Thursday, 19 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Mashriq e Wusta Aur Talkh Sabaq

Mashriq e Wusta Aur Talkh Sabaq

مشرقِ وسطیٰ اور تلخ سبق

"36 سال تک ہمیں یقین دلایا جاتا رہا کہ امریکی اڈے ہماری حفاظت کے لیے ہیں مگر پہلی جنگ میں ہی ہمیں معلوم ہوا کہ دراصل ہم ہی ان کی حفاظت کر رہے تھے"۔

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بعض جملے میزائلوں سے زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ کبھی کبھی ایک مختصر سا اعتراف بھی دہائیوں کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیتا ہے۔ حالیہ دنوں فیصل بن فرحان آل سعود کے اس بیان نے عرب دنیا کے سیاسی ایوانوں میں ایسی ہی ہلچل پیدا کی ہے۔ یہ محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ اس تاریخ کا آئینہ ہے جس میں دیکھ کر عرب حکمرانوں نے اپنی سلامتی کی ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر ڈال کر خود کو مطمئن رکھنے کی ناکام کوشش کی۔

عرب دنیا کی جدید سیاسی تاریخ کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس نے طاقت کے حقیقی منبع کو سمجھنے میں ہمیشہ دیر کی۔ کبھی برطانوی چھتری کے نیچے اطمینان تلاش کیا گیا اور جب وہ چھتری ہٹ گئی تو امیدوں کا مرکز ریاستہائے متحدہ امریکہ بن گیا۔ عرب حکمرانوں کو یہ یقین دلایا گیا کہ امریکی فوجی اڈے ان کی بقا کی ضمانت ہیں کہ واشنگٹن کی موجودگی ان کے دشمنوں کے لیے ناقابلِ عبور دیوار ثابت ہوگی۔ مگر تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ بڑی طاقتیں کبھی کسی کی مستقل محافظ نہیں ہوتیں، وہ صرف اپنے مفادات کی محافظ ہوتی ہیں۔

اسی پس منظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کی سیاست نے ایک عجیب منظر پیش کیا۔ ٹرمپ نے سفارت کاری کے روایتی لبادے کو اتار کر بات کو تجارت کی زبان میں بیان کر دیا۔ اس نے کھلے لفظوں میں کہا کہ اگر عرب ریاستیں امریکی تحفظ چاہتی ہیں تو اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ شاید یہی وہ لمحہ تھا جب بہت سے عرب دارالحکومتوں میں پہلی بار یہ احساس پیدا ہوا کہ تحفظ کا سودا دراصل ایک کاروبار ہے، کوئی دائمی رشتہ نہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ عربوں کو یہ حقیقت اب سمجھ آئی ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس ادراک کے بعد کوئی عملی تبدیلی بھی آئے گی؟ تاریخ بتاتی ہے کہ سیاسی شعور کا پہلا قدم اعتراف ہوتا ہے جبکہ دوسرا قدم خود انحصاری ہوتا ہے۔ اگر یہ احساس واقعی پختہ ہو جائے کہ بیرونی قوتیں صرف اپنے مفادات کے لیے موجود ہیں تو پھر دفاعی حکمتِ عملی، علاقائی اتحاد اور داخلی استحکام کی نئی بحث ناگزیر ہو جاتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں سلامتی کی اصل بنیاد باہر سے نہیں آ سکتی۔ وہ تبھی ممکن ہے جب خطے کے ممالک اپنے اختلافات کم کریں، باہمی اعتماد پیدا کریں اور اپنی عسکری و معاشی قوت کو خود مضبوط کریں۔ بیرونی طاقتوں کے سائے میں پناہ لینے کی پالیسی عارضی سکون تو دے سکتی ہے مگر پائیدار سلامتی نہیں۔

شاید یہی وہ تلخ سبق ہے جو تاریخ بار بار دہراتی رہی ہے۔ قومیں اس وقت تک محفوظ نہیں ہوتیں جب تک وہ اپنی حفاظت کی ذمہ داری خود اپنے ہاتھ میں نہ لے لیں۔ باقی سب انتظامات محض وقتی سہارے ہوتے ہیں اور وقتی سہارے ہمیشہ وقت کے ساتھ ٹوٹ جاتے ہیں۔

Check Also

Abna e Hormuz Aur Jazeera e Kharg

By Amir Mohammad Kalwar