Khwab Se Haqiqat Tak
خواب سے حقیقت تک

پاکستان اور قازقستان کے درمیان استوار برادرانہ تعلقات کی بنیادیں تاریخ کے ان گہرے نقوش میں پیوست ہیں جو وسط ایشیا کے قدیم تجارتی راستوں سے لے کر جدید سفارتی افق تک پھیلے ہوئے ہیں۔ قازق صدر کا حالیہ دورہ پاکستان محض ایک روایتی سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ یہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان سٹریٹیجک شراکت داری کا ایک نیا باب ہے جس میں پاکستان کو ملنے والا والہانہ پروٹوکول اس اہمیت کا عکاس ہے جو قازقستان کی نظر میں ارضِ پاک کو حاصل ہے۔
قازقستان کے لیے پاکستان کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ملک قازقستان جیسے لینڈ لاکڈ یعنی خشکی میں گھری ریاست کے لیے گرم پانیوں تک رسائی کا مختصر ترین اور محفوظ ترین راستہ فراہم کرتا ہے۔ گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں قازقستان کے لیے عالمی منڈیوں تک پہنچنے کا وہ کلیدی دروازہ ہیں جو اس کی معیشت میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ دوسری جانب پاکستان وسط ایشیائی ریاستوں کے لیے توانائی اور تجارت کی ایک ایسی گزرگاہ ہے جہاں سے گزر کر ہی یہ خطہ معاشی خوشحالی کی منزل پا سکتا ہے۔
قازق صدر کے دورے میں دیا جانے والا غیر معمولی پروٹوکول اس والہانہ پن اور احترام کی علامت ہے جو قازقستان کے دل میں پاکستان کی دفاعی و سیاسی اہمیت کے لیے موجزن ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی اور عقیدے کا رشتہ اس تعلق کو مزید توانا بناتا ہے جہاں پاکستان قازقستان کے لیے صرف ایک تجارتی پارٹنر نہیں بلکہ ایک ایسا سٹریٹیجک ستون ہے جس پر مستقبل کے ایشیائی تعاون کی عظیم الشان عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قازقستان اپنی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو ایک مرکزی حیثیت دیتا ہے تاکہ باہمی تعاون کے اس سفر سے خطے میں استحکام اور ترقی کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔
پاکستان اور قازقستان کے مابین طے پانے والے حالیہ معاہدات محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں بلکہ یہ اس عظیم معاشی شاہراہ کی بنیاد ہیں جو مستقبل میں پورے خطے کی تقدیر بدلنے والی ہے۔ ان معاہدوں کے تحت تجارت ٹرانزٹ لاجسٹکس اور توانائی کے شعبوں میں جو تعاون کا فریم ورک تیار کیا گیا ہے اس سے پاکستان کو وسط ایشیا کی وسیع و عریض منڈیوں تک براہ راست رسائی حاصل ہوگی۔ مستقبل میں پاکستان ان معاہدوں کی بدولت قازقستان سے سستی گیس اور معدنیات حاصل کر سکے گا جبکہ ہماری برآمدات کے لیے ایک نیا اور منافع بخش راستہ کھل جائے گا جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔
یہ سٹریٹیجک شراکت داری ان قوتوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو پاکستان کو سفارتی اور معاشی طور پر تنہا دیکھنے کی خواہشمند تھیں کیونکہ پاکستان کا وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ یہ مضبوط ہوتا رشتہ دشمنوں کے ان تمام عزائم کو خاک میں ملا رہا ہے جو پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننا چاہتے تھے۔ پاکستان اور قازقستان کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ قربت درحقیقت ان مخالفین کے لیے شدید تکلیف کا باعث ہے جو گوادر بندرگاہ کی اہمیت کو کم کرنے کی سازشوں میں مصروف تھے کیونکہ اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ پاکستان ہی وہ ناگزیر معاشی مرکز ہے جس کے بغیر وسط ایشیا کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
پاکستان کو وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک ناقابل تسخیر بندھن میں پرونے کے لیے اب روایتی سفارت کاری سے ہٹ کر عملی اقدامات کی ایسی ٹھوس بنیاد رکھنی ہوں گی جو محض وعدوں تک محدود نہ رہے بلکہ زمین پر نظر آئے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ شاہراہوں اور ریلوے ٹریکس کے جال کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے وسط ایشیا تک رسائی کے تمام جغرافیائی راستوں کو ہر قسم کے خطرات سے پاک اور محفوظ بنا دے کیونکہ تجارتی قافلے ہمیشہ امن کی چھاؤں میں سفر کرتے ہیں۔
پاکستان کو اپنی بندرگاہوں بالخصوص گوادر کو ان ریاستوں کے لیے ایک مفت ہینڈلنگ زون کے طور پر پیش کرنا ہوگا تاکہ کرغزستان سے لے کر قازقستان تک کے تاجروں کو یہ احساس ہو کہ کراچی اور گوادر ان کے اپنے گھر کی دہلیز ہیں جہاں سے وہ پوری دنیا تک کم ترین وقت اور لاگت میں پہنچ سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان ممالک کے ساتھ ویزا پالیسیوں میں غیر معمولی نرمی لائے اور بینکنگ چینلز کو فعال کرے تاکہ سرمایے کی منتقلی میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو کیونکہ معاشی جڑت ہی سیاسی قربت کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔ اگر پاکستان سنجیدگی کے ساتھ اپنی ٹرانزٹ ٹریڈ کی سہولیات کو عالمی معیار کے مطابق ڈھال لیتا ہے تو وسط ایشیائی ریاستوں کو اس سے وہ بے پناہ فائدہ ہوگا جس کا وہ دہائیوں سے خواب دیکھ رہی ہیں یعنی انہیں روس اور یورپ پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک ایسا متبادل سمندری راستہ مل جائے گا جو ان کی برآمدات کو عرب ممالک افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی فراہم کرے گا۔
اس اشتراک سے وسط ایشیائی ممالک کی بند معیشتوں کو آکسیجن ملے گی اور وہ پاکستان کے ذریعے عالمی اقتصادی دھارے کا حصہ بن کر اپنی غربت کا خاتمہ کر سکیں گے۔ جب پاکستان ان ریاستوں کے لیے معاشی بقا کی شہ رگ بن جائے گا تو پھر دنیا کی کوئی طاقت انہیں پاکستان سے دور نہیں کر سکے گی کیونکہ مفادات کا رشتہ جذباتی رشتوں سے زیادہ پائیدار ہوتا ہے یہی وہ وقت ہے کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کو ایک سٹریٹجک اثاثے میں بدل دے اور اپنی خارجہ پالیسی کا رخ مکمل طور پر ان وسط ایشیائی بھائیوں کی طرف موڑ دے جو پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔
اگر ہم نے آج ان سنہری مواقع کو اپنی دور اندیشی سے گرفت میں لے لیا تو آنے والا کل نہ صرف پاکستان کی معاشی خود مختاری کا ضامن ہوگا بلکہ خطے میں ہماری حیثیت ایک ایسے ناگزیر معاشی محور کی ہو جائے گی جس کے گرد پورے ایشیا کی خوشحالی کا پہیہ گھومے گا اور یہی وہ حتمی کامیابی ہوگی جو پاکستان کو اقوام عالم میں سرخرو کر دے گی۔

