Hum Kab Bigre?
ہم کب بگڑے؟

مجھے یاد ہے دو تین دہائیاں پہلے ہمارے گلی محلے کی وہ شامیں جب دروازے بند نہیں ہوتے تھے، صرف پردے دروازے کے آگے سرکا دیے جاتے تھے۔ فجر اور پھر عصر کے بعد دودھ والا دودھ اکٹھا کرنے کیلئے جب گلی میں داخل ہوتا، دودھ فروخت کرنے والے گاؤں کے لوگ برتنوں میں دودھ لے کر آتے تو گوالے کی پہلی گڑوی بھری بالٹی میں سے جب نکلتی تو بھری ہوئی بالٹی آدھی رہ جانے پر فروخت کرنے والے کے تیور بھی دیکھنے لائق ہوتے۔ استاد محلے سے گزرتا تو بچے کھیل چھوڑ کر سیدھے کھڑے ہو جاتے اور اگر کسی بزرگ کا جنازہ ہوتا تو پورا محلہ کام کاج چھوڑ کر شریک ہوتا۔ اس زمانے میں غربت تھی، سہولتیں کم تھیں، مگر ایک چیز وافر تھی: شرم، لحاظ اور اعتماد۔ آج سوال یہ نہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، ہم کب بگڑے؟
ہم ٹوٹے اس دن جب ہم نے اقدار و اخلاقیات کو فرسودہ اور چالاکی کو عقل سمجھنا شروع کیا۔ جب ہم نے بچوں کو یہ سکھایا کہ "بس نمبر اور گریڈز آ جائیں قابلیت ہو یا نہ ہو"، جب استاد کو علم کا چراغ نہیں بلکہ ڈینگی تصویریں لینے والا اور ٹارگٹ پورے کرنے والا ملازم بنا دیا گیا۔ یہ سماجی، اخلاقی و تعلیمی زوال کسی ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا، یہ چھوٹے چھوٹے سمجھوتوں کی لمبی قطار تھی۔ ہم نے قطار میں کھڑا ہونا چھوڑا تو سگنل توڑنا فخر کی علامت بن گیا، سفارش عزت اور قانون کمزوری قرار پایا۔
یہ اظہر من الشمس حقیقت ہے کہ تہذیب ایک دن میں نہیں مرتی، اسے آہستہ آہستہ بےمعنی کیا جاتا ہے۔ پہلے لفظوں سے احترام نکلتا ہے، پھر لہجوں سے شائستگی اور آخر میں رویوں سے انسانیت۔ ہم نے "تمیز" کو دیہاتی پن سمجھ لیا اور "بدتمیزی" کو اعتماد کا نام دے دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم ڈگری یافتہ تو ہو گئے مگر تربیت یافتہ نہ رہے۔
ہم اخلاقی طور پر اس دن ٹوٹے جب ہم نے عبادت کو رسم اور دیانت کو نعرہ بنا دیا۔ مسجدیں آباد ہوگئیں مگر دل ویران ہوتے گئے۔ جھوٹ روزمرہ کا ہتھیار بنا، ملاوٹ کاروباری حکمتِ عملی اور دھوکہ "سروائیول اسکل" کہلایا۔ ہم نے بچوں کو سچ بولنے پر شاباش دینے کے بجائے یہ سکھایا کہ "بات بنانی آ جانی چاہیے"۔ یوں ایک پوری نسل ایسی تیار ہوئی جو قانون سے بچنا جانتی ہے مگر قانون ماننا نہیں۔
معیشت کو ہم اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، حالانکہ اصل زوال اقدار کا ہے۔ قومیں غربت میں بھی زندہ رہتی ہیں مگر بےاصولی میں نہیں۔ جاپان جنگ کے بعد کھنڈر تھا مگر اس کے لوگ جھوٹے نہ تھے۔ ہم وسائل سے مالا مال ہو کر بھی بداعتماد ہو گئے۔ آج ہر شخص دوسرے کو چور سمجھتا ہے، اس لیے نہیں کہ سب چور ہیں، بلکہ اس لیے کہ ایمانداری اب استثنا بن چکی ہے۔
ایک وقت تھا جب پڑوسی کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا جاتا تھا، آج ہم فیس بک پوسٹ پر تعزیت کرکے فارغ ہو جاتے ہیں۔ رشتے مفاد کے ساتھ جڑے، دوستی ضرورت سے مشروط ہوگئی۔ ہم نے رشتوں کو نبھانے کے بجائے استعمال کرنا سیکھ لیا ہے۔ ماں باپ اولڈ ہومز کے موضوع بن گئے اور اولاد "سیلف میڈ" کہلا کر فخر محسوس کرنے لگی۔
ہم بگڑے اس دن جب ہم نے خود احتسابی چھوڑ دی اور ہر خرابی کا الزام نظام، سیاست دان، یا حالات پر ڈال دیا۔ حالانکہ نظام افراد سے بنتا ہے۔ اگر فرد درست ہو تو نظام خودبخود سیدھا ہو جاتا ہے۔ ہم نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ معاشرہ ہم خود ہیں، کوئی اور نہیں۔
آخر میں سوال پھر وہی ہے: ہم کب بگڑے؟ شاید اس دن جب ہم نے یہ مان لیا کہ "سب ایسے ہی کرتے ہیں"۔ یہ جملہ کسی بھی قوم کے اخلاقی جنازے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ جب "سب" غلط کرنے لگیں تو درست ہونا بغاوت لگتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے، معاشرے وہی بچتے ہیں جہاں چند لوگ بھی شرمندہ ہونا نہیں چھوڑتے۔
اصل اصلاح معیشت سے نہیں، نیت سے شروع ہوتی ہے۔ جب ہم پھر سے دروازے بند کرنے کے بجائے دل کھولنا سیکھ لیں گے، استاد کو صحیح معنوں میں عزت دینے لگیں گے اور قانون کو دشمن نہیں محافظ سمجھیں گے۔۔ شاید تب ہم کہہ سکیں گے کہ ہم نے سدھرنا شروع کر دیا ہے۔ ورنہ سوال زندہ رہے گا اور جواب ہر آنے والی نسل ہم سے مانگتی رہے گی۔

