Thursday, 01 December 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Syed Mehdi Bukhari

Insan Ki Yaad Ka Langar

کچورا جھیل کے اردگرد پھیلے جنگل میں رات اُتر چکی تھی، یہ نومبر کا آغاز تھا۔ ہَوا میں سردی بھری ہوئی تھی جو جسم کو چیرتی گزر جاتی تھی۔ زمین پاپولر کے خزاں رسیدہ پتوں سے ایسے سجی ہوئی تھی کہ اس پر نارنجی قالین کا گمان ہوتا۔ پورے چاند کی رات تھی۔ چاندنی درختوں کے لمبے سائے بناتی پتوں سے چھَن چھَن کے اُتر رہی تھی۔ ہر قدم پر فضا میں چڑ چڑ کی آواز آتی جو پاؤں کے نیچے آنے والے خشک پتوں کی آخری ھچکی ہوتی۔

شام سے بہتیں تیز ہوائیں، اب آہستہ ہو چلیں تھیں اور نیچے کچورا جھیل کا پانی کناروں سے ٹھہرنے لگا تھا۔ جس میں چاند اور برف پوش چوٹیوں کا عکس گھُلتا جاتا تھا۔ میں ایک درخت کو ٹیک لگا کر منظر دیکھنے لگا۔ کچورا کے گاؤں میں دوپہر کو پہنچا تھا۔ جھیل کے راستے میں پہلے ایک برطانوی جوڑا ملا جو جھیل سے اوپر کی طرف چلے جا رہا تھا اور چڑھائی سے دونوں کا سانس پھُولا ہوا تھا۔

رستے میں مرد نے رک کر کچھ دیر مجھ سے بات کی اور لڑکی نے پانی کی بوتل کو منہ لگائے رکھا۔ مرد بڑا خوش مزاج تھا۔ مجھے بتا رہا تھا کہ پاکستان کے شمال میں آنے کا پروگرام کیسے انہوں کے شادی کے فوری بعد بنایا اور اب وہ کتنے خوش تھے کہ وہ پاکستان کے شمال میں تھے۔ کچھ منٹوں کی گپ شپ کے بعد میں کچورا جھیل کے ہوٹل میں بیٹھا چائے پی رہا تھا یہ ابرآلود دن تھا۔ تیز ہواؤں کی وجہ سےجھیل کی سطح بے چین تھی۔

درخت جھولتے جاتے تھے، اُن کے پتے ہر جگہ اڑے پھرتے تھے۔ ہوا اپنا راگ تیز کر چکی تھی اور پتوں کا رقص مستی کی حالت میں جاری تھا۔ ایسے موسم میں چائے پینے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے، خاص کر جب نظر کے سامنے ایک کھُلی نیلی جھیل ہو، ہوٹل میں میرے سوا کوئی نہیں تھا۔ میں باہر کرسیوں پر بیٹھا ڈائری لکھ رہا تھا۔ ایک پاکستانی جوڑا اندر داخل ہوا۔ پہلی نظر میں دیکھ کر ہی پہچان گیا کہ نئی نویلی شادی کے بعد کا ہنی مون ٹرپ ہے۔

دونوں خوش شکل اور خوش لباس تھے۔ کچھ فاصلے پر ایک ٹیبل پر بیٹھے دونوں نے چائے پی فرنچ فرائز کھائے لیکن بات کوئی نہیں کرتے تھے۔ میں کیمرہ اپنے ٹیبل پر رکھے لکھنے میں مصروف تھا۔ مرد نے کچھ دیر بعد بولا کہ نیچے جھیل پر چلتے ہیں اور کشتی میں سیر کرتے ہیں۔ لڑکی نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ ہوائیں تیز ہیں اور مجھے کشتی سے ڈر لگتا ہے، آپ چلے جائیں۔

لڑکا اُٹھا اور نیچے جھیل کی طرف جانے لگا۔ اس کے پیچھے ہوٹل کا مالک بھی چلا کہ کشتی بھی اسی کی تھی چلانی بھی اسی نے تھی۔ میں سوچنے لگا کہ ان دونوں کو اتنا بیزار ٹرپ کرنے کی ضرورت کیا تھی۔ لڑکی نیچے جھیل کی طرف دیکھی جا رہی تھی اور اس کا شوہر کشتی میں بیٹھا جھیل کے کنارے کنارے سیر کر رہا تھا۔ کچھ دیر اور گزری۔ اچانک وہ لڑکی بیٹھے بیٹھے بولی "آپ پروفیشنل فوٹوگرافر ہیں؟

مجھے "پروفیشنل" کے لفظ سے چڑ ہے، کیوں کہ نیچر فوٹوگرافی ایک آرٹ ہے۔ آرٹسٹ پروفیشنل نہیں ہوتا۔ وہ دل کا آدمی ہوتا ہے۔ چاہے تو چھوٹی سی بات پہ خوش ہو کر اپنا فن دان کر دے اور چاہے تو لاکھوں میں بھی اپنا فن نہ بیچے یہ لمبی بحث ہے۔ لیکن چڑ کے باوجود میں نے جواب دیا کہ "جی ہاں" کیونکہ مجھے اگلی بات جاننا تھی کہ وجہ تکلم کیا ہے۔

وہ بولی "مجھے بھی بڑا شوق ہے۔ میرے پاس بھی کیمرہ تھا اور گھر کے لان میں پھولوں اور حشرات کی تصاویر کھینچتی تھی۔ ایک مائیکرو لینز تھا، میرے پاس تو میرا شوق پھولوں اور مائیکرو ٹائپ کی فوٹوگرافی میں تھا" اتنا کہہ کر وہ چپ ہوگئی۔ میں نے پوچھا "ابھی آپ کا شوق نہیں رہا؟ بولی "نہیں اب شادی ہوگئی ہے" اس کے بعد میں نے بھی کوئی بات نہیں کی اور وہ بھی چپ رہی۔

اس کا شوہر جھیل کا چکر لگا کر واپس آیا اور پھر دونوں چپ کر کے بیٹھ گئے۔ میں وہاں سے اُٹھا، سامان اُٹھایا اور نیچے جنگل میں چلا گیا۔ اب موسم کھُل چکا تھا، جنگل میں رات کے سائے پھیلنے لگے، کچھ دیر بعد چاندنی بکھرنے لگی۔ درخت سے ٹیک لگائے میں جھیل میں گھُلتے چاند کو دیکھ رہا تھا۔ ذہن میں چلتا جا رہا تھا کہ مالک انسان کی تقدیروں کے ساتھ کیسے کھیلتا ہے۔

کس مزاج کے بندے کو کیسے مزاج والا ملوا دیتا ہے اور پھر انسان کیسے کیسے بوجھ پوری عمر ڈھوتا رہتا ہے۔ اپنی ذاتی یادوں کی ایک فلم سی چل پڑی تھی۔ آج اس جھیل پر پھر سے ہوائیں چل رہی تھیں۔ موسم ویسا ہی ابر آلود تھا۔ آج اور اس روداد کے بیچ نو سال بیت چکے۔ عبداللہ حسین کے بقول "انسان کی یاد کا لنگر بھی کیا عجب منظر ہے۔ زمانے کی آمد و رفت کو مٹھی میں جھکڑ کے رکھ دیتا ہے۔

Check Also

Jahannam Ki Air Conditioning Ka Theka (5)

By Hamid Ateeq Sarwar