Aman Ka Husool Sabr Azma Manzil
امن کا حصول صبر آزما منزل

ستمبر 1978 کی ایک گہری شام تھی۔ کیمپ ڈیوڈ کے پرسکون جنگلات میں دو ایسے رہنما اکٹھا ہوئے جو برسوں سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے سمجھے جاتے تھے۔۔ انور سادات اور مناخم بیگن۔ بارہ دن تک بات چیت جاری رہی۔ کئی بار مذاکرات ٹوٹنے کے قریب پہنچے، دروازے بند ہوئے، لہجے تلخ ہوئے مگر آخرکار ایک معاہدہ طے پایا جسے تاریخ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کے نام سے یاد رکھتی ہے۔ اس معاہدے نے یہ ثابت کیا کہ دہائیوں کی دشمنی ایک دن میں ختم نہیں ہوتی مگر ایک دن ایسا ضرور آتا ہے جب اس کے خاتمے کا آغاز ہو جاتا ہے۔
اسلام آباد میں حالیہ مذاکرات کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان اکیس گھنٹے کی طویل گفت و شنید کا "بے نتیجہ" ختم ہونا بظاہر ایک ناکامی محسوس ہو سکتا ہے مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ بین الاقوامی سفارت کاری میں "دروازے بند نہ ہونا" ہی سب سے بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ وہ دو ممالک ہیں جن کے درمیان کشیدگی کی جڑیں صرف حالیہ جنگ تک محدود نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط ہیں۔ 1979 کا ایرانی انقلاب، اس کے بعد سفارتی تعلقات کا خاتمہ، پابندیاں، پراکسی تنازعات۔۔ یہ سب ایک ایسی دیوار بن چکے ہیں جسے ایک نشست میں گرانا ممکن نہیں۔ اس کے ساتھ اگر حالیہ چالیس دن کی شدید عسکری کشیدگی کو بھی شامل کر لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ فاصلہ کتنا گہرا ہے۔
ایسے میں اگر پاکستان نے جنگ کے فریقین کو ایک میز پر آمنے سامنے بٹھا دیا، جنگ بندی کے لیے ماحول پیدا کیا اور بات چیت کا سلسلہ شروع کرا دیا تو یہ کوئی معمولی پیش رفت نہیں۔ آج پوری دنیا پاکستان کو ایک ذمہ دار ایٹمی طاقت کے طور پر ڈسکس کر رہی ہے جو کوئی معمولی پیش رفت نہیں ہے۔ دنیا کی سفارتی تاریخ میں ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں جب ایک علاقائی ملک اس درجے کا کردار ادا کر سکے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں جذباتی ردعمل کے بجائے حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ ہر قیمت پر اس عمل کو ناکامی کیوں ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک تو ہماری اپنی قومی نفسیات ہے جہاں ہم اکثر اپنی کامیابیوں کو تسلیم کرنے میں ہچکچاتے ہیں۔ دوسرا بین الاقوامی سیاست میں ہمیشہ ایسے حلقے موجود ہوتے ہیں جو نہیں چاہتے کہ کوئی نیا ثالث ابھرے یا کسی توازن میں تبدیلی آئے۔ مگر میں بطور طالب علم بین الاقوامی تعلقات یہ سمجھتا ہوں کہ سفارت کاری کوئی فلمی منظر نہیں جہاں ایک ہی نشست میں سب کچھ طے ہو جائے۔ یہ ایک طویل، صبر آزما اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) بھی ایک دن میں طے نہیں ہوا تھا بلکہ برسوں کی بات چیت، اتار چڑھاؤ اور بے شمار رکاوٹوں کے بعد ممکن ہوا تھا۔ اس لیے موجودہ مذاکرات کو اسی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔
یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے کہ دونوں فریقین نے میڈیا کے سامنے یہ واضح کیا کہ "اگرچہ ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے مگر بات چیت کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ پاکستان نے بہترین بندوبست کیا جس کیلئے شکرگزار ہیں"۔ بین الاقوامی تعلقات میں یہ جملہ محض رسمی نہیں ہوتا بلکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ پسِ پردہ رابطے جاری رہیں گے، اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں گے اور کسی مناسب وقت پر اگلا دور شروع ہو سکتا ہے۔۔ چاہے وہ پاکستان میں ہو یا کسی اور ملک میں۔
اصل مسئلہ بداعتمادی ہے اور بداعتمادی کا علاج وقت، تسلسل اور نیت سے ہوتا ہے۔ اگر پاکستان اس عمل میں ایک سہولت کار (facilitator) کے طور پر اپنا کردار جاری رکھتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی سفارتی ساکھ کو مضبوط کرے گا بلکہ خطے میں استحکام کے امکانات کو بھی بڑھائے گا۔
آخر میں بات وہی آتی ہے جو تاریخ ہمیں سکھاتی ہے۔
امن کے عمل کو فوری نتائج کے پیمانے پر نہیں پرکھا جاتا۔ یہ ایک سفر ہوتا ہے جس کا ہر قدم اپنی جگہ اہم ہوتا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ نشست بھی اسی سفر کا ایک قدم ہے۔۔ شاید چھوٹا مگر ضروری۔
اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں بطور قوم یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ہر مثبت پیش رفت کو شک کی نگاہ سے دیکھیں گے یا اسے ایک امید کے طور پر قبول کرکے آگے بڑھیں گے۔

