سٹریٹ موومنٹ یا تبدیلی کا کمال؟

لوگ کہتے ہیں مرشدجیل میں ہویاجھیل میں، مریددن کیا؟ راتوں کوبھی بے قراررہتے ہیں پرہمارامرشدتونہ جیل میں ہے اورنہ کسی جھیل میں لیکن اس کی یادمیں ہم پھربھی بے قراررہتے ہیں۔ ہردوسرے دن ہم مرشدکی آن لائن دعائیں نہ لیں توہمیں چین نہیں آتا۔ پیرخالدقاسمی یہ ہمارے بچپن کے یاراورایک زمانے میں شرارتوں کے استادرہے ہیں۔ یہ اب جس طرح ہمیں پریشانیوں سے نکلنے کے وظائف بتاتے ہیں ایسے ہی یہ بچپن میں ہمیں مشکلات سے بچنے کے نت نئے طریقے اورگر سکھایاکرتے تھے۔
ہمیں آج بھی یادہے مرشد کی ہدایت پرہم نے دس بارنانی کی فوتگی کے بہانے مدرسے سے چھٹیاں لیں۔ آخرجب استادجی نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔ اوظالمو۔ ایک نانی کوکتنی بارمارنااورقبرمیں اتارناہے۔ تب ہم نے نانی کی جان بخشتے ہوئے اس بہانے مزیدچھٹیاں لینے سے انکارکیا۔ ایسے گراورہنرسکھانے کے علاوہ بھی مرشدکے ہم پربڑے احسانات ہیں۔ ان کاسب سے بڑااحسان یہ ہے کہ مادہ پرستی اورنفسانفسی کے اس دورمیں بھی وہ ہمیں نہیں بھولے ہیں۔
دوسری شادی کےلئے کراچی جانے کی طرح تبلیغی چلہ پرجانے سے پہلے بھی صاحب حالت خواب میں ہم سے رخصت لیکرچالیس دن کے لئے ایسے غائب ہوئے کہ ہمیں خبرہی نہ ہوئی۔ ہم اگرشہرکی روشنیوں میں گم اور کھوکررابطہ نہ کریں تویہ خودفون کرکے حال احوال دریافت کرلیتے ہیں۔ کچھ دن پہلے کال کرکے پیرصاحب باتوں باتوں میں اپنے ایک مریدمولانامومن شاہ جوگاؤں میں ہی رہتے ہیں اورایک مذہبی جماعت کے سرکردہ رہنمائی ہونے کے ساتھ اب خودایک بڑے پیرکے درجے پربھی فائزہوچکے ہیں کے بارے میں گلہ کرنے لگے کہ شاہ صاحب کوایک چھوٹے سے کام کاکہاتھامگرتیرہ دن میں بھی اس نے وہ کام نہیں کیا۔
تیرہ کالفظ سنتے ہی ہم نے فوراایک قہقہ لگاتے ہوئے کہاکہ مرشد آپ بھی بڑے سادہ ہیں۔ اس صوبے میں اگلوں نے تیرہ سال میں کچھ نہیں کیااورآپ تیرہ دن کارونارورہے ہیں۔ تیرہ سال یہ ایک بہت بڑاعرصہ ہے۔ کام کرنے والے لوگ سال نہیں دن اورمہینوں میں بھی ایسے ایسے کام کرجاتے ہیں کہ دنیاحیران رہ جاتی ہے لیکن دل میں ہی اگرکام نہ کرنے کاپکاارادہ ہو توپھروہ گاؤں کے پیرہویااڈیالہ کے مرشد تیرہ دن اورتیرہ سال میں بھی کچھ نہیں کرپاتے۔ وہ جواب نہیں توکب، ہم نہیں توکون کے نعرے لگارہے تھے خیبرپختونخوامیں ان کے تیرہ سال ہوگئے ہیں لیکن ان تیرہ سالوں میں اس صوبے کے اندرتباہی اوربربادی کے سواکچھ نہیں ہوا۔ کام کرنے والے ہوتے تووہ تیرہ نہیں پانچ سالوں میں بھی اس صوبے کودوسروں کے لئے رول ماڈل بنادیتے۔
پی ٹی آئی والے اب نہیں توکب اورہم نہیں توکون کے نعرے لگانے کے بجائے ایک پانچ سالے میں ہی اگرکمرکس کرکچھ کرتے توآج انہیں مردہ سیاسی گھوڑے میں جان ڈالنے کے لئے سٹریٹ موومنٹ کے ڈرامے کرنے کی ضرورت اورنوبت کبھی پیش نہ آتی۔ ایک طرف صوبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکاہے۔ بدامنی کے واقعات روزبروزبڑھتے اوربادل گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ دوسری طرف مہنگائی نے عوام کاجیناایساحرام کیاہواہے کہ اللہ کی پناہ۔
صوبے میں بیس کلوآٹے کے ایک تھیلے کی قیمت ایک بارپھرتین ہزارروپے تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ دیگراشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ ترقیاتی کاموں کادوردورتک کوئی نام ونشان نہیں۔ پہلے پھربھی تھوڑے بہت ترقیاتی کام ہوتے تھے اب تویہ سلسلہ بھی تقریباً ختم ہوکررہ گیاہے۔ لوگ سمجھ رہے تھے کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورکے بعدسہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ بننے سے صوبے اورعوام کے حالات بدل جائیں گے لیکن افسوس وزارت اعلیٰ کے منصب وکرسی پرچہروں اورناموں کی تبدیلی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔
سہیل آفریدی بھی علی امین گنڈاپورکے نقش قدم پرچل کرسیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہیں۔ سہیل آفریدی کے وزیراعلی بننے کے بعدان کی جانب سے ایساکوئی اقدام تونظرنہیں آرہاجواس صاحب نے صوبے کی ترقی اورعوامی مفادکے لئے اٹھایاہولیکن بادشاہ سلامت کے لاہوراورکراچی کے چکرسب کویادہے۔ صاحب بہادرپنجاب اورسندھ کے دورے پرعوام اورصوبے کے کسی کام واقدام کے سلسلے میں نہیں گئے بلکہ یہ صرف اپنی سیاست چمکانے کے لئے لاہورسے کراچی تک پہنچے۔ صوبہ مہنگائی، غربت اوربیروزگاری کے ساتھ بدامنی کی آگ میں جل رہاہے مگرکپتان کے کھلاڑیوں کوسیاست سیاست کھیلنے سے فرصت نہیں۔
کپتان کے نام نہادونامرادعاشقوں نے، عشق کپتان، کاڈھنڈوراپیٹ اورڈرامہ رچا کرنہ صرف ایک پورے صوبے کوتباہ کردیاہے بلکہ پی ٹی آئی کی سیاست کوبھی داؤپرلگادیاہے۔ کیاعوام کوترقی سے دوراورصوبے کوتباہی کے دہانے پر پہنچانے کانام، عشق کپتان، ہے؟ کپتان اورلیڈراگرجیل میں ہوتوکیاملک اورصوبے کے اندرترقی کاعمل پھرآگے نہیں بڑھتا؟ اس ملک میں ن لیگ اورپیپلزپارٹی کے لیڈربھی توگرفتارہوئے اورباربارقیدہوئے۔ میاں نوازشریف اورآصف زرداری بھی توکافی عرصے تک جیل میں رہے۔ ان دونوں کی گرفتاری اورقیدسے کیاملک میں کہیں ترقی کاعمل رک گیاتھا۔
تحریک انصاف کے کارکن اورکپتان کے کھلاڑی اپنے لیڈروکپتان کی رہائی کے لئے ایک نہیں ہزارباراحتجاج، مظاہرے، دھرنے، جدوجہداورکوشش کریں لیکن عوام اورترقی کوبھی نہ بھولیں۔ عوام نے پی ٹی آئی کوووٹ صرف احتجاج، دھرنوں اورمظاہروں کے لئے نہیں دیئے۔ خیبرپختونخوامیں اگرتحریک انصاف کی حکومت ناکام ہوگی توناکامی کایہ ملبہ سیدھاکپتان کے سرگرے گااوریہ ایک صوبائی حکومت کی نہیں بلکہ پی ٹی آئی اورعمران خان کی ناکامی شمارہوگی۔ کپتان سے عشق اورمحبت یہ نہیں کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اوراس کے وزیرومشیراپنی توانائیاں اورصوبے کے وسائل کوسٹریٹ موومنٹ کے نام پرہوامیں اڑاتے پھریں۔
عوام میں پی ٹی آئی کوناکام وبدنام کرنے سے توکپتان جیل سے باہرنہیں آئیں گے۔ کھلاڑی اگرواقعی سنجیدہ اورمخلص ہیں کہ عوام اورایوان میں ان کانام گونجے تواس کے لئے انہیں ایساکچھ کرناپڑے گاکہ جس پرلوگ تھوتھوکرنے کے بجائے واہ واہ کردیں۔ تیرہ سال اگریہ احتجاج، مظاہروں، دھرنوں اوردوسروں کوگالیاں دینے پرضائع نہ کرتے توآج انہیں گلیوں میں نہ آناپڑتا۔ گلیوں میں تو وہی لوگ آتے ہیں جن کے ہاتھ اوردامن میں کچھ نہ ہو۔ کیاتحریک انصاف کے ہاتھ اوردامن میں واقعی کچھ نہیں؟

