Monday, 05 January 2026
  1.  Home
  2. Umar Khan Jozvi
  3. Sood Khoron Se Allah Bachaye

Sood Khoron Se Allah Bachaye

سود خوروں سے اللہ بچائے

اس میں کسی شک اورشبہ کی ذرہ بھی کوئی گنجائش نہیں کہ سوداللہ اوراس کے پیارے حبیب حضرت محمدﷺکے ساتھ اعلان جنگ ہے۔ اللہ کے آخری کتاب قرآن مجیدفرقان حمیدمیں اس اعلان جنگ کاانتہائی واضح اورکھلے الفاظ میں ایک نہیں متعدد باراورتفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ مالک ارض وسماء کے اس واضح اعلان کے بعدبھی جوشخص سودکوگلے لگائے گایااس کے قریب جائے گااس نے پھراس دنیامیں ذلیل ورسواہونے کے ساتھ آخرت میں بھی ناکام ہی ہوناہے۔

یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ دنیاکی کوئی بھی طاقت اللہ اوراس کے رسولﷺ کامقابلہ نہیں کرسکتی اوریہ بھی سب کواچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ اوراس کے رسولﷺ کی مخالفت اوردین اسلام کے احکامات سے بغاوت کرنے والوں کاانجام پھرکیا ہوتاہے؟ ہم نے اللہ، رسول ﷺاوردین کے بہت سے باغیوں کواپنی ان گناہ گارآنکھوں سے اس دنیامیں ہی ذلیل ورسواہوتے دیکھاہے۔ افسوس اس بات کاہے کہ یہ سب کچھ جاننے کے باوجودکہ اللہ اوراس کے رسول کامقابلہ کوئی نہیں کرسکتااوریہ کہ سوداللہ اوراس کے رسول ﷺسے اعلان جنگ ہے پھربھی کچھ لوگ سودکے گناہ میں اس طرح مبتلاہورہے ہیں کہ جیسے ان کواس گناہ اورجرم عظیم کے بارے میں کوئی علم ہی نہ ہو۔

دوتین سال پہلے کی بات ہے ایک صاحب جن سے ہماری پہلے بھی کئی ملاقاتیں تھیں کافی عرصے بعد اچانک سرراہ مل گئے۔ وہ بہت پریشان لگ رہے تھے۔ ہم نے چلتے چلتے پریشانی کی وجہ پوچھی توکہنے لگے جوزوی صاحب زندگی میں ایک غلطی ہوگئی ہے اب اس سے جان نہیں چھوٹ رہی۔ ہم نے تفصیل پوچھی توکہنے لگے۔ مالی حالات بہت خراب بلکہ بگڑگئے تھے، کسی کاقرضہ دیناتھا، اس قرض کوواپس کرنے کے لئے مجبوری سے سودپر قرضہ لیا، اس شخص کاقرض توادا ہوگیالیکن سودوالاقرضہ اب ختم ہونے کانام ہی نہیں لے رہا۔ ختم کیا؟

یہ توکھٹمل کی طرح روزبچے دیکر بڑھتاجارہاہے۔ کئی قسطیں جمع کرائیں لیکن وہ پیسے جتنے لئے تھے ان سے کم ہی نہیں ہورہے۔ جتنی قسط جمع کراتے ہیں اس کے قریب اس کے ساتھ سودلگ جاتاہے۔ سمجھ نہیں آرہی کہ اس جنجال اورگرداب سے کیسے نکلیں؟ اس صاحب کی فریادسن کرہمیں اپنے دوست اجمل یادآگئے۔ اجمل ہمارے ایک اچھے دوست ہیں جوکہ انتہاء کے شریف اورسادہ ہیں۔ یہ ہزارہ کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں کنٹریکٹ ملازم ہیں چندسال پہلے ان کے ساتھ بھی ایساہی معاملہ ہوا۔ کسی کے پیسے دینے کے لئے انہوں نے قرضہ لیاجوپھراس کے گلے پڑگیا۔

تین چارمہینوں میں جب وہ قرض ڈبل ہوگیاتوپھراجمل کی آنکھیں کھل گئیں۔ شکرہے کہ آنکھیں جلدکھلیں نہیں تواجمل بھی آج کسی پنکھے یا درخت کے ساتھ جھولے کھاکرلٹک رہاہوتا۔ یہ تواس کی قسمت اچھی تھی کہ بروقت اپنی غلطی، گناہ اورجرم کااندازہ ہونے پراس نے نہ صرف سچے دل سے توبہ کی بلکہ رب کے حضورگڑگڑاکراپنے جرم وگناہ کی معافی بھی مانگی۔ شائدگناہ پردل سے ندامت اورتوبہ کی قبولیت کااثرتھاکہ ایک ہی بارپیسے جمع کرانے کے بعداس آفت اورمصیبت سے ان کی جان چھوٹ گئی ورنہ سودسے منہ کالاکرنے والے پھراتنی آسانی کے ساتھ اس دلدل سے جان نہیں نکال سکتے۔

سالوں پرانی بات ہے اس پرہم پہلے پوراایک کالم بھی لکھ چکے ہیں۔ گاؤں میں سیف اللہ نامی ہمارے ایک پڑوسی نے بھی اسی طرح ایک شخص سے سودپرپیسے لئے تھے۔ وہ پیسے بھی پھرختم ہونے کانام نہیں لے رہے تھے۔ ہمیں یادہے ان پیسوں کوختم کرانے کے لئے اول توجرگوں پرکئی جرگے ہوئے لیکن سودخورکی جانب سے جب بات نہ بنی تو پھرسیف اللہ کے بوڑھے والدعبدالخالق کاکانے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی زمین بیچ دی تھی تب جاکر وہ پیسے ختم ہوگئے تھے۔ کہنے کوتوسودکالفظ بہت آسان اورمعمولی ہے لیکن اس کے اندرجوآفت اورمصیبت چھپی ہوئی ہے وہ دنیاکی ہرشئے پربھاری بہت بھاری ہے۔

اللہ سودی معاملات اورسودخوروں سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ یہ آفت اورمصیبت پھرانسان کوآرام وسکون اورچین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔ سودکاگناہ اورجرم جاننے کے باوجودجولوگ پھربھی اس گناہ وجرم کاارتکاب کرتے ہیں وہ تودنیاتباہ ہونے ساتھ ذلیل ورسواہوتے ہی ہیں لیکن جن لوگوں کویہ نہیں پتہ کہ سوداللہ اوراس کے رسول ﷺکے ساتھ اعلان جنگ ہے وہ بھی جب انجانے میں اس گناہ کاارتکاب کرتے ہیں توآسانی کے ساتھ وہ بھی پھراس عذاب سے باہرنہیں نکل سکتے۔

آسان الفاظ میں سودنہ صرف تباہی بلکہ بربادی بھی ہے مگرافسوس وقتی فائدے کے لئے ہم میں سے بہت سے لوگ آج بھی اس سے منہ کالاکررہے ہیں۔ کہنے کے لئے ہم سب حاجی اورنمازی ہیں لیکن ہمارے درمیان بھی سودخوروں کی کوئی کمی نہیں۔ اتنی ایمانداری اورذمہ داری کے ساتھ ہم اپنے اللہ اوراس کے پیارے حبیب ﷺ کویادنہیں کررہے جتنی یکسوئی، خلوص اورپیار کے ساتھ ہم سودی لین دین، معاملات اورکاروبارکررہے ہیں۔

بحیثیت مسلمان ہم سب جانتے ہیں کہ سودنہ صرف حرام بلکہ یہ اللہ اوراس کے رسول ﷺکے ساتھ کھلی جنگ ہے لیکن پھربھی آپ گاؤں اوردیہات کے ساتھ ان بڑے بڑے شہروں میں دیکھیں آپ کواچھے بھلے، پڑھے لکھے لوگوں میں کوئی نہ کوئی سودخورضرورملے گا۔ گناہ کوگناہ جاننے کے باوجودبھی اگرکیاجائے توپھروہ صرف گناہ نہیں رہتابلکہ عذاب بن جایاکرتاہے۔ عذاب کی پھرکئی شکلیں اورصورتیں ہیں۔ ہمیں آج اپنے گریبان میں جھانک کرایک منٹ کے لئے یہ سوچناچاہئیے کہ جن حالات سے آج ہم گزررہے ہیں یہ کہیں عذاب کی کوئی شکل اورصورت تونہیں؟

یہ توسب کوپتہ ہے کہ سوکھی لکڑیوں کے ساتھ پھرگیلی لکڑیوں کوبھی جلناپڑتاہے۔ ماناکہ اس ملک میں اکثریت سودخوروں کی نہیں ہوگی لیکن یہ توسب کوپتہ ہے کہ ہمارادرمیان سودخوروں سے پاک اورخالی بھی نہیں۔ ایسے میں کہیں ہمیں ان سوکھی لکڑیوں کے ساتھ جلناتونہیں پڑرہا۔ سودکی آفت نے ہمیں معاشرتی اورانسانی طورپرتباہ کرکے رکھ دیاہے۔ سودخوروں کوانسانوں اورمعاشرے کاکوئی لحاظ نہیں۔ جوپیٹ جہنم کی آگ سے بھرنے ہوں وہ دنیاکے ان پیسوں سے کیسے بھریں گے؟ یہ ظالم راہ راست پرنہیں آسکتے۔ جولوگ اللہ اوراس کے رسول ﷺ کے اعلانات واحکامات سے بغاوت کردیں ان کے لئے کوئی تحریر، کوئی تقریر، کوئی وعظ ونصیحت کیسے کارگرثابت ہوگی۔ اللہ ایسے ظالموں اوربدبختوں کوہدایت دے نہیں تواللہ ان کوتباہ کردے تاکہ یہ ملک اورمعاشرہ اس گندسے صاف ہو۔

Check Also

5 Baron Ki Baithak

By Aaghar Nadeem Sahar