Tuesday, 24 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Masla Taluq Mein Hai

Masla Taluq Mein Hai

مسئلہ تعلق میں ہے

کچھ ٹاکسک رشتے بظاہر بہت دلکش نظر آتے ہیں مگر وہ آہستہ آہستہ زہر بن کر انسان کے اندر سرائیت کرتے جاتے ہیں۔۔ بالکل اُس نمی کی طرح جو دیوار میں جذب ہو کر بنیاد اور پلستر کو اکھاڑ دیتی ہے مگر چھت گرنے تک کسی کو خبر نہیں ہوتی۔ یہ رشتے صرف وقت نہیں کھاتے، یہ انسان کی روح کو گھونٹ گھونٹ پی جاتے ہیں۔ انسان کی ہنسی کو احتیاط میں، اعتماد کو خوف میں اور خوابوں کو مصلحت میں بدل دیتے ہیں۔

ہم روزمرہ زندگی میں اس کی بے شمار مثالیں دیکھتے ہیں۔ ایک دوست جو ہر ملاقات میں آپ کی ناکامیوں کا تذکرہ کرے مگر کامیابی پر خاموش رہے۔ ایک رشتہ جو آپ کی تھکن کو ڈرامہ اور آپ کے دکھ کو کمزوری کہہ کر ٹال دے۔ ایک ماحول جہاں آپ کو اپنی بات کہنے سے پہلے دس بار سوچنا پڑے کہ کہیں بات کاٹی نہ جائے، آپکی بات کو غلط رنگ میں نہ لے لیا جائے، توہین نہ ہو جائے، یا الزام آپ ہی پر نہ آ جائے۔ یہ سب ٹاکسکیت کی نرم مگر زہریلی صورتیں ہیں۔

ان رشتوں کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ خود کو "معمول" کے پردے میں چھپا لیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں، "سب گھرانوں میں ایسا ہی ہوتا ہے"، "دوستی میں اتنا تو چلتا ہے"، یا "رشتے نبھانے پڑتے ہیں"۔ یوں ہم خود کو قائل کر لیتے ہیں کہ خاموش رہنا ہی عقل مندی ہے۔ لیکن خاموشی جب مستقل ہو جائے تو وہ صبر نہیں رہتی بلکہ خود فراموشی بن جاتی ہے۔

چھوڑ دینا اسی لیے کمزوری نہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان پہلی بار اپنے آپ کو مرکز میں رکھتا ہے۔ یہ اعلانِ جنگ نہیں، اعلانِ امن ہے۔۔ اپنے دل کے ساتھ، اپنی سانس کے ساتھ، اپنے مستقبل کے ساتھ۔ جیسے کوئی مسافر بھاری سامان اتار کر دوبارہ سیدھا چلنے لگے، ویسے ہی انسان ٹاکسک رشتوں سے نکل کر ہلکا محسوس کرتا ہے۔ نیند بہتر ہو جاتی ہے، سوچ صاف ہونے لگتی ہے اور دل میں ایک خاموش سا اطمینان اتر آتا ہے۔

ذہنی سکون کوئی تعیش نہیں، یہ ضرورت ہے۔ جس طرح جسم کو ہوا اور پانی چاہیے، اسی طرح روح کو احترام اور تحفظ درکار ہوتا ہے۔ اگر کوئی رشتہ آپ کو ہر روز اپنی قیمت ثابت کرنے پر مجبور کرے، اگر آپ کی حدیں مذاق بن جائیں، اگر محبت کے نام پر کنٹرول اور الزام ملے۔۔ تو سمجھ لیجیے مسئلہ آپ میں نہیں، تعلق میں ہے۔

زندگی میں اپنی ذات سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ جو رشتہ آپ کو آپ سے دور کر دے، وہ قربت نہیں قید ہے اور قید سے نکلنا بغاوت نہیں، بقا ہے۔ اپنے ذہنی سکون کو ترجیح دینا خود غرضی نہیں، خود آگہی ہے۔ کیونکہ آخرکار آپ کی زندگی آپ ہی نے جینی ہے اور اسے جینے کا حق بھی آپ ہی کا ہے۔

Check Also

Adnan Mustafa

By Mubashir Ali Zaidi