Hareem Fatima Aur Abba Ji
حریم فاطمہ اور ابا جی

زندگی میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے سمندر میں ڈوبتے نہیں، ہمیشہ لہروں کی طرح دل کے ساحل سے ٹکراتے رہتے ہیں۔ انسان عمر بھر آگے بڑھتا رہتا ہے مگر کچھ یادیں اس کے قدموں سے لپٹ جاتی ہیں۔ میرے لیے وہ یاد۔۔ میری بیٹی حریم فاطمہ اور میرے ابا جی کی محبت ہے۔
بھائی بہنوں میں سب سے پہلے میری شادی ہوئی تھی۔ شاید اسی لیے گھر بھر کی دعائیں، امیدیں اور خوشیاں میرے آنگن سے جڑی ہوئی تھیں۔ مجھے ہمیشہ سے ایک عجیب سی خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے سب سے پہلے بیٹی عطا کرے۔ نجانے کیوں مجھے بیٹیاں ہمیشہ رحمت کی صورت محسوس ہوتی تھیں۔ وہ گھر میں صرف پیدا نہیں ہوتیں بلکہ پورے گھر کی فضا بدل دیتی ہیں۔ پھر ایک دن اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو شرفِ قبولیت بخشا اور مجھے چاند جیسی بیٹی عطا ہوئی۔۔ حریم فاطمہ۔
گھر میں جیسے عید اتر آئی تھی مگر سب سے زیادہ خوش میرے ابا جی تھے۔ آج بھی وہ منظر میری آنکھوں میں تازہ ہے۔ انہوں نے ننھی حریم کو اپنی بانہوں میں اٹھایا، سینے سے لگایا، ماتھا چوما اور محبت سے مسکراتے ہوئے کہا "یہ تو میرے گھر کی روشنی ہے"۔
پھر جیب سے ایک چھوٹا سی ڈبیہ نکالی جس میں سونے کی ننھی ننھی بالیاں تھیں۔ وہ بالیاں انہوں نے اپنی پوتی کو ایسے دیں جیسے کوئی بادشاہ اپنی سب سے قیمتی دولت کسی شہزادی کے نام کر رہا ہو۔
جب جب حریم بہت روتی تھی گھر کے سب لوگ اسے چپ کروانے کی کوشش کرتے مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جیسے ہی ابا جی اسے اپنی گود میں لیتے، وہ روتے روتے خاموش ہو جاتی۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا کہ وہ ان کے ہاتھوں کی حرارت تھی، محبت کا اثر تھا یا رشتوں کی وہ زبان جسے صرف دل سمجھتے ہیں۔
ابا جی اکثر چارپائی پر بیٹھ جاتے اور ننھی حریم کو اپنی گود میں بٹھا لیتے۔ کبھی اس کے ننھے ہاتھ چومتے، کبھی اس کے ماتھے پر انگلی پھیرتے، کبھی بےاختیار مسکرا دیتے۔ ان کی آنکھوں میں اس وقت ایک عجیب سی روشنی ہوتی تھی، شاید وہ روشنی جو صرف دادا بننے کے بعد نصیب ہوتی ہے۔
پھر ایک دن ایسا آیا جو میری زندگی کے خوبصورت ترین اور دردناک ترین لمحوں میں ہمیشہ کے لیے قید ہوگیا۔ حریم اُس وقت ساڑھے چار ماہ کی ہوئی تھی۔ ابا جی نے پہلی بار اپنی پوتی کو کپ میں پانی پلایا۔ بڑی محبت سے آدھا بسکٹ نرم کرکے اس کے منہ میں دیا۔ حریم معصومیت سے انہیں دیکھتی رہی اور ابا جی کی آنکھوں میں خوشی تیرتی رہی۔
مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ منظر ہماری زندگی کا آخری روشن منظر بننے والا ہے۔ اس کے چند دن بعد اچانک ہارٹ اٹیک نے ابا جی کو ہم سے چھین لیا۔ گھر میں کہرام مچ گیا۔ وہی گھر جو چند دن پہلے حریم کی کلکاریوں اور ابا جی کی ہنسی سے آباد تھا، اچانک یتیم سا لگنے لگا۔ میں نے اُس دن پہلی بار محسوس کیا کہ والد صرف گھر میں نہیں رہتے، وہ پورے گھر کی روح ہوتے ہیں۔
اب برسوں گزر چکے ہیں۔ حریم بڑی ہو چکی ہے مگر آج بھی جب میں اسے دیکھتا ہوں تو مجھے ابا جی یاد آ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حریم کی ہنسی میں ابا جی کی محبت آج بھی کہیں زندہ ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، باپ رخصت ہو جاتے ہیں مگر انکی محبتیں کبھی مر نہیں پاتیں۔ وہ نسلوں میں سانس لیتی رہتی ہیں اور سچ پوچھیں تو بعض دادا اپنی پوتیوں کے دلوں میں دفن نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔۔

