8 February Pahiya Jam, Riyasat Mukhalif Bayania Mustarad
8 فروری پہیہ جام، ریاست مخلاف بیانیہ مسترد

پی ٹی آئی کی 8 مارچ کو ہڑتال اور شٹر ڈاؤن کی کال ایک بار پھر بری طرح ناکام ہوئی۔ عوام نے پی ٹی آئی کے ریاست مخالف بیانیے کو مسترد کر دیا۔ بظاہر تو اتوار کے دن پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن کی کال دینا ہی کوئی معقولیت کی بات نہ تھی، کیونکہ اتوار والے دن ملک بھر میں عام تعطیل ہوتی ہے اور خال خال ہی کہیں کوئی مارکیٹ یا بازار کھلی نظر آتی ہے۔ اس دن شٹر ڈاؤن یا پہیہ جام کی کال دینا بذاتِ خود ناکام اعلان کے مترادف تھا اور اس پر سونے پر سہاگہ یہ کہ ملک بھر میں یہ اعلان بری طرح ناکام ہوا۔
کراچی سے لے کر گلگت اور کشمیر تک اگر جائزہ لیا جائے تو ہڑتال کے کہیں پر بھی گہرے اثرات نظر نہیں آئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا میں ہلکی پھلکی جزوی ہڑتال کچھ علاقوں میں ضرور رہی، لیکن مجموعی طور پر پورے خیبر پختونخوا میں کاروباری زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی یہاں تک کہ وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی کے آبائی گاؤں میں بھی کہیں ہڑتال نظر نہیں آئی۔ اسی طرح سوات، مالاکنڈ، پشاور اور مردان جیسے بڑے علاقوں میں بھی کہیں شٹر ڈاؤن کی صورت نظر نہیں آئی۔
اسی طرح کشمیر میں تمام معاملات اپنے معمول کے مطابق اسی طرح رواں دواں تھے جس طرح عام دنوں میں ہوتے ہیں۔ کہیں پر ہڑتال کے اثرات نظر نہیں آئے۔ یہی صورتِ حال گلگت بلتستان کی رہی اور اسی طرح سندھ بھر میں اور پنجاب میں بھی کہیں پر ہڑتال یا پہیہ جام نظر نہ آیا۔
اگر کراچی کی بات کی جائے تو کراچی میں خود راقم نے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور اس کے علاوہ بھی دستیاب معلومات کے مطابق شہر میں شٹر ڈاؤن یا پہیہ جام تو بہت دور کی بات، کسی کے علم میں بھی نہ تھا کہ آج کوئی ہڑتال ہے۔ کراچی کے دل صدر میں تمام معمولاتِ زندگی بحال تھے۔ ایمپریس مارکیٹ، الیکٹرانکس مارکیٹس، اسی طرح ماربل کی مارکیٹیں، برنس روڈ اور گلشنِ اقبال، کہیں پر بھی پہیہ جام یا شٹر ڈاؤن کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔
گویا یہ ایک بری طرح فیل ہونے والی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال تھی اور عوام نے فوج مخالف بیانیے کو ایک بار پھر بری طرح مسترد کر دیا۔ یہ ہڑتال یا پہیہ جام گویا صرف پی ٹی آئی کی کال نہیں تھی بلکہ اسے پوری اپوزیشن کی احتجاجی کال بھی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اسی دن آٹھ فروری کو جمعیت علمائے اسلام نے بھی حکومت مخالف مظاہروں اور آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کے الیکشن کو مسترد کرنے کے لیے یومِ سیاہ منانے کا اعلان کیا تھا اور ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کا اعلان خود مولانا فضل الرحمان نے کیا تھا۔
لیکن پی ٹی آئی کے اس اعلان کے بعد پی ٹی آئی کے اعلیٰ سطحی وفد نے محمود خان اچکزئی کی قیادت میں، جس میں اسد قیصر اور دیگر سرکردہ رہنما بھی شامل تھے، مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد رہائش گاہ پر جا کر ان سے ملاقات کی اور درخواست کی کہ آپ اپنی کال واپس لے کر ہمارے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کال کی حمایت کا اعلان کریں۔ مولانا فضل الرحمان نے بھی شاید بادل نخواستہ اپنی سرگرمیاں ختم کرنے کا اعلان ان کے سامنے کر دیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے تمام پروگرام یا تو منسوخ کر دیں گے یا ایسے اوقات میں کریں گے جن میں احتجاج پر کوئی اثر نہ آئے۔
عموماً شام کے اوقات کے بعد ہڑتال کی کال یا حیثیت ختم ہو جاتی ہے، تو شاید ان کا یہی خیال تھا کہ شام کے اوقات میں ان مظاہروں، جلسوں اور ریلیوں کا سلسلہ ہم جاری رکھ سکیں گے اور شاید ان کی جو پہیہ جام کی ہڑتال ہے اس کی بھی ایک لحاظ سے حمایت ہو جائے گی اور ہم اپنے یومِ احتجاج کو بھی حکومت کے خلاف منانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
لیکن اس کے باوجود فوج مخالف بیانیے کی وجہ سے شاید پاکستانی عوام نے آٹھ فروری کی کال اور شٹر ڈاؤن کو مسترد کرکے ایک بار پھر یہ اعلان کر دیا کہ ملک میں سیاست تو چلتی رہے گی، حکومتیں آتی اور جاتی رہیں گی، لیکن فوج اور ملکی سلامتی کے خلاف بیانیے کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کی حمایت کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس احتجاج کو عوامی سطح پر کوئی پذیرائی نہ مل سکی۔
جہاں تک مولانا فضل الرحمان کی بات ہے، تو ان کی جماعت نے شام کے اوقات میں ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے اور ریلیاں منعقد کرکے آٹھ فروری کے الیکشن کو ایک بار پھر مسترد کیا اور اسے جعلی حکومت قرار دیا گویا جے یوآئی نے ایک تیر سے دو شکار کئے ایک طرف پی ٹی آئی وفد کی آمد اور درخواست کی کھل کر حمایت بھی کی اور دوسری طرف ملک کے مختلف شہروں میں 8 فروری 2024 کے الیکشن کے خلاف مظاہرےاور ریلیاں منعقد کرکے حکومت مخالف پارٹی پالیسی کا کھل کر اظہار بھی کیا۔

