Wednesday, 13 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ali Akbar Natiq
  4. Safarnama e Hijaz o Arab, Mazi o Haal Ki Tareekh Ka Darwaza

Safarnama e Hijaz o Arab, Mazi o Haal Ki Tareekh Ka Darwaza

سفرنامہ حجاز و عرب، ماضی و حال کی تاریخ کا دروازہ

مَیں پہلی بار مکہ میں داخل ہوا تب 1994 کا زمانہ تھا اور میری عمر اکیس سال تھی۔ اُس وقت مکہ شہر چھوٹا تھا، نائی بہت تھے۔ بھارت اور پاکستان میں جسے ویزہ میسر آتا وہ نائی بن جاتا بلکہ اکثریت اُن حاجیوں کی تھی جو ہر سال حاجی کے روپ میں جاتے۔ ڈیڑھ ماہ نائی رہتے، سال بھر کی روٹیاں سیدھی کرتے اور پاکستان میں الحاج بن کر آڑھت چلاتے۔ اگلے سال پھر حج۔ مَیں نے ایسے بیسیوں نائی دیکھے جو سر کے بال اور حاجی کے کان، دونوں چیزیں ایک ہی وار میں اُڑا دیتے۔

مَیں یہاں عمرے کے ویزے سے داخل ہوا تھا۔ اصل میں مجھے جدہ میں ایک سُنارے کے پاس جانا تھا اور اُنھی کے ساتھ زر گری کرنی تھی۔ مَیں نے کام تو کرنا تھا لیکن اصل میرا مقصد حجاز کی زیارتیں تھیں۔ جب مَیں جدہ میں اُترا، رات کی دنیا تھی۔ اجنبی شہر تھا۔ میرے پاس احرام نہیں تھا اور عمرہ کی بابت علم کم تھا۔ دل میں فیصلہ کیا پہلے جدہ چلوں، وہاں ایک رات اپنے سُنارے دوست کے ہاں رہوں۔ اگلے دن احرام اور عمرہ کی معلومات پلے باندھ کر مکہ روانہ ہو جائوں گا۔ پہلے عمرہ کروں گا، پھر مدینہ جائوں گا، اُس کے بعد جدہ میں اُن کی دکانوں پر کام کرنے بیٹھوں گا۔

مکہ میرے لیے اُن اساطیری دنیائوں سے کم نہیں تھا جسے دیکھنا اور اُس کی گلیوں میں پھرنا انسانی خواب ہوتا ہے جو حقیقت میں نہ بدل سکے۔ حجاز کے لیے گھر سے نکلتے ہوئے اجنبی شہروں کا سفر نہیں تھا، یہ اُن زمانوں کا سفر تھا جو چودہ سو سال وآپس لے جانے والے تھے۔

مَیں جیسے ہی ایمیگریشن ہال سے باہر نکلا عرب کے چند لونڈوں نے وہیں روک لیا اور پاسپورٹ قبضے میں لے کر کہا، دیکھو یہاں سے تمھیں گاڑی سیدھی مکہ لے کر جائے گی۔ جدہ شہر میں نہیں جا سکتے تمھیں پاسپورٹ مکہ میں ملے گا۔

میرے ساتھ کئی دوسرے مسافروں کے پاسپورٹ بھی اُن کی گرفت میں تھے۔ مجھے مکہ جانے میں قباحت نہیں تھی بلکہ اُسی کا شوق یہاں لایا تھا لیکن مَیں اُن دِنوں شرعی مسلمان تھا۔ احرام کے بغیر صحنِ حرم میں داخل نہ ہو سکتا تھا اور احرام پاس نہیں تھا۔ دماغ میں ہرگز یہ نہ آیا کہ ایئر پورٹ سے مل سکتا ہے اور حِل کے کسی مقام پر پہنا جا سکتا ہے؟

مَیں نے سُن رکھا تھا سعودی عرب میں جانے کے بعد اگر پاسپورٹ آپ سے لے لیا جائے تو سمجھ لو آپ اندھے بھی ہیں اور اپاہج بھی۔ اِس کے بغیر کہیں آنا جانا ممکن نہیں، کام ملنا تو دُور کی بات۔ آخر ایک آدمی نظر آیا، اُس نے مجھ سے میری مشکل پوچھی۔ مَیں نے اپنی رام کہانی سنائی۔ وہ مسکرا کر بولا، میاں لڑکے ہم اہلِ قبلہ ہیں اور یہ اہلِ کعبہ ہیں، ہمارے اِن کے مزاج ملتے ہیں۔ جیب سے پچاس ریال نکال کر شُرطے کی مُٹھی میں دو اور پاسپورٹ لے لو۔ مَیں نے کہا واللہ کیا جادوگر آدمی ہو۔ اُسی وقت یہ فعل انجام دیا اور پاسپورٹ حاصل کیا۔ آپ یقین کریں سرزمینِ حجاز میں یہی میری پہلی عبادت تھی۔ اُس کے بعد مَیں جدہ روانہ ہوا اور اگلے دن دوست سے احرام لے کر باندھا۔ چار آدمیوں کے ساتھ ایک ٹیکسی شیئر کی۔ میرے حصے کی ادائیگی میں دس ریال آئے اور ٹیکسی چل پڑی۔ اِدھر ٹیکسی مکہ روانہ ہوئی اُدھر مجھے تاریخ کی زنبیل نے اپنے اندر کھینچ لیا جس میں ہزاروں زمانے تھے۔ یقین مانیے راستے کے ہر پہاڑ اور گزرگاہ پر میرے تخیل نے رسولِ خدا کے ہمراہ ابوطالبؑ کے تصور کی گرہ باندھے رکھی۔

آخر ایک مقام پر ٹیکسی رُک گئی۔ یہ باب العمرہ تھا اور غالباً کعبہ کا جنوبی دروازہ تھا۔ حج اور رمضان کے ایام نہیں تھے اِس لیے ہجوم نہ ہونے کے برابر تھا۔ سامنے قدرے ایک تنگ میدان تھا جہاں سُرمئی کبوتروں کی بہتات تھی۔ فرش تارکول کا تھا اور اُس سے آگے حرم کا دروازہ تھا۔ میرے ارد گرد ایک دو افراد کے علاوہ اِس جگہ کوئی نہیں تھا۔ حرم کے بلند و بالا مینار میرے سامنے اپنی بلندی اور ہیبت سے مجھے دبا رہے تھے۔ ارد گرد صاف ستھری دکانیں تھیں جن میں مقامی اشیا بِکنے کے لیے پڑی تھیں۔ اِن عمارتوں اور حرم کے دروازے کی بلندی کے درمیان یہ جگہ ایسے کنویں سے مشابہ تھی جہاں مَیں اپنی کوتاہ قامتی کے زینے عبور کرکے خوش بختی کی بلندی پر کھڑا تھا اور اُس دروازے کو دیکھ رہا تھا جس کو ابھی پار کرکے اُن دیواروں کو مَس کرنے والا تھا جسے کائنات کی تاریخ کا مرکز قرار دیا گیا تھا۔ مَیں نے کیا قسمت پائی تھی کہ اِن تارکول کی سڑکوں کے نیچے وہ سنگریزے چھپے تھے جن پر رسولِ خدا کے قدموں کے نشان ثبت تھے اور مَیں وہاں گزر گاہی کا مقدر رکھتا تھا۔

مَیں نے ایک دفعہ وہیں رُک کر چاروں طرف بھر پور نگاہ کی۔ اُس تنگ جگہ سے اوپر پھیلے ہوئے وسیع آسمان کو دیکھا جہاں پر اِس جگہ کی طنابیں چڑھتی تھی۔ ایک گھنٹہ یا اِس سے بھی زیادہ دیر وہیں کھڑا رہنے کے بعد میں دروازے کی سمت بڑھا اور آہستہ خرامی سے یوں حرم میں قدم رکھا جیسے میرے قدموں کی آواز سے فرشِ کعبہ کو گزند نہ پہنچ جائے۔ یہ تب کا زمانہ تھا جب کعبہ کے صحن میں دالان در دالان اور صحن در صحن نہ تھے۔ اِدھر آپ اندر قدم رکھتے تھے اُدھر سامنے کعبہ کی سیاہ چوکھٹا عمارت آپ کی آنکھوں کو گھیر لیتی تھی۔ جونہی مَیں حرم میں آیا کعبہ کو اپنے سامنے پایا اور لبیک اللہ ھمہ لبیک کے کلمات دہراتا ہوا آگے کھنچا چلا گیا۔

مجھے تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں، لبیک کے لفظ میری زبان پر تھے مگر آنکھوں میں کعبہ کی اساطیری ہیبت اور دل میں چودہ سو برس پہلے کی تاریخ کے باب کھل رہے تھے۔ حیرت بہت حیرت اُس وقت ہوئی جب دیو قامت عمارتوں کے اندر ایک سیاہ کوٹھڑی میرے سامنے تھی اور اُس کا دبدبہ طواف کرتے سفید احرام والوں، بلند سنگیں عمارتوں حتیٰ کہ کوہِ ابو قبیس کی کج پگڑیوں کو روند رہا تھا۔ یہ میرے ایمان کا اشتیاق بھی ہو سکتا ہے مگر مجھے اِس میں کلام نہیں کہ اُس وقت مَیں کعبہ کی ہیبت سے گویا اپنے ہی قد میں کچلا گیا تھا۔ کیا یہ وہ غلاف میں لپٹا ہوا چوکور کوٹھا ہے جس کے ارد گرد رسولِ خدا، علیؑ و فاطمہؑ اور اُن کے کُنبے کے معصوم افراد نے قدم آزمائی کی، اِس کے دیواروں کو قبلہ بنا کر خدا کے سامنے جبہ سائی کی؟ بالکل یہ وہی ہے۔ ہاں اُن کے لیے یہ وہی مکان ہے جنھیں تاریخ اور خاندانِ نبوت کی قربت حاصل ہے ورنہ تو لوگ اِسے ثواب کی کارگاہ سمجھ کر کولہو کے بیل بنتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔

دوپہر کا عالم تھا۔ طواف کرنے والے افراد کی تعداد دو ڈھائی سو سے زیادہ نہیں تھی۔ مَیں بھی اِنھیں میں ایک تھا یا مجھ سمیت یہ سب کسی ایک سائے میں چل رہے تھے۔ مَیں اِس بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔ بس اتنا یاد ہے ہر طوف میں حجرِ اسود کو بھی بھرپور بوسہ دیا اور اُس کے بعد رُکنِ یمانی کو بوسہ دیا۔ عمرہ کے جو آداب تھے سب بجا لایا، اُس کے بعد اُن نشانیوں کی طرف پھرا جن کے سبب خود کعبہ اب تک آباد ہے۔

مَیں نے دیکھا مختلف ستونوں کے ساتھ لگے بیٹھے افراد زمین کے مختلف خطوں سے آئے ہیں مگر ایک دوسرے سے اجنبی ہیں۔ اُن کی زبانیں اور نین نقش اور رنگ ایک دوسرے سے اختلاط اور میل جول میں خندق پیدا کیے ہوئے ہیں اور ہندوستانی تو اِن میں ایسے اجنبی ہیں جیسے شودر اپنے برہمنوں سے۔ مجھے لگا خدا کا کعبہ میں دنیا کی مختلف اقوام کا اکٹھا کرنے کا مقصد گویا فوت سا ہوگیا ہے۔ خدا نے چاہا ہوگا اہلِ زمین ایک جگہ اکٹھا ہو کر ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں، ہم جسم ہوں مگر یہاں دُوریاں ویسے ہی موجود ہیں جیسی اُن میں تھیں۔ گورے رنگ والے کالوں سے دُور ہیں، عربی عجمی سے دُور ہے اور ترکی حبشی سے دُور ہے۔ سب اپنے ہی گروہ میں بیٹھے ہیں۔

مجھے خوب معلوم ہے صفا و مروہ کی دونوں پہاڑیاں کھلی ہوئی تھی۔ بلکہ اُن کے پتھر گھس گھس کے اتنے چمکدار ہو گئے تھے کہ سیاہ ہیروں کے ٹیلےلگتے تھے۔ یہ دونوں پہاڑیاں کعبہ کے مشرق کی طرف شمالاً جنوباً ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر تھیں۔ ایک پہاڑی پر بہت سی خواتین سفید احرام میں یوں بیٹھی تھیں جیسے سیاہ ٹیلے پر کچھ سفید پریاں بیٹھی ہوں۔

اُس وقت زمزم کا حوض بھی سلامت تھا۔ اگرچہ ٹونٹیاں لگ گئی تھیں مگر کنویں کی جگہ باقی تھی۔ حرم کے صحن کے دالانوں میں جا بجا اُن جگہوں کی نشان دہی بھی کر دی گئی تھی جہاں اہلِ مکہ کے گھر تھے یا مکان تھے۔ مثلاً ایک جگہ ایک ستون پر لکھا تھا۔ "اِس جگہ علیؑ کی بہن امِ ہانی کا گھر تھا" یہاں رسولِ خدا اکثر مجلس رکھتے تھے اور موحدین اُن سے ملاقات کرتے تھے۔ جو کلمہ پڑھنا چاہتے تھے یا پڑھ چکے تھے۔ حضرت عمر نے بھی جس جگہ آ کر اسلام قبول کیا وہ بھی یہی مقام تھا۔ ایک جگہ دارالندوہ کا نشان لگایا ہوا تھا۔ یہ جگہ کعبہ سے شمال کی جانب ستر میٹر کے فاصلے پر تھی۔ پہلے یہاں چھوٹی سی ہشت دری بنی ہوئی تھی لیکن اب وہ بھی ختم کر دی گئی تھی۔ دارالندوہ کے ساتھ جُڑا ہوا ایک بہت اہم واقعہ ہے۔ اُس واقعے سے پہلے میرا خیال ہے اِس مقام کا تعارف کرا دیا جائے۔

سب کو معلوم ہے مکہ خاص قریش کا شہر تھا اور کوئی دوسرا قبیلہ یہاں نہیں بستا تھا۔ قریش کی آگے بہت سی شاخیں تھی اور ہر شاخ کو ایک چھوٹے قبیلے کا درجہ حاصل تھا اور اُنھوں نے اپنا اپنا سردار مقرر کر رکھا تھا۔ یہ سردار اُن کے مسائل لے کر قریش کے مرکزی سردار کے پاس جاتا۔ قریش کی ایک مجلسِ شوریٰ تھی جس میں ہر قبیلے کا سردار بیٹھ کر اپنے قبیلے کی نمایندگی کرتا۔ وہ مرکزی سردار تمام معاملات کا حتمی فیصلہ کرتا۔ یہ شوریٰ جہاں منعقد ہوا کرتی اِس عمارت کو دارالندوہ کہا جاتا تھا۔

دار الندوہ کو قصی ابنِ کلاب نے بنایا تھا۔ اُن کے بعد مرکزی سرداری ہاشم کے پاس تھی۔ پھر ہاشم کے بھائی مطلب کے پاس چلی آئی۔ مطلب کے بعد اُن کے بھتیجے یا ہاشم کے بیٹے اور رسولِ خدا کے دادا عبدالمطلب کے پاس آئی اور اُن کے بعد جنابِ ابوطالبؑ کے پاس آ گئی۔ رسولِ خدا کے ظہور کے وقت قریش کے مرکزی سردار حضرت ابوطالبؑ تھے۔ جبکہ قریش کی شوریٰ کے ممبران میں عمر ابن ہشام (ابوجہل)، عتبہ ابن ربیعہ، خطاب ابن نوفل (یہ وہی نوفل عبدالمطلب کا چچا ہے جس نے ایک دفعہ عبدالمطلب کے کنویں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اِس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے) ولید ابن مغیرہ، عاص ابن وائل، ابو سفیان سخر ابن حرب، متم ابن عدی، اُمیہ ابن خلف اور ودیگر ارکان شامل تھے۔

رسولِ خدا کے اعلانِ نبوت کے بعد ابو طالبؑ اور شوریٰ کا معاملہ بگڑ گیا۔ یہ شوریٰ رسولِ خدا کے خلاف جو بھی فیصلہ کرتی، جنابِ ابوطالبؑ اُسے ویٹو کر دیتے اور اعلانیہ اپنے بھیجتے اور خدا کے رسول کی حفاظت کرنے لگے۔ جبکہ قریش کے چھوٹے سردار مخالفت پر ڈٹے رہے۔ یوں جنابِ ابو طالبؑ اور قریش کے درمیان ایک سرد جنگ شروع ہوگئی جو آہستہ آہستہ شدید دشمنی میں بدل گئی۔

البتہ عاص بن وائل اور عتبہ بن ربیعہ کا رویہ کچھ نرم تھا۔ عتبہ ابن ربیعہ نے قریش کو مشورہ دیا اور کہا محمد ﷺ کو باقی عربوں پر چھوڑ دینا چاہیے۔ ہمیں نہ اِن کی حمایت کرنی چاہیے نہ مخالفت۔ اگر باقی عرب اِسے رد کردیں گے تو قریش کا کام بھی ہو جائے گا اور مکہ کے حالات جیسے چل رہے ہیں ویسے ہی لوٹ آئیں گے۔ اگر عرب نبی کریم ﷺ کی بات تسلیم کر لیتے ہیں تو محمد ﷺ کی عزت قریش کی عزت تصور کی جائے گی۔

لیکن شوریٰ میں شامل کئی لوگوں نے عتبہ کی بات ٹھکرا دی۔ اِن میں پیش پیش عمر بن خطاب کے ماموں یعنی بنی مخزوم کے سردار عمر ابن ہشام المعروف ابو جہل، بنو امیہ کا سردار ابوسفیان، ولید ابن مغیرہ، اُمیہ ابن خلف وغیرہ تھے۔ یہ کھل کر مخالفت کر رہے تھے اور کسی بھی طرح نبی کریم ﷺ کا نعوذباللہ خاتمہ چاہتے تھے۔ مگر بنی ہاشم کی طاقت اور ابو طالبؑ کی قدرت سے خوفزدہ تھے۔

دشمنوں کے درج بالا خیالات کے بیچ ہی دو ایسے واقعات پیش آ گئے جنھوں نے اُن کو مزید ہلا کے رکھ دیا۔ ہم اِن دونوں واقعات کی تفصیل یہاں پیش کرتے ہیں۔

Check Also

Kitab Tehzebon Ki Maa: Ghubar e Khatir (20)

By Asif Masood