Saturday, 21 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Aik Aham Sawal

Aik Aham Sawal

ایک اہم سوال

ایران کی جانب سے شدید مزاحمت کے پیش نظر کچھ سنجیدہ یار دوست یہ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک سٹیج پر جا کر امریکہ ایران پر محدود نوعیت کا نیوکلیئر اٹیک کر دے جیسا کہ انھوں نے ہیروشیما پر کیا تھا جب جاپان نے سرنڈر کرنے سے انکار کیا تھا آج ایران بھی ویسا ہی کر رہا ہے۔ یہ سوال بہت سنجیدہ نوعیت کا ہے اور اس کا جواب جذبات یا قیاس آرائی کے بجائے بین الاقوامی سیاست اور عسکری حکمتِ عملی کی حقیقتوں کو سامنے رکھ کر دینا چاہیے۔ اگر اس سوال کو دیکھا جائے تو چند بنیادی نکات سامنے آتے ہیں۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ امریکہ ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کی نیوکلیئر پالیسی دہائیوں سے ایک خاص اصول کے گرد گھومتی ہے جسے Nuclear Deterrence کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کا بنیادی مقصد ایٹمی ہتھیار استعمال کرنا نہیں بلکہ دشمن کو اس کے استعمال کے خوف سے روکنا ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایٹمی ہتھیار زیادہ تر "استعمال کے لیے نہیں بلکہ روکنے کے لیے" رکھے جاتے ہیں۔ جہاں تک جاپان پر ایٹم بم گرانے کا تعلق ہے تو اس وقت کے معروضی حالات کچھ اور تھے آج اس سے یکسر مختلف ہیں۔ اس وقت ایٹم بم سے جس قدر تباہی ہوئی وہ کسی کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھی۔ آج 80 برس گزرنے کے بعد بھی امریکہ کے اس سیاہ اقدام کو مختلف فورمز پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

دوسرا یہ کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کسی نوعیت کی شدید جنگ یا شدید عسکری تصادم ہو بھی جائے تو عملی طور پر امریکہ کے پاس روایتی (کنونشنل) فوجی طاقت کی اتنی بڑی برتری موجود ہے کہ اسے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی عسکری ضرورت کم ہی پیش آئے گی۔ امریکہ کی فضائیہ، بحریہ، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر اور میزائل سسٹمز پہلے ہی دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔ اس لیے کسی محدود جنگ میں نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنا اس کے اپنے اسٹریٹجک مفاد کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔

تیسری بڑی وجہ سیاسی اور سفارتی نتائج ہیں۔ اگر امریکہ کسی غیر ایٹمی ریاست کے خلاف نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرتا ہے تو اس سے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا ہوگا۔ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بیشتر ممالک اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنائیں گے۔ اس سے امریکہ کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے اور ممکن ہے کہ اس کے اتحادی بھی فاصلے اختیار کر لیں۔

تیسرا اور شاید سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ایٹمی ہتھیار کے استعمال سے خطے میں ایک نئی اور بے قابو دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔ اگر ایک بڑی طاقت نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرتی ہے تو دیگر ممالک بھی اپنے دفاع کے لیے ایٹمی پروگرام کو تیز کر سکتے ہیں۔ اس طرح دنیا میں ایٹمی پھیلاؤ بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، جسے روکنے کے لیے نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی جیسے عالمی معاہدے بنائے گئے تھے۔

اب سوال کا دوسرا پہلو بھی دیکھنا ضروری ہے: کیا ایسی کوئی صورت ہو سکتی ہے جس میں امریکہ محدود نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرے؟ نظریاتی طور پر کچھ عسکری ماہرین ایک انتہائی غیر معمولی صورتحال کا ذکر کرتے ہیں مثلاً اگر کسی دشمن کے پاس ایسی زیر زمین تنصیبات ہوں جنہیں روایتی ہتھیاروں سے تباہ کرنا ممکن نہ ہو یا اگر کسی بڑے پیمانے کی جنگ میں امریکہ کو اپنی افواج کے لیے فوری فیصلہ کن برتری حاصل کرنا ضروری ہو۔ تاہم یہ صرف نظریاتی بحث ہے۔ عملی سیاست میں ایسے فیصلے انتہائی آخری اور تقریباً ناقابلِ تصور مرحلے پر کیے جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جدید دور میں ایٹمی ہتھیار کا استعمال صرف عسکری فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسا سیاسی اقدام ہوتا ہے جس کے اثرات نسلوں تک رہ سکتے ہیں۔ اسی لیے دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک دنیا میں ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کیے گئے حالانکہ اس دوران کئی بڑی جنگیں ہو چکی ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی یا شدید جنگ بھی ہو تو موجودہ عالمی حالات میں امریکہ کی جانب سے نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرنے کا امکان بہت کم سمجھا جاتا ہے۔ عسکری ضرورت، عالمی ردعمل، سیاسی نقصان اور خطے میں عدم استحکام۔۔ یہ تمام عوامل ایسے فیصلے کو انتہائی مشکل اور غیر محتمل بنا دیتے ہیں۔ البتہ عالمی سیاست میں کسی امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جنگیں اکثر غیر متوقع موڑ اختیار کر لیتی ہیں۔ لیکن عمومی تجزیہ یہی ہے کہ نیوکلیئر ہتھیار اب بھی زیادہ تر "ڈرانے کے ہتھیار" ہیں، "استعمال کے ہتھیار" نہیں۔

Check Also

Har Mard Doosri Shadi Kyun Nahi Kar Sakta?

By Hafeez Babar