات ہمیں لگتا تھا شاید یہ لڑکے انسان نہیں، کیلکولیٹر ہیں۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ان لڑکوں نے اس پسماندہ سکول سے میٹرک کے بعد روائتی تعلیم حاصل کی۔ آج ان میں سے کئی اپنے کھیتوں میں چارہ کاٹ رہے ہیں۔ کوئی بھینسوں کو پانی پلا رہا ہے، کوئی کھاد کی بوری اٹھائے دھوپ میں پسینہ بہا رہا ہے۔ ایک دو وہی فرسودہ تعلیمی نظام کا حصہ بن کر انہی اسکولوں میں بچوں کو وہی پرانی کتابیں پڑھا رہے ہیں جنہوں نے ان کے اپنے خواب دفن کیے تھے۔
قصور ان کا نہیں تھا۔ قصور اس نظام کا تھا جہاں ذہانت کو پرکھنے کا پیمانہ صرف رٹا ہے، جہاں سوال پوچھنے والے بچے کو بدتمیز سمجھا جاتا ہے اور جہاں تخلیقی صلاحیت کو اکثر "فضول حرکت" کہہ کر دبا دیا جاتا تھا۔
ہمارا تعلیمی نظام ابھی بھی دنیا سے شاید پچاس سال پیچھے چل رہا ہے۔ ہم آج بھی بچوں کو سوچنا نہیں، یاد کرنا سکھاتے ہیں۔ ہم ان کے ذہنوں میں روشنی بھرنے کے بجائے انہیں امتحانی پرچوں اور فرسٹ پوزیشن کیجانب جانے والے اندھیرے راستوں میں دھکیل دیتے ہیں۔ ہم ٹیلنٹ کو تلاش نہیں کرتے، ہم صرف نمبر گنتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہزاروں صالح آصف ہر سال خاموشی سے ضائع ہو جاتے ہیں۔
کوئی پرائیویٹ نوکری میں مہینے کے آخر میں تنخواہ کا انتظار کرتا ہے، کوئی موٹر سائیکل پر فائلیں اٹھائے دفتر دفتر پھرتا ہے، کوئی دکان پر حساب لکھ رہا ہوتا ہے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ سر ڈھانپتے ہیں تو پاؤں ننگے ہو جاتے ہیں۔ زندگی صرف گزارنے کا نام بن جاتی ہے، جینے کا نہیں۔
سوچیے اگر پاکستان میں ہر سال صرف ایک بچہ بھی صحیح سمت پا لے، صرف ایک بچہ، تو دس برس بعد یہ ملک کہاں کھڑا ہوگا؟ قومیں صرف سڑکوں سے نہیں، ذہنوں سے بنتی ہیں۔ پل، میٹرو، عمارتیں۔۔ یہ سب ضروری ہیں مگر سب سے بڑی تعمیر ایک ذہن کی تعمیر ہے۔ اگر ایک دیہاتی اسکول کے بچے کو صحیح استاد، صحیح ماحول اور صحیح موقع مل جائے تو وہ صرف اپنا نہیں، پورے ملک کا مقدر بدل سکتا ہے۔
ہمیں اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو نوکری ڈھونڈنے والا بنانا چاہتے ہیں یا دنیا کو نئی سمت دینے والا؟ کیونکہ تاریخ ہمیشہ وسائل والوں نے نہیں، صلاحیت والوں نے لکھی ہے اور شاید ہمارے گاؤں کی کسی خاموش سی کلاس میں آج بھی کوئی نیا صالح آصف بیٹھا ہے۔۔ جو صرف ایک موقع کا منتظر ہے۔

