Saturday, 09 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Zindagi Ki Justuju Mein, Zindagi He Kho Di

Zindagi Ki Justuju Mein, Zindagi He Kho Di

زندگی کی جستجو میں، زندگی ہی کھو دی

ہم میں سے اکثر لوگ زندگی ایک نہایت لطیف فریب کے تحت گزارتے ہیں: ہم آہستہ آہستہ اپنے کام کو اپنی پہچان سمجھنے لگتے ہیں۔ ہمارا پیشہ ہماری شناخت بن جاتا ہے، ہماری مصروفیات ہمارا مقصد اور ہماری کارکردگی ہماری قدر کا پیمانہ۔ زندگی کے سفر میں کہیں ہم روزی کمانے اور واقعی جینے کے فرق کو بھلا بیٹھتے ہیں۔ یہ جدید زندگی کے سب سے خاموش مگر گہرے سانحات میں سے ایک ہے کہ لوگ کامیاب کیریئر بنانے میں دہائیاں گزار دیتے ہیں، مگر روح کی اُس پوشیدہ اور نازک تعمیر کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو اصل انسان کو تشکیل دیتی ہے۔

بچپن ہی سے ہمیں کامیابی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ ہم سے یہ پوچھا جاتا ہے کہ ہم بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں، اُس سے بہت پہلے کہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ محض ہونا کیا معنی رکھتا ہے۔ معاشرہ عہدوں، مرتبے، دولت اور کامیابی کو سراہتا ہے کیونکہ یہ چیزیں نظر آتی ہیں اور ناپی جا سکتی ہیں۔ مگر زندگی کی سب سے اہم جہتیں کبھی پیمائش میں نہیں آتیں: محبت، حیرت، سکون، دوستی، موجودگی اور خود معنی۔ المیہ یہ نہیں کہ انسان میں کامیابی کی فطری خواہشِ موجود ہوتی ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ یہی خواہش اکثر اُس زندگی کو نگل جاتی ہے جسے سنوارنے کے لیے وہ پیدا ہوئی تھی۔

فلسفی سینیکا۔ Seneca نے کہا تھا: "مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس جینے کے لیے وقت کم ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم اس کا بیشتر حصہ ضائع کر دیتے ہیں"۔

آج سینیکا کی بات دردناک حد تک سچی محسوس ہوتی ہے۔ ہم جینے کو یوں مؤخر کرتے رہتے ہیں جیسے زندگی کوئی ریہرسل ہو، اصل نہیں۔ ہم خود سے کہتے ہیں کہ خوشی اگلی ترقی کے بعد آئے گی، مالی تحفظ کے بعدآئے گی، پہچان ملنے کے بعد آئے گی، یا اُس دن جب ہم واقعی "کامیاب" ہو جائیں گے۔ مگر زندگی صرف حال میں ہوتی ہے اور حال وہ چیز ہے جسے ہماری خواہشات مسلسل مستقبل کے نام پر قربان کرتی رہتی ہیں۔

بہت سے لوگ اپنی زنگی کی صحت مند ترین عمریں جلد بازی اور بےچینی کے دائروں میں قید گزار دیتے ہیں اور پھر بہت دیر بعد یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی کو ہمیشہ کے لیے ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں ایک دل توڑ دینے والی ستم ظریفی ہے: ایک بامعنی زندگی محفوظ بنانے کی کوشش میں، ہم اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ زندگی کو محسوس ہی نہیں کر پاتے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ کوئی بھی کیریئر، چاہے کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو، تنہائی میں ہمیں گلے نہیں لگا سکتا، غم اور دکھ میں ہمارے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا اور انسانی تعلق کی گرم جوشی کی جگہ نہیں لے سکتا۔

البرٹ آئن اسٹائن نے ایک بار کہا تھا: "پرسکون اور سادہ زندگی، مسلسل بےچینی کے ساتھ کامیابی کے تعاقب سے کہیں زیادہ خوشی دیتی ہے"۔

مگر جدید تہذیب سکون کو کم ہی انعام دیتی ہے۔ بےچینی اب ایک خوبی بن چکی ہے۔ تھکن کو اعزاز کی طرح پہنا جاتا ہے۔ ہم مصروفیت کی تعریف کرتے ہیں کیونکہ خاموشی ہمیں ان سوالوں کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جن سے ہم بھاگتے ہیں: میں اپنی کامیابیوں کے بغیر کون ہوں؟ اگر میری کارکردگی چھن جائے تو میرے اندر کیا باقی رہتا ہے؟

بہت سے لوگوں کے لیے یہ سوال خوفناک ہیں، کیونکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنی زندگی کی قدر Value دوسروں کی منظوری کے حوالے کر دی ہے۔

حالانکہ زندگی نے اپنی خالص ترین صورت میں ہم سے کبھی عظمت کا مطالبہ نہیں کیا۔ وہ صرف موجودگی چاہتی ہے۔ حسن کو محسوس کرنے کی صلاحیت شاید دانائی کی بلند ترین شکلوں میں سے ایک ہے۔ غروبِ آفتاب کو آپ کے تجربے کی پروا نہیں۔ ایک بچہ آپ کی تنخواہ کی وجہ سے آپ کی قدر نہیں ناپتا۔ جو لوگ آپ سے حقیقی محبت کرتے ہیں، وہ آپ کی پیشہ ورانہ کامیابیوں سے کم متاثر ہوتے ہیں، وہ آپ کی توجہ، آپ کی مہربانی، آپ کی ہنسی اور آپ کے وقت کو عزیز رکھتے ہیں۔

شاعرہ میری اولیور Mary Oliver نے ایک گہرا سوال پوچھا تھا: "مجھے بتاؤ، تم اپنی اس ایک قیمتی زندگی کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہو؟"

اس سوال کی خوبصورتی اس یاد دہانی میں ہے کہ زندگی محض حل کرنے کا مسئلہ یا چڑھنے کی سیڑھی نہیں۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جسے مکمل طور پر جیا جانا چاہیے۔ ہم عارضی وجود ہیں، عارضی زندگیوں کے ساتھ اور شاید اسی ناپائیداری میں ایک گہری خوبصورتی پوشیدہ ہے۔ جاپانی تصور مونو نو اوارے mono no aware اسی لطیف اداسی کی بات کرتا ہے جو لمحوں کے، چیزوں کے گزر جانے کے احساس سے پیدا ہوتی ہے، یہ شعور کہ حسن اس لیے اور بڑھ جاتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ باقی نہیں رہتا۔

ایک دن آئے گا جب ہر میٹنگ، ہر ڈیڈلائن اور ہر پیشہ ورانہ اضطراب جو کبھی اتنا اہم محسوس ہوتا تھا، خاموشی میں تحلیل ہو جائے گا۔ دفتری ای میلز رک جائیں گی۔ عہدے بھلا دیے جائیں گے۔ جو باقی رہ جائے گا، وہ غیر مرئی چیزیں ہوں گی: وہ محبت جو ہم نے دی، وہ یادیں جو ہم نے بنائیں اور وہ لمحے جب ہم واقعی زندہ تھے۔

زندگی کے اختتام پر بہت کم لوگ یہ خواہش کرتے ہیں کہ کاش انہوں نے مزید وقت دفتر میں گزارا ہوتا۔ اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ تھوڑا زیادہ رکے ہوتے، زیادہ کھل کر محبت کی ہوتی، جلد معاف کیا ہوتا اور اُن عام لمحوں کی قدر کی ہوتی جنہیں وہ کبھی معمولی سمجھ کر گزر گئے تھے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ کام بےمعنی ہے۔ بامقصد کام عظیم بھی ہو سکتا ہے اورہوتاہے، روح کو تسکین بھی دے سکتا ہے۔ تخلیق، خدمت، نظم و ضبط اور بلند حوصلگی سب اپنی جگہ باوقار ہیں۔ مگر کام کو زندگی کی خدمت کرنی چاہیے، زندگی کی جگہ نہیں لینی چاہیے۔ کیریئر انسانی وجود کا صرف ایک باب ہے، پوری کہانی نہیں۔

شاید اصل دانائی یہ ہے کہ انسان دنیا میں پوری طرح شریک رہے، مگر اس کا قیدی نہ بنے۔ شوق سے کام کرے، مگر اتنا آزاد بھی رہے کہ کبھی باہر نکل کر شام کے آسمان کو دیکھ سکے۔ کامیابی حاصل کرے، مگر یہ بھی جانتا رہے کہ اس کی اصل قدر کبھی کامیابی کی محتاج نہیں تھی اور یہ پہچان لے کہ زندہ ہونا ہی بذاتِ خود ایک غیر معمولی نعمت ہے۔

زندگی خوبصورت اس لیے نہیں کہ وہ آسان ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ عارضی ہے۔ ہر وہ کھانا جو کسی کھایا جأئے، ہر گفتگو، ہر طلوعِ آفتاب، ہر لمحۂ محبت، کائنات کی پوری تاریخ میں صرف ایک بار وقوع پذیر ہوتا ہے اور شاید شکرگزاری اسی احساس سے جنم لیتی ہے: یہ سمجھنے سے کہ ہمارے دن ایسی ملکیت نہیں جنہیں ہم قابو میں رکھ سکیں، بلکہ مختصر وقت کے لیے ہمیں سونپے گئے معجزے ہیں۔

آخرکار، کسی زندگی کی قدر اس کے تجربے نامے کی لمبائی سے نہیں ناپی جائے گی، بلکہ اس گہرائی سے جس کے ساتھ اُس نے محبت کی، حیرت محسوس کی، زندگی کو جیا اور اس حیران کن نعمت کے شعور میں بیدار رہا کہ وہ کبھی اس دنیا میں موجود تھا۔

Check Also

Haye Maa Tology (2)

By Tauseef Rehmat