Andar Aag, Bahir Aman Ke Daway
اندر آگ، باہر امن کے دعوے
ہم آج جو کچھ بھی دیکھ رہے ہیں، وہ نہ سفارت کاری ہے، نہ ریاستی بصیرت اور نہ ہی کوئی قومی کامیابی۔ یہ محض ایک سیاسی تماشا ہے، ایک ایسا ڈرامہ جس کا مقصد ایک زخمی، بے چین اور اندر سے ٹوٹتے ہوئے ملک کی توجہ اس کے اپنے مسائل سے ہٹانا ہے۔ ایک ایسا ملک جو معاشی تباہ حالی، سیاسی انتشار، ادارہ جاتی کمزوری اور اندرونی بے چینی کا شکار ہو، اسے مصنوعی سفارتی فتوحات پر جشن منانے کے لیے کہا جا رہا ہے، گویا نعروں اور تصویروں سے حکمرانی کا خلا پُر ہو جائے گا۔
حکمران اشرافیہ اور ان کے خوشامدی حلقے اس بات پر خودساختہ فخر میں مبتلا ہیں کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں "امن کروانے"، "ثالثی کرنے" یا "مصالحت کرانے" میں کوئی غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ سرکاری بیانیہ اور ٹی وی اسکرینوں پر جاری شور و غوغا سن کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اسلام آباد اچانک دنیا کا سفارتی اور اخلاقی مرکز بن گیا ہو۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جو ریاست اپنے ہی اندر سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے میں ناکام ہو، وہ دنیا کو امن کا درس دینے نکلی ہوئی ہے۔
یہ سفارت کاری نہیں، یہ ناکامی سے فرار ہے اور اس فرار کو قیادت کا نام دیا جا رہا ہے۔
دنیا میں امن کی کوشش کرنا یقیناً غلط نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سی دانشمندی ہے جس میں انسان دوسروں کے گھروں کی آگ بجھانے نکلے جبکہ اس کا اپنا گھر شعلوں میں گھرا ہو؟ آج پاکستان کے اندر پھیلتی ہوئی بے چینی، غصہ اور محرومی چیخ چیخ کر توجہ مانگ رہے ہیں، مگر اقتدار کے ایوانوں میں شاید یہ آوازیں سنائی نہیں دیتیں، یا شاید سن کر بھی ان سنی کر دی جاتی ہیں۔
ذرا دیانت داری سے ملک کی صورتحال کو دیکھیے، سرکاری پروپیگنڈے اور اسکرپٹڈ ٹاک شوز سے باہر نکل کر۔ بلوچستان آج بھی محرومی، جبری گمشدگیوں، سیاسی بیگانگی اور ریاست پر عدم اعتماد کی آگ میں جل رہا ہے۔ خیبر پختونخواہ بدامنی، دہشت گردی، معاشی زوال اور سیاسی بے یقینی کا بوجھ اٹھائے کھڑا ہے اور اب کشمیر میں بھی بے چینی اور اضطراب کی نئی لہریں واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہیں۔ یہ چند وقتی مسائل نہیں، بلکہ ایک گہرے قومی بحران کی علامات ہیں، ایسا بحران جس کی جڑیں ناانصافی، سیاسی لاتعلقی، طاقت کے غیر متوازن استعمال اور عوامی اعتماد کے خاتمے میں پیوست ہیں۔
مگر ان حقائق کا سامنا کرنے کے بجائے حکومت تصویروں، دوروں، بیانات اور خود ستائشی مہمات میں مصروف ہے۔ عالمی فورمز پر امن کی اداکاری کرنا آسان ہے، اپنے ہی عوام کے زخموں پر مرہم رکھنا مشکل۔ بیرونِ ملک تقریریں کرنا آسان ہے، مگر اپنے ناراض، محروم اور بے آواز شہریوں کے سامنے بیٹھ کر ان کی بات سننا مشکل۔
ایسے میں غالبؔ کا یہ شعر جیسے پورے قومی منظرنامے پر صادق آتا ہے:
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک
یہی تو المیہ ہے۔ عوام جل رہے ہیں، ٹوٹ رہے ہیں، بکھر رہے ہیں اور اقتدار شاید اس وقت بیدار ہوگا جب بہت دیر ہو چکی ہوگی۔
وزیراعظم شہباز شریف صاحب اور پوری حکمران اشرافیہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومت کا پہلا فرض بیرونی دنیا میں تشہیر نہیں بلکہ اپنے ملک کے اندر انصاف، استحکام اور اعتماد کی بحالی ہے۔ جو قیادت اپنے ہی وفاق کے زخم مندمل نہ کر سکے، وہ دنیا کے سامنے ثالثِ امن بننے کا اخلاقی جواز بھی کھو دیتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ بہت سی حکومتوں نے اندرونی ناکامیوں کو خارجی "کامیابیوں" کے شور میں چھپانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بیرونی محاذوں پر مصنوعی فتوحات کے قصے گھڑے جبکہ اندر سے ریاست کمزور ہوتی رہی۔ مگر حقیقت کو ہمیشہ کے لیے پروپیگنڈے کے نیچے دفن نہیں کیا جا سکتا۔ آخرکار سچ سامنے آ ہی جاتا ہے۔
پاکستان کو اس وقت کسی نئے سفارتی ڈرامے کی ضرورت نہیں۔ اسے اپنے عوام کے ساتھ سچ بولنے والی قیادت چاہیے۔ ایسی قیادت جو تصویری سیاست کے بجائے قومی مفاہمت کو ترجیح دے۔ اگر حکومت واقعی سفارت کاری کی صلاحیت رکھتی ہے، تو سب سے پہلے اسے یہ مہارت پاکستان کے اندر استعمال کرنی چاہیے۔
بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ بیٹھیں۔ خیبر پختونخواہ کے زخموں کو سنجیدگی سے سمجھیں۔ کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے چینی کا سیاسی حل تلاش کریں۔ بیانیے نہیں، اعتماد تعمیر کریں۔ نمائشی سیاست نہیں، حقیقی حکمرانی کریں۔
کوئی بھی ریاست دنیا کو امن کا درس نہیں دے سکتی جبکہ اس کے اپنے گھر کے اندر بے چینی، غصہ اور محرومی سلگ رہی ہو۔

