Sunday, 22 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Khamoshi

Khamoshi

خاموشی

ایک شام میں اپنے آفس سے نکل رہا تھا کہ اپنے پیچھے میں نے ایک نسوانی آواز سنی جو غالباً مجھ سے مخاطب تھی۔ گراونڈ فلور کے برآمدے میں ایک عورت خاموش کھڑی تھی، آنکھوں میں خوف، ہاتھوں میں لرزش اور چہرے پر نیل کے مدھم نشان۔ میں نے مخاطب کرنے کی وجہ پوچھی تو بس پھر اس کے صبر کا بند ٹوٹ گیا۔ خوب روئی اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی داستان سنانے لگی۔ آخر میں بار بار کہنے لگی کہ "بس مجھے اس شخص سے نجات دلوا دیں"۔ اسکی بات ختم ہوئی تو وہ زرا ہلکی پھلکی محسوس ہوئی۔ میں نے زرا توقف کے بعد اس سے پوچھا کہ "کیا اب آپ اپنے شوہر سے نجات حاصل کرنا چاہتی ہیں؟"، "کیا آپ عدالت میں اپنے شوہر کے خلاف بیان دینا چاہتی ہیں؟"

عورت نے نظریں جھکا لیں، ہونٹ ہلے مگر آواز نہ نکلی۔ پورے احاطہ میں میں خاموشی پھیل گئی۔ وہ خاموشی اس لمحے حکمت نہیں تھی، وہ جرم بن چکی تھی۔۔ ایک ایسا جرم جس نے ظلم کو مزید طاقت دے دی۔ خاموشی بذاتِ خود نہ نیکی ہے نہ بدی۔ یہ ایک ہتھیار ہے۔۔ کبھی تحفظ کا، کبھی تباہی کا۔ سوال یہ نہیں کہ ہم خاموش کیوں ہیں، سوال یہ ہے کہ کہاں اور کس قیمت پر خاموش ہیں۔

ہماری ثقافت ہمیں سکھاتی ہے کہ خاموشی وقار ہے، برداشت ہے، دانائی ہے۔ یہ بات درست بھی ہے۔ ہر موقع پر بولنا عقل مندی نہیں، ہر لڑائی لڑنا بہادری نہیں۔ دفتر میں غیر ضروری بحث سے بچ جانا، سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی سے کنارہ کشی یا کسی ذاتی معاملے میں صبر اختیار کرنا۔۔ یہ سب خاموشی کی وہ صورتیں ہیں جو حکمت کہلاتی ہیں۔ یہاں خاموشی آگ بجھاتی ہے، جلتی پر تیل کا کام نہیں کرتی۔

لیکن مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں خاموشی ظلم کی محافظ بن جائے۔ جب محلے میں کسی عورت کی چیخیں سنائی دیتی ہوں اور ہم دروازہ بند کر لیں کہ "یہ میاں بیوی کا معاملہ ہے" تو یہ خاموشی بزدلی بن جاتی ہے اسے نرم الفاظ میں میں "مجرمانہ خاموشی" کہا کرتا ہوں۔ جب کسی گھر میں ناانصافی عام ہو، کسی مخصوص فرد کو کسی خاص فرد واحد کے مقصد کیلئے نشانہ بنایا جائے اور ہم کہہ دیں "ہم کیا کر سکتے ہیں " تو یہ خاموشی اجتماعی برائی کو معمول بنا دیتی ہے۔

مارٹن لوتھر کنگ کا جملہ یاد رکھیے: "ہمیں اپنے دشمنوں کے الفاظ سے زیادہ، اپنے دوستوں کی خاموشی نے نقصان پہنچایا"۔

ہمارے ہاں خاموشی کو اکثر "سمجھداری" کا نام دے دیا جاتا ہے۔ والدین بچوں پر تشدد دیکھ کر کہتے ہیں "برداشت کرو، گھر بساؤ"۔ استاد زیادتی دیکھ کر کہتے ہیں "معاملہ بگڑ جائے گا"۔ دوست ناانصافی دیکھ کر کہتے ہیں "چلو چھوڑو"۔ یوں خاموشی ایک ثقافتی عذر بن جاتی ہے، جس کے سائے میں ظلم پلتا ہے۔

یہاں ایک باریک فرق سمجھنا ضروری ہے۔ گھر کے اندر خاموشی اس وقت حکمت ہوتی ہے جب وہ اصلاح کا راستہ کھلا رکھے اور خاموشی اس وقت بزدلی ہوتی ہے جب وہ ظلم کو محفوظ بنا دے۔

اگر آپ بول سکتے ہیں اور پھر بھی نہیں بولتے تو آپ غیر جانبدار نہیں، آپ اس گھر کے اندر ہونے والے ظلم میں برابر کے شریک ہیں۔ یہی مجرمانہ خاموشی اس گھر کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیتی ہے اور پھر گھر کے افراد کے درمیان نفرتوں کی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں۔

میں نے ایک بار ایک سرکاری دفتر میں ایک نوجوان کو دیکھا جو اپنے افسر کی بدتمیزی پر خاموش نہ رہا۔ اس نے شائستگی سے کہا: "سر، اختلاف ممکن ہے مگر تذلیل نہیں"۔ نتیجہ؟ وقتی مشکل مگر پورے دفتر کا ماحول بدل گیا۔ یہ بولنا شور نہیں تھا، یہ ذمہ دار آواز تھی۔ یہی وہ آواز ہے جس کی ہمیں قلت ہے۔

ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ ہر آواز چیخ نہیں ہوتی اور ہر احتجاج ہنگامہ نہیں۔ اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر زبان کی شائستگی کے ساتھ، دلیل کی طاقت سے گھر یا دفتر میں ہونے والے عدم توازن پر بولنا۔۔ یہی وہ راستہ ہے جو خاموشی اور شور کے بیچ ایک مہذب پل بناتا ہے۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ ہم خاموش رہیں یا بولیں۔ سوال یہ ہے کہ کب خاموش رہیں اور کب بولنا فرض ہو جاتا ہے۔ جہاں خاموشی ٹوٹتے ہوئے گھر کو بچا لے، وہاں وہ نعمت ہے اور جہاں گھر کو توڑنے والے کی زیادتی پر خاموش رہے وہاں وہ جرم ہے۔

Check Also

Na Umeedi Se Umeed Tak Ka Safar

By Asma Hassan