Sindh Mein Third Party Insurance Ka Nifaz
سندھ میں تھرڈ پارٹی انشورنس کا نفاذ
ایک اخباری رپورٹ کے مطابق گزرے سال 2025 میں صرف کراچی 803 شہری ٹریفک حادثات میں لقمہ اجل بنے ان میں زیادہ تر لوگ ڈمپر یا واٹر ٹینکر کی ٹکر سے جاں بحق ہوئے۔ حکومت سندھ نے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروارہی ہے لیکن حادثات میں کمی نہیں آرہی ہے۔ آئے دن کوئی نہ کوئی خبر ملتی ہے کہ کوئی بے گناہ شہری حادثہ کا شکار ہوا۔ ٹریفک پولیس نے ای چالان، ہیلمٹ کی پابندی اور دوسری اصلاحات نافذ کی ہیں مثلاََ بھاری گاڑیوں کے شہر میں داخلے کے لیے مخصوص اوقات جیسے رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک مقرر کیے ہیں اور دن کے وقت ان کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع کردیا گیا ہے۔ اسی طرح قانوناً ہر ماہ ان گاڑیوں کا مکینیکل معائنہ ہونا چاہیے فٹنس سرٹیفکیٹ کی لازمی جانچ لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ بریک فیل ہونے جیسے واقعات کو روکا جا سکے۔
علاوہ ازیں ڈرائیورز کے لیے ہیوی لائسنس کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور منشیات کے ٹیسٹ لازمی قرار دیے گئے ہیں۔ سندھ حکومت نے ٹیکنالوجی کا بہترین استعمال کرتے ہوئے تمام ڈمپرز اور ٹینکرز کو احکامات دیے گئے ہیں کہ وہ اپنی ہیوی وہیکل میں ٹریکر لگوائیں تاکہ ان کی نقل و حرکت اور رفتار کی نگرانی کی جا سکے۔ حادثے کی صورت میں صرف ڈرائیور نہیں بلکہ گاڑی کے مالک اور متعلقہ کمپنی کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی ہواورغیر ذمہ دار ڈرائیور کو ثبوت کے ساتھ پکڑا جائے۔ اسی طرح شہر کے اندرونی علاقوں کے بجائے بھاری ٹریفک کے لیے مخصوص کوریڈورز یا متبادل بائی پاسز کا استعمال یقینی بنایا جارہا ہے۔
ان سب اصلاحات کے باوجود جب ہم قومی اخبارات پر نظر ڈالتے ہیں توآئے دن ان اندوہناک حادثات کی خبر پڑھنے کو ملتی ہے۔ جدید دور میں شہری زندگی کی سہولیات جہاں انسان کے لیے آرام کا باعث ہیں وہیں سڑکوں پر بڑھتا ہوا ٹریفک اور حادثات ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ پاکستان میں بالعموم سندھ اور بالخصوص کراچی میں سڑکوں کے حادثات کی شرح میں حالیہ برسوں میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان حادثات میں نہ صرف قیمتی جانوں کا زیاں ہوتا ہے بلکہ متاثرہ خاندان معاشی طور پر بھی تباہ ہو جاتے ہیں۔ ٹریفک حادثات تو پوری دنیا میں ہوتے ہیں کہیں کم اور کہیں زیادہ لیکن صوبہ سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گذشتہ سالوں میں ٹریفک حادثات کا رجحان کچھ زیادہ نظر آرہا ہے جب ان حادثات کی وجوہات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ڈمپر اور ٹینکر ڈرائیورز اکثر زیادہ چکر لگانے کے چکر میں شہر کی تنگ سڑکوں پر بھی بے تحاشہ رفتار سے گاڑیاں چلاتے ہیں۔
اسی طرح دیکھا گیا ہے کہ کچھ نااہل اور کم عمر ڈرائیورز بھی بہت سے ٹینکرز اور ڈمپر چلا رہے ہوتے ہیں جن کے پاس ہیوی وہیکل لائسنس نہیں ہوتا یہ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے کہ جب میری گاڑی کو واٹر ٹینکرنے ٹکر ماری تو پتہ چلا کہ ٹینکر کو 15 سال کا لڑکا چلارہا تھا۔ اسی طرح طویل ڈیوٹی کے باعث کئی ڈرائیورز بیدار رہنے کے لیے نشہ آور اشیاء یا ایسی ادویات کا استعمال کرتے ہیں جو ان کے حواس کو متاثر کرتی ہیں۔ نیز بریک فیل ہونا، ہیڈ لائٹس یا انڈیکیٹرز کا کام نہ کرنا اور پرانے ٹائر بھی بڑے حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح ون وے کی خلاف ورزی، ممنوعہ اوقات میں شہر میں داخلہ اور ٹریفک پولیس کی مبینہ چشم پوشی ان حادثات کو ہوا دیتی ہے۔
اس سنگین صورتحال کے پیش نظرسندھ حکومت نے موٹر وہیکل ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے تھرڈ پارٹی انشورنس (Third-Party Insurance) کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف قانونی اصلاحات کا حصہ ہے بلکہ ایک فلاحی کام کی جانب ایک بڑا قدم بھی ہے۔
دراصل انشورنس کی دنیا میں بنیادی طور پر دو اقسام مشہور ہیں ایک "فرسٹ پارٹی" (جہاں گاڑی کے مالک کو کوریج ملتی ہے) اور دوسری "تھرڈ پارٹی"۔ تھرڈ پارٹی انشورنس سے مراد وہ انشورنس ہے جس کا فائدہ براہِ راست گاڑی چلانے والے کو نہیں، بلکہ اس شخص کو ہوتا ہے جسے اس گاڑی سے نقصان پہنچا ہو۔ اس میں تین فریق شامل ہوتے ہیں فرسٹ پارٹی گاڑی کا مالک یا ڈرائیور۔ سیکنڈ پارٹی انشورنس کمپنی۔ تھرڈ پارٹی وہ راہگیر، دوسری گاڑی کا مالک یا پراپرٹی کا مالک جو حادثے کا شکار ہوا۔
پاکستان میں موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے تحت انشورنس پہلے ہی لازمی تھی، لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر تھا۔ سندھ حکومت نے محسوس کیا کہ زیادہ تر حادثات میں متاثرہ فریق کو کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ حادثہ کرنے والا شخص اکثر اتنا غریب ہوتا ہے کہ وہ جانی نقصان کا "خون بہا" یا مالی نقصان کا ازالہ نہیں کر پاتا۔ عدالتوں میں حادثات سے متعلق کیسز کی بھرمار ہے جو دہائیوں تک لٹکے رہتے ہیں۔
کراچی کی سڑکیں ہوں یا سپر ہائی وے یا قومی ہائی وے سڑک پر دوڑتی گاڑیوں میں عوام اس اعتماد کے ساتھ سفر کرتے ہیں کہ مذکورہ گاڑی فٹ ہوگی اور ڈرائیور بھی تجربہ کار اور نشئی نہیں ہوگا۔ لیکن جب اچانک سڑک پر حادثہ رونما ہوتا ہے تو سیکنڈوں میں زندگی کا نقشہ بدل جاتا ہے، تو پیچھے رہ جانے والے صرف آنسو نہیں، بلکہ وہ جاں لیوا سوالات ہوتے ہیں جن کا جواب کسی کے پاس نہیں ہوتا۔ کہ "اب علاج کے پیسے کہاں سے آئیں گےجو چلا گیا، اس کے بچوں کا سہارا کون بنے گا؟"
سندھ حکومت کا "تھرڈ پارٹی انشورنس" کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ دراصل انہی بے جواب سوالوں کا ایک جواب ہے۔ یہ قانون محض ایک سرکاری کاغذ یا چند روپوں کا پریمیم نہیں، بلکہ اس "تیسرے فریق" کے لیے ڈھال ہے جو کسی کی غفلت یا تقدیر کے فیصلے کا نشانہ بن جاتا ہے۔ وہ راہگیر جو سڑک پار کر رہا تھا یا وہ غریب رکشہ ڈرائیور جس کی سواری کسی بڑی گاڑی کی زد میں آ گئی ہو۔ دیکھا جائے توانسانی جان کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی، مگر حادثے کے بعد کے کرب کو مالی سہارا دے کر کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اس قانون کے تحت اب سڑک پر چلنے والی ہر گاڑی اپنی ذمہ داری ساتھ لے کر چلے گی۔
انشورنس کمپنی اس غیر دکھے ہاتھ کی طرح ہوگی جو حادثے کی صورت میں متاثرہ شخص کے زخموں پر مرہم رکھے گی اور اسے در بدر بھٹکنے سے بچائے گی۔ عوامی جمہوری حکومتوں کا یہ خاصا ہوتا ہے کہ وہ عوام کے مسائل پر بروقت حل کردیتے ہیں سندھ حکومت نے بھی ایک اہم عوامی مسئلے کو حل کرنے کے لیے قانون سازی کی۔ دوسری طرٖف عوام کو بھی چاہیے کہ وہ انشورنس کو ایک "بوجھ" کے بجائے ایک "سماجی ڈھال" کے طور پر دیکھیں۔ محکمہ ایکسائز اور ٹریفک پولیس کی یہ سختی دراصل شہریوں کی بھلائی کے لیےہے۔ جب آپ اپنی گاڑی کی رجسٹریشن کے ساتھ انشورنس کا سرٹیفکیٹ اپنی جیب میں رکھتے ہیں تو آپ صرف ایک قانون کی پاسداری نہیں کر رہے ہوتےبلکہ آپ عوامی فلاح و بہبود کے اس عہد نامے پر دستخط کیے ہوتے ہیں۔
دراصل تھرڈ پارٹی انشورنس سے مراد ایسی انشورنس ہے جو گاڑی کے مالک کو نہیں، بلکہ اس شخص (تیسرے فریق) کو تحفظ فراہم کرتی ہے جسے اس گاڑی کی وجہ سے جانی یا مالی نقصان پہنچا ہو۔ اگر آپ کی گاڑی سے کسی دوسرے کی گاڑی کو نقصان پہنچتا ہے یا کوئی شخص زخمی یا ہلاک ہو جاتا ہے تو انشورنس کمپنی اس کا ہرجانہ ادا کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ سندھ کابینہ نے موٹر وہیکل ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے اسے صوبے بھر میں سختی سے نافذ کرنے کی منظوری دی ہے۔ اب سندھ میں کسی بھی گاڑی کی رجسٹریشن یا سالانہ ٹیسٹ کلیئرنس کے لیے تھرڈ پارٹی انشورنس کا سرٹیفکیٹ ہونا ضروری ہوگا۔ انشورنس نہ ہونے کی صورت میں گاڑی کے مالک کو بھاری جرمانہ یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومت کے اس اقدام کے کئی مثبت پہلو ہیں۔ متاثرین کی مالی مددحادثے کی صورت میں غریب یا متوسط طبقے کے افراد کو فوری مالی ریلیف مل سکے گا۔ چاہے حادثہ کرنے والا شخص خود غریب ہی کیوں نہ ہو۔ عدالتی بوجھ میں کمی حادثات کے بعد ہرجانے کے کیسز سالوں عدالتوں میں چلتے ہیں۔ انشورنس کمپنی کے ملوث ہونے سے یہ عمل تیز ہو جاتا ہے۔ ڈرائیور کا تحفظ حادثہ کرنے والے ڈرائیور پر اچانک لاکھوں روپے کے ہرجانے کا بوجھ نہیں پڑتا، کیونکہ انشورنس کمپنی اسے کور کرتی ہے۔ سندھ حکومت کا یہ اقدام انٹرنیشنل سیفٹی اسٹینڈرڈز کے مطابق ہے۔ اس سے سڑکوں پر نظم و ضبط پیدا ہوگا اور حادثے کے متاثرین کو "خون بہا" یا علاج کے اخراجات کے لیے دربدر نہیں ہونا پڑے گا۔
اس تناظر میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ حادثہ کی صورت میں سب سے زیادہ تنقید حکومت پر ہوتی ہے اس حالات کو دیکھتے ہوئے صوبائی کابینہ نے اس قانون کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اسے سختی سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سندھ حکومت کی نئی پالیسی کے مطابق اب کوئی بھی گاڑی سڑک پر لانے کے لیے انشورنس سرٹیفکیٹ کا ہونا لازمی ہے۔ یہ قانون صرف بڑی گاڑیوں یا کاروں تک محدود نہیں ہے۔ اس میں موٹر سائیکل، رکشہ، بسیں، ٹرک اور تمام کمرشل گاڑیاں شامل ہیں۔ چونکہ سندھ میں موٹر سائیکلوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور حادثات میں ان کا تناسب سب سے زیادہ ہے، اس لیے ان پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اب کسی بھی نئی گاڑی کی رجسٹریشن اس وقت تک نہیں کرے گا جب تک تھرڈ پارٹی انشورنس کی دستاویز پیش نہ کی جائے۔ اسی طرح، گاڑی کی فروخت یا ٹرانسفر کے وقت بھی اسے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس کو خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں کہ وہ سڑکوں پر چیکنگ کے دوران گاڑی کے کاغذات کے ساتھ انشورنس سرٹیفکیٹ بھی طلب کریں۔ عدم دستیابی کی صورت میں گاڑی بند کی جا سکتی ہے یا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
اس قانون کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ حادثے کی صورت میں زخمی ہونے والے شخص کے علاج کے اخراجات یا وفات پانے والے کے لواحقین کو ملنے والی رقم کی ضمانت انشورنس کمپنی دے گی۔ اس سے (Hit and Run) کے کیسز میں کمی آئے گی کیونکہ ڈرائیور کو معلوم ہوگا کہ اس کی کمپنی ہرجانہ ادا کرے گی۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بااثر افراد کی گاڑیوں سے غریب لوگ کچل دیے جاتے ہیں اور انصاف نہیں ملتا۔ کراچی کا ایک مشہور واقعہ جو 19 اگست 2024 کو کراچی کی معروف شاہراہ کارساز پر پیش آیا۔ ایک تیز رفتار لگژری گاڑی ٹویوٹا لینڈ کروزر بے قابو ہو کر موٹر سائیکل سواروں اور دیگر گاڑیوں سے جا ٹکرائی۔ اس المناک حادثے میں موٹر سائیکل پر سوار ایک باپ اور ان کی نوجوان بیٹی جاں بحق ہو گئے، جبکہ کئی دیگر افراد زخمی ہوئے۔
گاڑی چلانے والی خاتون کی شناخت نتاشا کے نام سے ہوئی، جو کہ ایک معروف کاروباری شخصیت کی اہلیہ ہیں۔ اس کیس نے عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پیدا کیا۔ میڈیکل رپورٹ اور منشیات کا انکشاف ابتدائی طور پر ملزمہ کو نفسیاتی مریضہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن بعد ازاں میڈیکل رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ حادثے کے وقت وہ آئس کے نشے میں تھیں۔ سوشل میڈیا کا ردِعمل جائے وقوعہ سے ملزمہ کی ویڈیوز وائرل ہوئیں جس میں وہ مسکراتی ہوئی نظر آئیں اور وہاں موجود لوگوں سے تلخ کلامی کر رہی تھیں۔ اس رویے نے عوام میں مزید غصہ بھر دیا۔
نتاشا پر قتلِ خطا اور منشیات کے استعمال کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ انہیں جیل بھی بھیجا گیا لیکن ان کی ضمانت کے لیے بھرپور قانونی کوششیں کی گئیں۔ اس کیس میں ایک بڑا موڑ اس وقت آیا جب جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ نے ملزمہ کو دیت یعنی خون بہا لے کر معاف کرنے کا اعلان کیا۔ مذکورہ واقعہ کے علاوہ بھی کئی ایسے واقعات ہوچکے ہیں جن میں عوام حادثات کا شکارہوئے ہیں وہ تو شکر ہے سائنس و ٹیکنالوجی کا کی سی سی ٹی وی کی مدد سے پتہ چل جاتا ہے کہ کون غلطی پر تھا اور بے قصور تھا۔ ورنہ اس سے پہلے یہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کون غلطی پر تھا۔
تھرڈ پارٹی انشورنس لازمی ہونے سے یہ عمل ایک سسٹم کے تحت آ جائے گا، جہاں کمپنی قانونی طور پر معاوضہ ادا کرنے کی پابند ہوگی۔ انشورنس انڈسٹری کی ترقی اس فیصلے سے پاکستان کی انشورنس انڈسٹری کو نئی زندگی ملے گی۔ جب لاکھوں گاڑیاں انشورنس کروائیں گے تو کمپنیوں کے پاس فنڈز جمع ہوں گےجس سے معیشت میں گردش بڑھے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
دیکھا جائے توعام عوام کو اب بھی انشورنس کے فوائد کا علم نہیں ہے وہ اسے محض ایک اضافی ٹیکس سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ جعلی سرٹیفکیٹس مارکیٹ میں ایجنٹوں کے ذریعے جعلی انشورنس کاغذات کا بننا بھی سندھ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ جس کے لیے کیو آر کوڈ (QR Code) پر مبنی ڈیجیٹل سسٹم ضروری ہے۔ اسی طرح پریمیم کی قیمت اگر انشورنس کا سالانہ پریمیم زیادہ رکھا گیا تو موٹر سائیکل سواروں کے لیے یہ ایک مالی بوجھ بن جائے گا۔
سندھ حکومت کو اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے کچھ اصلاحات لارہی ہے جیسے وزیر اعلی ہائوس میں سندھ جاب پورٹل میں نوجوانوں کو اپنا پروفائل بنانا ضروری ہے جس کے بغیر سرکاری نوکری نہیں مل سکتی اسی طرح کا ڈیجیٹل پورٹل بنایا جارہا ہے جہاں ٹریفک پولیس صرف گاڑی کا نمبر درج کرکے انشورنس کی تصدیق کر سکے گی یہ سسٹم اس لیے بھی کامیاب ہوگا کیونکہ سندھ حکومت نے موٹروئیکل ٹیکس کو آن لائن کردیا ہےجو کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ حکومت سندھ نے فوری کلیم کے لیے انشورنس کمپنیوں کو پابند کیا ہے کہ وہ حادثے کے 15 سے 30 دنوں کے اندر کلیم کی ادائیگی کریں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو۔ اس حوالے سے سندھ حکومت پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں کو بتایا جائے گا کہ یہ قانون ان کی اپنی حفاظت اور دوسروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے تاکہ رائے عامہ کو تھرڈ پارٹی انشورنس کی اہمیت سے آگاہی حاصل ہو۔
سڑک پر چلنے والا ہر شخص کسی نہ کسی کا بیٹا، کسی کا باپ اور کسی کی امید ہوتا ہے۔ تھرڈ پارٹی انشورنس کا یہ چھوٹا سا قدم بڑے بڑے المیوں کا مداوا بن سکتا ہے کیونکہ زندگی صرف ایک بار ملتی ہے اور اس کا تحفظ ہم سب کا مشترکہ فرض ہے۔ سڑک پر چلنا ہر شہری کا حق ہےلیکن دوسروں کی زندگی کو محفوظ بنانا ہر ڈرائیور کی ذمہ داری بھی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سندھ حکومت کا تھرڈ پارٹی انشورنس ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ سندھ حکومت کا تھرڈ پارٹی انشورنس کو لازمی قرار دینا ایک جرات مندانہ اور دور اندیش فیصلہ ہے۔ یہ نہ صرف سڑکوں پر حادثات کے متاثرین کو بے یار و مددگار چھوڑنے کے کلچر کو ختم کرے گا، بلکہ معاشرے میں ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کرے گا۔ اگر اس پر شفافیت اور سختی سے عملدرآمد ہو تو یہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک رول ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔

