Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ali Akbar Natiq
  4. Maa

Maa

ماں

گاوں میں ہمارا گھر تھا اور گھر کچا تھا۔ ابا میاں عراق میں تھے، وہاں کام کرتے تھے، تب ہم چار بھائی اور ایک بہن تھے۔ بہن تو سکول جاتی پھر گھر میں رہتی۔ چوتھا بھائی بہت چھوٹا تھا۔ ہم تین بھائی ذرا بڑے تھے، یہی کوئی دس سے بارہ سال کی عمریں تھیں۔ مَیں سب سے بڑا تھا، مجھ سے چھوٹا علی اصغر مرحوم 10 سال کا تھا اور اُس سے چھوٹا افضل سات سال کا۔ ہمارے گھر میں تین عدد بڑے کوٹھے تھے۔ گرمی کے دن صحن میں گزرتے جس میں ٹاہلیوں کی چھاوں ہوتی تھی۔ رات کو سب کی چارپائیاں اِسی میں بچھ جاتیں۔ صحن ذرا بڑا تھا۔ ایک کونے پر بھینسیں بندھی ہوتی تھیں اور دوسرے کونے پر ہم ہوتے تھے۔ سردیاں آتیں تو ایک کوٹھے میں ہم سب سوتے تھے۔ دوسرے کمرے میں چار بھینسوں کو باندھا جاتا۔ تیسرا کمرہ آگ جلانے کے کام آتا تھا۔ ہم تینوں بھائی سکول جانے سے پہلے اور سکول سے آنے کے بعد بھینسوں کی دیکھ بھال میں پھنسے رہتے۔ کبھی اُن کے واسطے چارہ لانا، کبھی نہر پہ لے جا کر نہلانا اور پانی پلانا۔

بھینسوں کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ بندہ خود تو بھوکا رہ سکتا ہے اُنھیں نہیں رکھ سکتا۔ ایک دن ہوا یہ کہ سردیاں کڑاکے کی تھیں اور آج سے تیس سال پہلے ہر سردیاں ہی کڑاکے کی ہوتی تھیں۔ یوں زمین پر سفید برف جم جاتی تھی۔ تالابوں اور نالوں پر برف کی پپڑیاں پڑی ہوتی تھیں۔ بعض تالابوں کی سطحوں پر تو ایسی برف کی تہہ چڑھ جاتی کہ اُن کے اوپر سے بلیاں اور کتے بھاگ کر نکل جاتے اور اُن کے پاوں کو پانی نہ چھو پاتا تھا۔ ہاتھ باہر نکالتے ہی ٹھٹھرتے اور گلے کو لگنے کی کرتے۔

ایک دن کا واقعہ ہے کہ ہم تینوں بھائی سکول سے پڑھ کر آئے۔ بادل ہر طرف گہرے چھائے تھے، یوں جیسے رات کالی نکلی آئی ہو۔ اِدھر ہم تینوں بھائیوں نے بستے گھر میں رکھے اور گدھی پر واہنا رکھا۔ اماں ہماری کہتی رہ گئیں، ابھی کچھ دیر سانس لے لو، بادلوں کا بہت زور ہے، یوں نہ ہو کہ باہر نکلو تو برس پڑیں۔ مگر ہم تب بالکے ہٹ دھرمی اور ضد کے پتھر ہوتے تھے۔ اپنی جگہ جو پکڑتے تھے تو نہ چھوڑتے تھے۔ ہمیں یہ تھا کہ جلد جلد چارہ کاٹ لائیں اور فارغ ہو کر کھیلنے کو جائیں۔ سکول سے آنے کے بعد کتابوں کو دوبارہ ہاتھ سکول ہی میں لگتا تھا۔ چنانچہ چارہ لانے اور کھیلنے کے علاوہ کوئی کام نہ تھا اور تعلیم ثانوی چیز ہوتی تھی۔

سردیوں کے دن یوں بھی چھوٹے ہوتے ہیں۔ ذرا دیر کرتے تو شام ہو جاتی۔ ہم نکل پڑے۔ گدھی ہمارے ساتھ تھی۔ گاؤں سے ڈیڑھ کلو میٹر دور ہمارا چارے کا کھیت تھا۔ وہاں پہنچ گئے۔ اِدھر گھٹا ایک سے اُوپر ایک چڑھی آتی تھی۔ ایسے لگتا تھا ابھی رات پڑ گئی ہے۔ ہم نے اِسی عالم میں جلدی جلدی چارہ کاٹنا شروع کر دیا۔ ہلکی ہلکی رم جھم اور سخت سرد ہوا ہمارے ہاتھ جمانے لگی۔ ٹھٹھراوا بہت ہونے لگا مگر ہم اپنے کام میں جُتے رہے۔ کھیت برسن کا تھا اور برسن پہلے ہی ٹھنڈی ہوتی ہے۔ چنانچہ چارے کا لمس بھی ٹھنڈا تھا مگر یہ ضرور تھا کہ چارہ کاٹنے کے دوران جسم کی ورزش سے سردی کا زور ذرا ہلکا ہوگیا تھا۔ ہمارے جسم پر پتلی سی اون کی جرسیاں تھیں۔ وہ بوسیدہ اور پھٹی ہوئی تھیں اور کسی طرح بھی سرد ہوا کو روکنے کے کام نہیں آتی تھں۔ اپنے آپ کو گرم رکھنے کے واسطے صرف ایک صورت تھی کہ چارہ کاٹنے میں تیزی برتی جائے تاکہ جسم گرم رہے۔ ابھی آدھا چارہ کاٹا تھا عین اُسی وقت بادلوں نے ببر شیر کی طرح گرجنا شروع کر دیا۔ اُن کی دھڑک ایسی تھی کہ جان دہلاتی تھی اور ہم بالکے دہلتے تھے۔ ارد گرد آدمی نہ آدمی ذات۔ سردی کا مقام الگ۔

تب گاؤں کے ارد گرد اور خود گاؤں کی سڑکیں بھی کچی ہوتی تھیں۔ ایک ذرا بارشوں کا زمانہ آیا نہیں کہ ہر طرف کیچڑ کے گھمسان ہو گئے، پھر تو کوئی یہاں پھنسا کوئی وہاں پھنسا۔ ہم جلدی جلدی اپنے کھیت سے چارا کاٹنے لگے لیکن ابھی تھوڑا ہی کاٹا تھا کہ بارش کے تریڑے برسنے لگے۔ لیجیے ایک تو سردی، دوسری ٹھنڈی بارش اور تیسرا ہم گھر سے باہر، عمریں چھوٹی چھوٹی اور نہایت نازک لڑکے، جان کے لالے پڑ گئے۔ ارد گرد سر چھپانے کو جگہ نہ تھی۔ کان لال ہو گئے، گال لال ہو گئے، ناکیں لال ہوگئیں اور اُن سے پانی بہنے لگا۔ ہاتھ زیادہ ٹھٹھرنے لگے۔ دانت بجنے لگے اور خون جمنے لگا اور صورت اِس سردی سے بچنے کی نظر نہ آتی تھی۔ جان حلق میں آ گئی۔ مجھے زیادہ فکر اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کی تھی، جن کے چہرے سُرخ سے نیلے ہونے لگے تھے۔

ضرورت ایجاد کی ماں ہے، بھلے سوتیلی ہو۔ ہمارے ایک خیال جی میں آیا۔ ہم نے جلدی سے گدھی کے اُوپر سے واہنا اُتار کر اُس کے اوپر یعنی کوہان کی جگہ پر وہ گدیاں رکھ دیں جنھیں گدھی پر رکھا جاتا ہے۔ پنجابی زبان میں اُن گدیوں کو جُھل کہا جاتا ہے۔ یوں واہنے کا درمیانہ حصہ ایک چھوٹا سا خیمہ بن گیا۔ اِس خیمے میں ہمارے بس سر ہی آ سکتے تھے۔ ہم اپنے سر اُن میں ڈال کر تینوں اُلٹے لیٹ گئے۔ اب یہ تھا کہ سر واہنے کے نیچے تھے اور پشتیں ہماری باہر کھلے آسمان کے بیچ تھیں۔ کھیت پانی سے بھر گیا تھا۔ شاید قدرت کو ہمارے سر بچانے مقصود تھے اور اُسی انتظار میں تھی کہ ہم واہنے کے نیچے ہو لیں۔

اچانک بارش کی بجائے یہ بڑے بڑے اولے پڑنے شروع ہو گئے۔ اولے کوئی پاؤ پاؤ بھر کے ایسے تھے جیسے آسمان سے سفید انڈے مگر پتھروں کی طرح سخت برس رہے ہوں۔ ایک بار تو مجھے لگا ہم کوئی مسخرے ہیں جن کا کھیل اللہ کو پسند نہیں آیا اور اُس نے ہم پر پتھر کے سفید انڈے مارنا شروع کر دیے ہیں۔ اب کیا تھا، سر تو خیر ہمارے بچے ہوئے تھے کہ اُن کے اوپر واہنا اور جُھل تھا مگر پُشتیں اور کمریں اور ٹانگیں کھلے آسمان میں تھیں اور ہم نازک لڑکے۔ اولے ہماری پُشتوں اور ٹانگوں پر برسنا شروع ہو گئے۔ بادل تھے کہ مست ہاتھیوں کی طرح چڑھے چلے آ رہے تھے اور لگتا تھا کہ بس آج نوح کا طوفان اور دنیا کی ساری برف یہیں برسے گی۔ اولے ہماری پُشتوں پر گولوں کی طرح لگتے تھے اور درد سے ہماری چیخیں آسمانوں کو بلند ہوتی تھیں۔ ہمیں تب تو ہوش نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے مگر اُس وقت جو واحد پکار کسی کو کی جا سکتی تھی وہ اللہ میاں ہی تھا لیکن وہ بارش اور اولوں کے شور میں سُن نہیں رہا تھا۔

ہماری گدھی پورے کھیت میں اڑنگے مارتی پھرتی تھی۔ اُسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اُس پر یہ پتھروں کی بارش کون کر رہا ہے۔ اولوں کے بم اُس پر تو کھلے عام برس رہے تھے۔ اُس بچاری کو خبر ہی نہیں تھی یہ آج کیا ہو رہا ہے۔ بھئی کچھ نہ پوچھو، اُن دنوں جنرل ضیا کے مجرموں کو بھی کوڑے لگتے تھے مگر اُن کی حیثیت اِن اولوں کے سامنے خاک نہیں تھی۔ ایک سے بڑھ کر ایک ضرب کولہوں پر لگتی تھی اور ہم چیختے تھے۔ اُس وقت واحد نصیحت جو ہمیں یاد آ رہی تھی وہ ہماری اماں کی تھی۔ کاش سُن لیتے اور بچ جاتے۔ دس پندرہ منٹ تک تو یہی سامان رہا گویا ہمیں نافرمانی کے مسلسل کوڑے مارے گئے ہوں۔ پھر یہ اولے تھم گئے اور منٹوں میں پوری دنیا برف زار ہوگئی۔

درد سے ہمارے جسم بے جان ہو چکے تھے اور گویا موت کا سا سامان بن گیا تھا۔ کچھ دیر تو ہم اُٹھ ہی نہیں سکے۔ گدھی ہماری اللہ جانے کہاں بھاگ گئی تھی۔ ارد گرد برف کی ایک فٹ کی تہیں جم گئی تھی اور ہم اُس میں دفن ہوئے پڑے تھے۔ سردی ایسی تھی کہ اللہ بچائے، مجھے سب سے زیادہ فکر چھوٹے کی تھی۔ اُس کی تو آخر میں چیخیں بھی نکلنا بند ہوگئی تھیں اور مَیں ایک تو خود روتا تھا دوسرا اُس کے لیے روتا تھا۔ ہمارے جسم نیلے پڑے جاتے تھے اور زبانیں بند ہوئی جاتی تھیں۔ قدم اٹھ نہیں سکتا تھا۔ مَیں سب سے پہلے اُٹھا پھر اپنے دونوں بھائیوں کو اُٹھایا۔ وہ ادھ موئے ہو چکے تھے اور اکڑ سے گئے تھے۔ ہم تینوں ایک درخت کے پاس جیسے تیسے آئے اور ایک ہی دم بیٹھ گئے۔ ٹانگیں چلنے سے جواب دے چکی تھیں۔ مَیں نے اپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھ پاوں کی مالش شروع کر دی۔ اتنے میں دور سے کیا دیکھتے ہیں کہ ہماری ماں دوڑی چلی آتی ہے۔ ہمیں اُس کو دیکھ کر کچھ حوصلہ ہوا۔

سڑک کچی تھی، کیچڑ اور برف کے سبب اُس کے پاوں ٹھیک طرح سے نہیں پڑ رہے تھے مگر وہ ایسے دوڑتی آتی تھی جیسے اونٹنی اپنے بچوں کے لیے بے چین ہو کر بھاگتی ہے۔ گاؤں سے ہمارے کھیت کا فاصلہ کم از کم آدھے گھنٹے کا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اُسی وقت گھر سے نکل پڑی ہوگی جب اولے پڑنا شروع ہوئے ہوں گے تبھی تو اتنی جلدی پہنچ گئی اور سب اولے راستے میں اُس کے اوپر برسے تھے۔ اُس کے اوسان خطا لگ رہے تھے۔ دوپٹا اللہ جانے کہاں گر گیا تھا۔ پاوں میں جوتے بھی نہیں تھے۔ قریب آ کر اُس نے ہم تینوں کو ایک دم اپنے سینے سے لگا لیا۔ اُس کی آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہہ رہے تھے۔ اُس کی آواز نہیں نکل رہی تھی مگر یوں لگا جیسے کہہ رہی تھی، ماں صدقے جائے، ماں مر جائے، میرے بیٹوں کے سر پر سارے اولے برسے ہیں۔۔

میری ماں نے وہیں سے میرے سب سے چھوٹے بھائی کو پہلو میں دبایا اور اُس سے بڑے کو کاندھے پر سوار کیا اور میری انگلی پکڑ کر گویا گھر کی طرف بھاگ ہی اٹھی۔ ہماری گدھی ہمارے پیچھے چل پڑی اور چارہ وہیں پڑا رہ گیا۔ کچھ نہ پوچھو ہم کتنی مشکلوں سے گھر پہنچے۔ ایک دم آگ جلائی اور ہمیں اُس کے سامنے بٹھا دیا۔ جب تپش پہنچنے لگی تو جان میں دم آیا۔ تب اُس نے دودھ گرم کیا، اُس میں انڈے ڈالے اور ہمیں پلایا۔ اِس سے ہمارے ہوش بحال ہوئے۔

کچے مکان کے اندر آگ جلے تو گویا ہیٹر جل جاتے ہیں۔ ہم بھی سردی سے نکل آئے۔ لیکن رات کو ہم تینوں کو پھر بخار نے پکڑ لیا۔ یوں ایک ہفتہ تک ہمارا نزلہ، بخار اور کھانسی جاری رہا مگر اِس میں ہم بہت خوش تھے کہ سکول سے پورا ایک ہفتہ جان چھٹی رہی تھی۔ اِن دِنوں بھینسوں کے چارے کے لیے ہم نے ایک ملازم رکھ لیا۔ آج بھی کبھی بادل زور سے گرجتا ہے تو نہ جانے کیوں بےاختیار پشت پر لگتے اولوں کی بجائے مجھے اپنی ماں کا چہرہ یاد آتا ہے۔ ہماری ماں سلامت رہے جس نے ہمیں پروں میں دبا لیا۔

Check Also

Kifayat Shaari Ke Daway Aur Zameeni Haqaiq Ka Tazad

By Fatima Tayyab Singhanvi