Thursday, 30 June 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Abdullah Khattak/
  4. Kya Is Tarah Ba Shaur Samaj Ka Mu Band Karaya Ja Sakta Hai?

Kya Is Tarah Ba Shaur Samaj Ka Mu Band Karaya Ja Sakta Hai?

حالات آئین کے کنٹرول میں نہیں ہیں اور اس بات کا ثبوت موجودہ حکومت اور پارلیمنٹ کے بڑے فیصلے پیش کر رہے ہیں۔ حلف برداریاں ایسی ہوئی جیسے خیرات بانٹی جا رہی ہو اور عموماً آج کل خیرات ہم خود ہی کھا رہے ہیں بجائے اس کے کہ ہم دوسروں کو کھلائیں۔ اگر حالات آئین کے کنٹرول میں ہوتے تو ہم ہر معاملے کی مستقل کی خبر دے سکتے۔

مثال کے طور پر ہم اس وقت کہہ سکتے تھے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کامیاب نہیں ہو گی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ملک میں جمہوریت ہے اور اس جمہوریت کے نرسری کے باغبان سمجھدار ہو چکے ہیں۔ خود کو ڈیموکریٹ کہنے والے آئین کی بالادستی کو دل سے قبول کر چکے ہیں۔ مگر اب یہ بات کہنے میں کوئی رکاوٹ نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کی کئ وجوہات ہو سکتی ہیں۔

اس جمہوری حمام میں بہت زیادہ لوگ ننگے ہو چکے ہیں، مہنگائی کے خلاف مارچ کرنے والے خود جب آئے تو کئی گناہ اور مہنگائی کر دی اور اسی طرح سے بہت سی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔ اس سے پہلے یہ تاثرات دیے جاتے تھے کہ پاکستان تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کی جماعت ہے اور ہو بھی سکتی ہے۔ مگر جب معاملہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کا آ یا تو پھر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں کچھ دراڑیں نظر آئی اور حکومت کا واحد فیصلہ آخرکار اسٹیبلشمنٹ کو قبول کرنا پڑا۔ کیونکہ عمران خان امریکہ کا دباؤ کسی بھی اگلی حکومت پر نہیں دیکھنا چاہتا تھا ایک آزاد خارجہ پالیسی چاہتا تھا۔

مگر سیاسی اور انتظامی نفس پر جس حکیم کا ہاتھ ہے وہ ہر طرح کے حالات کو اپنے حق میں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پرانی سیاسی قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے سارے داؤ پیج پردے سے باہر آنے لگے ہیں۔ ماضی میں جس کسی نے بھی"جدوجہد" کے نام پر کمایا تھا معلوم ہوا کہ وہ ایک ڈیل تھی۔ ان تمام فیصلوں سے عوام بالکل محروم ہے۔ جمہوریت میں ووٹر کسی بھی جماعت کا غلام نہیں بنتا بس حامی ہوتا ہے۔

ووٹر کی حمایت تبدیل ہوتی ہے اور اس طرح حکومتیں بھی تبدیل ہوتی ہیں مگر پاکستان میں ووٹر کے تبدیل ہونے کو مثبت کی بجائے منفی لیا جاتا ہے اور حمایت ترک کرنے والے کو سابق ہم خیال کو دشمن سمجھنے لگتے ہیں جو انتہائی غلط ہے۔ میرے خیال میں عمران خان کی حکومت گئی اس میں کئی فائدے ہوئے، میری نظر میں بے شک اکانومی کو دھجکا لگا سیاست دان کی نا اہلی کی وجہ سے مگر امید ہے کہ اب جمہوریت بحال ہو جائے گی۔

کیونکہ اس کے لیے سب عمران خان اور اندر سے موجودہ حکومت بھی چاہ رہی ہے۔ اب ان چیزوں سے پردہ ہٹ گیا ہے کہ "وہ کون تھا" وغیرہ وغیرہ۔ اب "وہ کون تھا" کا واسطہ عام عوام کے ساتھ ہے اور اس میں بڑی تعداد میں اہل دانش، پڑھے لکھے جوان لوگ شامل ہیں۔ اس سے پہلے ان کا واسطہ مظلوم، پسماندہ لوگوں سے تھا۔ جب ان کو عدم اعتماد کے بعد عدلیہ اور انتظامیہ سے انصاف نہ ملا، مایوس ہو گئے تو انہوں نے آئین کی بحالی کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی بہت بڑی تاریخی کامیابی ہو گی جب آئین بحال ہو جائے گا اور عدم اعتماد کے بعد لوگ کیسے گھروں سے نکلے، کیسے خطرات مول لینے، زندگی داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہو گئے؟ امید ہے کہ ا ب جو بھی حکومت آئے گی وہ کوشش کرے گی کہ بے ساکھی کا سہارا نہ لیا جائے تاکہ آزادانہ طور پر کام کیا جا سکے کہ اب بجٹ پیش ہوا تھا اس میں عوام کے دکھ کم کرنے کے لئے اور زندگی آسان کرنے کے لیے منصوبے نہ ہونے کے برابر ہیں اور فنڈز سے محروم۔

جبکہ پولیس اور اس نوعیت کے اداروں کے فنڈز بڑھا دیے گئے تاکہ وہ لوگوں کو مزید دبا سکیں اور آ ئین کی بحالی میں مشکلات پیدا ہوں۔ اب دیکھ سکتے ہیں لوگوں کا کیا رویہ ہے اور لوگ اس وقت کیا چاہتے ہیں؟ جلسے جلوسوں میں بھی ان کے مطالبات دیکھے جا سکتے ہیں خاص طور پر ٹویٹر ٹرینڈز بھی دیکھ سکتے ہیں۔ میرے خیال میں ان تمام باتوں کا حل آ ئین کی بحالی اور صحیح معنوں میں جمہوری حکومت کا آنا ہے اور لوگ چاہتے بھی یہی ہیں۔

اب فیصلے بتا رہے ہیں کہ سماج انگڑائی لے رہا ہے اور جاگے ہوئے سماج کو خاموش کرنے والا اصل دشمن ہے۔ کیا اس طرح باشعور سماج کا منہ بند کروایا جا سکتا ہے؟

Check Also

Naukri, Ghulamana Soch Ko Badlen

By Amer Abbas