Thursday, 29 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. China Mein Jari Tatheeri Muhim

China Mein Jari Tatheeri Muhim

چین میں جاری تطہیری مہم

چین کے صدر شی جن پنگ نے اقتدار سنبھالتے وقت اعلان کیا تھا کہ وہ مکھیاں بھی ماریں گے اور شیر بھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ معلوم ہوا کہ اب جنگل میں شیر کم اور پنجرے زیادہ بن چکے ہیں اور تازہ شکار وہی شیر ہے جو سمجھ بیٹھا تھا کہ پنجرہ اس کے قد سے چھوٹا ہے۔ ملک کے طاقتور ترین جنرل ژانگ یو شیا جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ شی جن پنگ کے سائے ہی نہیں بلکہ سایہ دار درخت ہیں وہ اچانک احتساب کی نذر ہو گئے۔ یعنی وہ جنرل جس کے والد اور شی کے والد نے ایک ہی مورچے میں کمیونسٹ پارٹی کے لیے جنگ لڑی اب وہ جنرل پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ بدعنوانی کے نام پر ہو رہا ہے کیونکہ چین میں بدعنوانی وہ واحد ہتھیار ہے جو صرف ناپسندیدہ لوگوں پر چلتا ہے۔ الزام یہ ہے کہ جنرل صاحب نے چیئرمین (چینی صدر) کی حتمی اتھارٹی کو نقصان پہنچایا۔

یہ سب شی جن پنگ کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی علامت ہے۔ واقعی اگر کسی ملک میں صدر اتنا طاقتور ہو جائے کہ اپنی فوج کی قیادت کو ایک ایک کرکے فارغ کر دے اور فوج پھر بھی خاموش رہے تو یہ کمزوری نہیں مکمل اجارہ داری ہوتی ہے۔ اسے طاقت کہیے یا تنہائی فرق صرف زاویۂ نگاہ کا ہے۔ چین میں جنگ سرحدوں پر نہیں آرمی رینکس میں لڑی جا رہی ہے جہاں سب سے بڑی میراث وفاداری ہے اور وہ بھی روزانہ کی بنیاد پر ثابت کرنا پڑتی ہے۔

چین سے جنرل ژانگ یو شیا کی تفتیش کی خبر آئی تو ہمارے ہاں کئی حضرات نے سکون کا سانس لیا ہوگا کہ شکر ہے یہ سب بیجنگ میں ہو رہا ہے راولپنڈی میں نہیں۔ شی جن پنگ نے اپنے سب سے قریبی فوجی ساتھی کو فارغ کرکے یہ پیغام دیا کہ ادارے میں کوئی شخص ادارے سے بڑا نہیں اور ادارہ بھی دراصل ایک ہی شخص سے بڑا نہیں۔

بیجنگ میں بدعنوانی کے نام پر صفائی ہو رہی ہے ہمارے ہاں احتساب کے نام پر ہوتی رہتی ہے۔ جو ہوا کے رخ میں ہو وہ محبِ وطن جو مخالف سمت چلے وہ اچانک فائلوں میں دفن شدہ اسکینڈلز کا مرکز بن جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ چین میں فیصلہ ایک پارٹی کرتی ہے یہاں فیصلہ اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔ شی جن پنگ نے جنرلوں کو یاد دلایا کہ فوج پارٹی کے لیے ہے۔ پاکستان میں بارہا یاد دلایا جاتا رہا ہے کہ سیاستدان ریاست کے لیے ہیں اور ریاست کی تعریف وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہے اور تعریف وہی ہوتی ہے جو ریاستی کرتے دھرتے طے کر دیں۔

چین میں فوج کے اوپر پارٹی ہے۔ پاکستان میں فوج کے اوپر بھی ایک مائنڈ سیٹ ہے جو نہ آئین میں سماتا ہے اور نہ کبھی عدالت میں چیلنج ہوا ہے مگر سب کو ازبر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چین میں جنرلوں کی کمی ہوگئی ہے اور ہمارے ہاں جنرلوں کی کمی کبھی مسئلہ ہی نہیں رہی۔ یہاں اصل قلت غیر سیاسی لوگوں کی ہے۔ تجزیہ کار سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا چین میں جاری یہ تطہیری مہم چینی فوج کو کمزور کر دے گی؟ پاکستان میں ہم اس سوال سے بہت آگے نکل آئے ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ بیانیہ قابو میں ہے یا نہیں۔ بیجنگ میں توپیں دشمن کے لیے ہیں ہمارے ہاں توپیں اپنے ہی بیانیے کی حفاظت کے لیے بھی استعمال ہوتی رہی ہیں۔ کم از کم علامتی طور پر۔

فرق صرف اتنا ہے کہ چین میں جنرل برطرف ہوتا ہے تو خبر آتی ہے پاکستان میں جنرل برطرف ہوتا ہے تو پہلے خبر غائب ہوتی ہے پھر برطرف کرنے والا اور پھر پارلیمان گول ہو جاتی ہے۔ سنہ 99 کے مارشل لاء کی یہی کہانی ہے۔ بیجنگ سے راولپنڈی تک ایک ہی سبق ملتا ہے کہ وردی کا رنگ مختلف ہو سکتا ہے مگر اقتدار کی نفسیات عالمی ہوتی ہے۔

Check Also

Ilhad Aur Manazra

By Mohammad Din Jauhar