Sunday, 11 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zahra Javed
  4. Quaid Ki Talash

Quaid Ki Talash

قائد کی تلاش

ہم سب نے قائداعظم کا نام بچپن سے سنا ہے۔ اسکول کے دنوں میں اُن پر مضامین لکھے گئے، تقریریں یاد کرائی گئیں اور امتحانات میں اُن سے متعلق سوالات حل کیے گئے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی قائداعظم کو جانتے بھی ہیں، یا صرف انہیں یاد کر لیتے ہیں؟

قائداعظم کی ذات اتنی وسیع اور طویل ہے کہ اسے دو صفحات کے مضمون میں قید کر دینا اُن کے ساتھ ناانصافی ہے۔ قائد وہ شخص تھے جنہوں نے اپنی ذاتی زندگی کے لیے ملکی خزانے سے صرف سو روپے بھی رکھنا گوارا نہ کیا۔ یہ واقعہ اُن کی ایمانداری اور کردار کا واضح ثبوت ہے۔

وہ اپنے دور کے سب سے مشہور اور مہنگے وکیل تھے۔ اگر چاہتے تو آرام اور آسائش کی زندگی گزار سکتے تھے، مگر انہوں نے راحت کے بجائے ذمہ داری کا راستہ چُنا۔ اُنہوں نے اپنے تعلقات، صحت اور سکون کو قوم کے مستقبل پر قربان کر دیا۔

افسوس کے ہم نے قائداعظم کو اکثر صرف نصاب تک محدود کر دیا۔ ہم نے دنیا کی مختلف تاریخ اور ادب پر تو توجہ دی، لیکن کبھی یہ سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ جس شخص نے ایک نئی مملکت کا خواب دیکھا، اُس نے کس قدر مشکل حالات کا سامنا کیا ہوگا۔

کیا کبھی ہم نے یہ محسوس کیا کہ کمزور صحت کے باوجود قائداعظم کس ہمت اور یقین کے ساتھ فیصلے کرتے رہے؟ انہوں نے نہ صرف انگریز حکمرانوں کا مقابلہ کیا، بلکہ اپنی ہی قوم کے خوف، شک و شبہ اور ناامیدی سے بھی لڑنا پڑا۔

حقیقت یہ ہے کہ قائد ہر گھر میں موجود ہیں، مگر اکثر اُنہیں قائد بننے سے پہلے روکا جاتا ہے اور جب وہ قائد بننے کا شوق چھوڑ دیتے ہیں تو لوگ انہیں قائد ماننے کے لیے تنقید کرتے ہیں۔ یہ المیہ ہمارے معاشرے کا ہے کہ ہم اُس عظمت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جو قیادت کے عہد سے پہلے اور بعد دونوں میں موجود ہوتی ہے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قائداعظم کو صرف کتابوں کے حوالے سے نہ دیکھیں۔ اُن کے اصول، ایمانداری، قانون کی بالادستی اور ذمہ داری، اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو شاید ہم بھی قائد کی تلاش میں کچھ قدم آگے بڑھ سکیں۔

قائداعظم کو پڑھنا آسان ہے، مگر انہیں سمجھنا اور اُن کے کردار کو اپنانا ہی اصل امتحان ہے۔ جب تک ہم یہ امتحان پاس نہیں کرتے، قائد کی تلاش ادھوری ہی رہے گی۔

آج اپنے دامن میں جھانک کر دیکھیں۔ کیا آپ واقعی وہی پاکستانی ہیں جس کے لیے پاکستان کا خواب دیکھا گیا تھا؟ اگر اس سوال کا جواب آپ کو شرمندگی کا احساس دلاتا ہے، تو پھر صرف افسوس کا اظہار کافی نہیں۔ اُٹھیں اور اپنے حصے کا کام کریں۔

یہ اس لیے نہیں کہ لوگ سمجھیں، بلکہ اس لیے کہ آپ کا ضمیر مطمئن ہو۔ پاکستان صرف ایک ملک نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری ہے جو ہم سب کے کندھوں پر رکھی گئی ہے۔ تبدیلی کا انتظار نہ کریں۔ قائد کا خواب کسی اور نے پورا نہیں کرنا، یہ ذمہ داری آج بھی ہم ہی پر آتی ہے۔

Check Also

Fauj, Dollars Aur Madaniyat

By Najam Wali Khan