Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Akhtar Sardar Chaudhry
  4. Insaniyat Ki Falah Ke Liye Aik Ho Jayen

Insaniyat Ki Falah Ke Liye Aik Ho Jayen

انسانیت کی فلاح کیلئے ایک ہوجائیں

یہ دنیا ایک عارضی منزل ہے جہاں سے اربوں نہیں بلکہ کھربوں انسان گزر چکے ہیں اور فنا ہو چکے ہیں۔ آج بھی لاکھوں کروڑوں انسان یہاں موجود ہیں، جن میں ہر قسم کے لوگ شامل ہیں، مسلمان اور غیر مسلم، نیک اور بدکردار، ظالم اور مظلوم، جاہل اور دانش ور۔ تاہم، بعض ایسے افراد بھی موجود ہیں جو انسانی لباس میں ملبوس درندوں کی مانند ہیں۔ انہیں انسان کہنا بھی مناسب نہیں، کیونکہ وہ نیکی کی بجائے بدی، عدل کی بجائے ظلم اور رحمت کی بجائے شیطانی اقدار کے پجاری ہوتے ہیں۔

انسانیت اور شیطانیت کے درمیان یہ جنگ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی۔ شیطانیت اکثر انسان کے روپ میں ہی چھپی ہوتی ہے، جو فساد فی الارض کا سبب بنتی ہے۔ انسان کی اسی شیطانی فطرت نے دنیا کو رنج و الم کی تصویر میں تبدیل کر دیا ہے۔ انسان نما شیطانوں نے ہی ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے، ہٹلر نے یہودیوں پر جو مظالم ڈھائے، آج وہی مظالم فلسطین، کشمیر اور شام میں مختلف لباس میں دہرائے جا رہے ہیں۔ تاریخ خون اور آنسوؤں سے بھری پڑی ہے، جو یہ بتاتی ہے کہ ہمارے معاشروں میں شیطان کے بھٹکائے ہوئے لوگ گھسے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے انسانوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے۔

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا

انسانیت کی اصل تعریف یہ ہے کہ وہ محبت، الفت، ہمدردی، ایک دوسرے کی مدد، امن، بھائی چارہ اور ہم آہنگی پر مبنی ہو۔ انسانیت کا مطلب ہے دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا، ان کے درد کا مداوا کرنا اور یہ سب بلا تفریقِ مذہب، قوم، رنگ، نسل یا زبان کے کیا جائے۔ انسانیت کا رشتہ ایک انسان کا دوسرے انسان سے ہے، جیسا کہ رہبرِ انسانیت ﷺ نے فرمایا: "تم سب آدمؑ کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے"۔

آج ہمارے ارد گرد دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ انسانیت کا جذبہ خوابیدہ ہے۔ اکثریت کے دل مردہ ہو چکے ہیں، بلکہ پتھر سے بھی سخت ہو چکے ہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ بعض دلوں کو پتھر سے بھی سخت کر دیا گیا ہے۔ حقیقی انسان وہ ہے جس کا دل نرم اور زندہ ہو، دوسرے کے درد پر تڑپے اور لرزے۔ دردِ دل ہی انسان کی تخلیق کا مقصد ہے۔ خدمتِ خلق ہی معراجِ انسانیت ہے۔ وہ انسان ہے جو اللہ کے بندوں، اپنے بھائیوں اور تمام انسانوں کے لیے جیتا ہو، ان کی سردی گرمی، بھوک پیاس اور دکھ غم میں شریک ہو۔ جیسا کہ کہا گیا:

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

صرف وہی شخص دوسروں کے لیے مفید ہو سکتا ہے جسے آخرت کا خوف ہو اور صرف وہی دین انسانیت کا مستحق ہے جو ہمہ گیر اور آفاقی ہو۔ اسلام ایک امن پسند اور فطرت سے ہم آہنگ دین ہے۔ اسلام ہی کو دینِ انسانیت کہا جاتا ہے۔ اسلام میں انسانی حقوق کی اہمیت اور ان کا احترام اتنا بلند ہے کہ شاید کسی اور مذہب میں اس کا عشر عشیر بھی نہ ملے۔

اسلام نے انسانی حقوق، معاشرتی رشتوں، لین دین اور اخلاقیات کا مکمل نظام دیا ہے۔ بھوکے کو کھانا کھلانا، پیاسے کو پانی پلانا، بیمار کی عیادت کرنا، ظالم کو روکنا، سچی گواہی دینا۔ یہ سب اسلام کے احکام ہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ "جس نے بھوکوں کو کھلایا، پیاسوں کو پلایا اور بیمار کی عیادت کی، گویا اس نے اللہ کو کھلایا، پلایا اور اس کی عیادت کی"۔ (مشکوٰۃ شریف) اسلام نے یہ درس مذہب سے بلند ہو کر دیا، مسلم اور غیر مسلم میں کوئی تفریق نہیں کی۔

دنیا میں پروپیگنڈہ کے ذریعے اسلام کے خلاف افواہیں پھیلائی گئی ہیں، مگر جو حقائق کو جانتے ہیں، وہ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ارشادِ نبوی ﷺ ہے: "ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اور سب سے زیادہ اللہ کا محبوب بندہ وہ ہے جو اللہ کے کنبے کو نفع پہنچائے"۔ قرآن مجید میں ہے: "جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا"۔ (سورۃ المائدہ)

حضور نبی اکرم ﷺ کو "رحمت للعالمین" قرار دیا گیا ہےصرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جو کوئی معاہد (غیر مسلم) پر ظلم کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے خلاف لڑوں گا"۔ دیگر آسمانی مذاہب میں بھی انسانی جان کی حرمت اور احترام کے احکام موجود ہیں، مگر اسلام نے انہیں مکمل اور آفاقی شکل میں پیش کیا۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انسانیت کے علم بردار بنیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اہل کتاب سے مشترک نکات پر اتحاد کی دعوت دی ہے: "کہہ دو کہ اے اہل کتاب! جو بات ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے، اس کی طرف آؤ۔۔ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں"۔ (سورۃ آل عمران)

آئیے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو حقیقی رہنما بنا لیں۔ آپس میں اتحاد اور بھائی چارہ قائم کریں۔ انسانیت کی فلاح، امن و سلامتی اور مظلوم انسانیت کی نجات کے لیے ایک ہو جائیں، متحد ہو جائیں۔ انسانیت کی فلاح کے لیے ایک ہو جائیں!

Check Also

Dhai Saal Ka Inqilab

By Khalid Mahmood Faisal