Tuesday, 09 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Khwab Jo Lahore Mein Kahin Kho Gaya

Khwab Jo Lahore Mein Kahin Kho Gaya

خواب جو لاہور میں کہیں کھو گیا

پاکستان کی سیاست میں ایک عجیب تضاد ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ جب ملک کوئی کامیابی حاصل کرے تو اسے "قومی کامیابی" کہا جاتا ہے، لیکن جب بحران پیدا ہو، ادارے کمزور ہوں، یا ریاستی سمت پر سوال اٹھیں تو نگاہیں فوراً پنجاب کی طرف مڑ جاتی ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آبادی، اقتدار، معیشت اور ریاستی ڈھانچے میں پنجاب کا وزن ہمیشہ دوسروں سے زیادہ رہا ہے۔ اس لیے پاکستان کی کہانی، چاہے اچھی ہو یا بری، پنجاب کے ذکرکے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔

مگر مسئلہ صرف طاقت کا نہیں، ذہنی سمت کا بھی ہے۔ بڑی اکثریت اگر وسعتِ نظر کے ساتھ نہ چلے تو وہ اعتماد کے بجائے ایک اجتماعی خود فریبی کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ اکبر الہ آبادی کا شعر جیسے آج بھی ہمارے سیاسی مزاج پر صادق آتا ہے:

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

پنجاب کی تاریخ خود بھی ایک دلچسپ تضاد ہے۔ یہ خطہ صوفیوں، شاعروں، کسانوں، موسیقاروں اور سپاہیوں کی سرزمین تو رہا، مگر حکمرانی کی مضبوط روایت یہاں نسبتاً کم رہی۔ راجہ پورس کا نام تاریخ میں روشن ہے، پھر صدیوں بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ نظر آتے ہیں۔ باقی زیادہ تر ادوار میں پنجاب یا تو بڑی سلطنتوں کا حصہ رہا یا بیرونی حکمرانوں کے زیرِ اثر۔

اسی لیے قیامِ پاکستان کے بعد پہلی بار پنجاب کو صرف کسی سلطنت کا صوبہ نہیں بلکہ ایک نئی ریاست کے مرکزی ستون کا کردار ملا۔ سوال یہ تھا کہ کیا ہم ایک جدید، جمہوری اور خوداعتماد ملک تعمیر کریں گے یا ماضی کی یادوں میں ہی پناہ ڈھونڈتے رہیں گے؟

ہماری اجتماعی یادداشت بھی دو مختلف سمتوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک طرف وہ تاریخ تھی جو غزنوی، غوری، مغل اور وسط ایشیائی فتوحات کے گرد گھومتی تھی، دوسری طرف پنجاب کی اپنی تہذیبی روایت تھی، بابا گرونانک، بلھے شاہ، وارث شاہ، خواجہ غلام فرید، میاں محمد بخش اور داتا گنج بخش کی روایت، جہاں انسان کی پہچان اس کے مذہب یا نسل سے زیادہ اس کے کردار اور محبت سے ہوتی تھی۔

لیکن تقسیمِ ہند کے بعد ریاستی نفسیات دفاعی ہوگئی۔ خوف بھی تھا، عدم تحفظ بھی اور یہ احساس بھی کہ شاید پاکستان کو ہر لمحہ اپنے وجود کا جواز پیش کرنا پڑے گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم ایک متوازن قومی شناخت بنانے کے بجائے جذباتی نعروں، نظریاتی بحثوں اور مسلسل "خطرے" کے احساس میں الجھتے چلے گئے۔

قائداعظم محمد علی جناح شاید اس خطرے کو ابتدا ہی میں سمجھ گئے تھے۔ ان کی 11 اگست 1947 کی تقریر دراصل ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کرتی تھی جہاں ریاست شہری کے مذہب سے زیادہ اس کی شہریت کو اہمیت دے۔ یہ پاکستان کے قیام کی نفی نہیں تھی بلکہ ایک بالغ، جدید اور پراعتماد ریاست کی بنیاد رکھنے کی کوشش تھی۔

مگر بدقسمتی سے قائد زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکے اور بعد کے برسوں میں ریاستی بیانیہ زیادہ تر اُن حلقوں کے ہاتھ میں چلا گیا جنہوں نے "قوم سازی" سے زیادہ "نظریاتی نگرانی" کو اہم سمجھا۔

پھر آہستہ آہستہ ہم نے اصل مسائل کے بجائے علامتوں سے عشق شروع کر دیا۔

فیضؔ کا شعر جیسے اسی کیفیت کی ترجمانی کرتا ہے:

یہ داغ داغ اُجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

ہم نے تعلیم سے زیادہ نصاب پر بحث کی، انصاف سے زیادہ حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ بانٹے، معیشت سے زیادہ تقریروں میں خودکفالت تلاش کی اور ہر اختلاف کو یا تو غداری قرار دیا یا سازش۔

پنجاب، جو اپنی طاقت اور وسائل کی وجہ سے پورے پاکستان کو ایک جدید سمت دے سکتا تھا، رفتہ رفتہ طاقت کے روایتی ڈھانچوں کا سب سے مضبوط محافظ بنتا گیا۔ جاگیرداری، بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک ایسا تعلق بن گیا جس نے جمہوری اور فکری ارتقا کو محدود کر دیا۔

حالانکہ پنجاب کی اصل طاقت کہیں اور تھی۔ یہ طاقت اس کی تہذیب میں تھی، اس کی زبان میں تھی، اس کے صوفیوں میں تھی، اس کے لوک گیتوں میں تھی، اس کی زندہ دلی اور کشادہ دلی میں تھی۔ بلھے شاہ نے تو صدیوں پہلے وہ سبق دے دیا تھا جسے آج دنیا "انسان دوستی" اور "pluralism" کے نام سے جانتی ہے:

مسجد ڈھا دے، مندر ڈھا دے، ڈھا دے جو کچھ ڈھندا
پر کسی دا دل نہ ڈھاویں، رب دلاں وچ رہندا

مگر وقت کے ساتھ ہم نے اپنی ہی ثقافتی جڑوں سے فاصلہ پیدا کرنا شروع کر دیا۔ پنجابی زبان گھروں تک محدود ہوگئی، لوک روایت کو کمتر سمجھا جانے لگا اور ایک ایسی مصنوعی شناخت تشکیل دی گئی جس میں مٹی کی خوشبو کم اور سرکاری بیانیے کی سختی زیادہ تھی۔

یہ صرف ثقافتی نقصان نہیں تھا، اس کے سیاسی نتائج بھی نکلے۔ مشرقی پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بھی شراکت داری کے بجائے مرکزیت غالب آ گئی۔ بنگال کو سمجھنے کے بجائے اسے قابو کرنے کی کوشش کی گئی۔ سقوطِ ڈھاکہ اسی ذہنی رویے کا انجام تھا، وہ یقین کہ طاقت ہمیشہ مکالمے سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔

پھر ضیا دور آیا، جہاد آیا، مذہب مزید سیاسی ہوا اور ریاست رفتہ رفتہ ایک ایسی بحث میں الجھ گئی جہاں سوال پوچھنا بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔

اور طنز دیکھیے کہ:

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

ہم آج بھی کئی بار نعروں میں وہ جواب تلاش کرتے ہیں جو دراصل اداروں، تعلیم، انصاف اور سیاسی بلوغت سے آتے ہیں۔ حالانکہ قومیں صرف نظریات سے نہیں، اداروں سے چلتی ہیں۔ صرف جذبات سے نہیں، انصاف، تحقیق، برداشت اور خود احتسابی سے مضبوط ہوتی ہیں۔

اگر پنجاب واقعی پاکستان میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی فکری کشادگی واپس لانی ہوگی۔ اسے اپنی تاریخ کے صرف فاتحین نہیں بلکہ اپنے شاعر، صوفی، مفکر اور باغی بھی یاد رکھنے ہوں گے۔

وارث شاہ، بلھے شاہ، خواجہ غلام فرید، اقبال، فیض، نور جہاں، یہ سب پنجاب کی وہ آوازیں ہیں جو تقسیم نہیں بلکہ وسعت پیدا کرتی ہیں۔ شاید پاکستان کا مستقبل بھی اسی وسعت میں پوشیدہ ہے۔ کیونکہ آخرکار ریاستیں بند ذہنوں سے نہیں، کھلے ذہنوں سے مضبوط ہوتی ہیں اور پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت شاید اسی ذہنی آزادی، ثقافتی اعتماد اور سیاسی بلوغت کی ہے۔

Check Also

Khwab Jo Lahore Mein Kahin Kho Gaya

By Aftab Alam