Wednesday, 11 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Atiq Chaudhary
  4. Patang, Kitab Aur Fikri Mukalma

Patang, Kitab Aur Fikri Mukalma

پتنگ، کتاب اور فکری مکالمہ

لاہور کے بارے میں کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ "لاہور لاہور ہے"۔ یہ محض ایک روایتی فقرہ نہیں بلکہ ایک مکمل فلسفہ، ایک طرزِ زندگی اور ایک زندہ جاوید تہذیب کا اعلان ہے۔ گزشتہ چند روز میں لاہور نے اپنی اس تاریخی انفرادیت کو ایک بار پھر عالمی سطح پر ثابت کر دکھایا۔ ایک ایسے وقت میں جب پورا ملک معاشی عدم استحکام اور سیاسی ہیجان کی زد میں تھا لاہور نے اپنے دامن میں علم، ادب، احتجاج اور ثقافتی رنگوں کو ایک ساتھ سمیٹ کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ زندگی کا کارواں رکنے کے لیے نہیں، بلکہ تمام تر مشکلات کے باوجود مسلسل رواں دواں رہنے کے لیے ہے۔

گزشتہ جمعہ سے اتوار تک کا اختتامِ ہفتہ محض تعطیل کے ایام نہیں تھے، بلکہ یہ لاہور کی تاریخ کا ایک ایسا درخشاں باب تھا جہاں بسنت کی ڈور، کتاب کے معطر صفحات اور فکری مکالمے کی تپش نے مل کر ایک نئی روح کو جنم دیا۔ لاہور میں بسنت کا شاندار تہوار، الحمرا ہال میں لاہور لٹریری فیسٹیول، ایکسپو سینٹر میں لاہور کتاب میلہ اور فلیٹیز ہوٹل میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کا بیک وقت منعقد ہونا اس شہر کے زندہ دل ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

تقریباً دو دہائیوں کے طویل اور صبر آزما انتظار، کئی قانونی پیچیدگیوں اور سماجی رکاوٹوں کے بعد، لاہور کی فضاؤں میں پتنگوں کے رنگ دوبارہ دیکھنا کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ وہ شہر جس کے آسمان کو برسوں سے نظر لگ گئی تھی، ایک بار پھر دھنک کے رنگوں سے بھر گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے محفوظ بسنت کا انعقاد ایک بڑا انتظامی اور سیاسی خطرہ تھا لیکن اس کے نتائج نے ثابت کیا کہ اگر ریاست کی نیت صاف ہو اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہو، تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

لاہور میں بسنت کا یہ تین روزہ تہوار اپنی پوری آب و تاب، رنگوں اور پتنگوں کی بہار بکھیر کر اختتام پذیر ہوا۔ کیا بچے، کیا بڑے، بوڑھے اور جوان، سب بسنت کے رنگ میں ایسے رنگے کہ طبقاتی فرق مٹ گیا۔ لوگ پتنگیں لیے چھتوں پر چلے آئے، پیچ لڑائے، "بو کاٹا" کے روایتی نعرے لگائے، جشن منایا اور کھابوں کی دعوتیں اڑائیں۔ اس بار کی بسنت کی سب سے خوبصورت بات "جنریشن زی" کی شرکت تھی۔ یہ اس نئی نسل کی پہلی بسنت تھی جس نے اپنی زندگی میں پہلی بار پیچے لڑانے کا ہنر سیکھا اور پتنگ بازی کی اس قدیم روایت سے روشناس ہوئے۔

اندرونِ لاہور کی گلیوں اور محلوں کی رونقیں بحال ہوئیں، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے اور لاہور کی قدیم ثقافت کو عالمی سطح پر وہ پذیرا ئی ملی جس کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ کئی بین الاقوامی شخصیات نے اس میلے میں شرکت کی، جس سے پاکستان کا ایک "سافٹ امیج" دنیا کے سامنے گیا کہ ہم امن پسند اور اپنی روایات سے محبت کرنے والی قوم ہیں۔۔ ماضی میں بسنت کو خونی ڈور کی وجہ سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس بار کا جشن خونی ثابت نہیں ہوا کیونکہ حفاظتی ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرایا گیا۔

یہ ماڈل اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنے تہواروں کو نظم و ضبط کے دائرے میں رہ کر منا سکتے ہیں۔ بسنت کے ان تین دنوں میں لاہور میں 9 لاکھ گاڑیوں کا داخلہ اس بات کی ٹھوس دلیل ہے کہ لوگ اپنے ورثے سے کتنی گہری محبت کرتے ہیں۔ اربوں روپے کا کاروبار، ہوٹلوں کی صد فیصد بکنگ، ٹرانسپورٹ کی آمدن اور مقامی دستکاریوں کی ریکارڈ فروخت نے لاہور کی معیشت کو وہ آکسیجن فراہم کی جس کی اسے اشد ضرورت تھی۔

یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ثقافتی سیاحت کسی بھی قوم کے جی ڈی پی میں کتنا بڑا حصہ ڈال سکتی ہے۔ اسی ثقافتی جشن کے متوازی، ایکسپو سینٹر کے ہالوں میں سجا "لاہور انٹرنیشنل بک فیئر" ایک خاموش مگر نہایت طاقتور علمی انقلاب تھا۔ جہاں باہر آسمان پر پتنگوں کے پیچ لڑ رہے تھے، وہاں ہال کے اندر ہماری نوجوان نسل شعور کے صفحات پلٹ رہی تھی۔ ڈیجیٹل دور اور سوشل میڈیا کی یلغار کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں قارئین کا امڈ کر آنا اس عام مفروضے کو دفن کر گیا کہ "کتاب مر رہی ہے"۔

پبلشرز کے سٹالز پر تل دھرنے کی جگہ نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا دل یعنی لاہور آج بھی علم کی پیاس رکھتا ہے۔ الحمرا آرٹس کونسل میں منعقدہ "لاہور لٹریری فیسٹیول" (LLF) نے لاہور کے علمی منظر نامے کو مکمل جلا بخشی۔ ان محفلوں میں ہونے والی گفتگو محض لفظوں کا زیاں نہیں تھی، بلکہ یہ وہ مکالمہ تھا جو جمہوریت، رواداری اور انسانی حقوق کی آبیاری کرتا ہے۔

اسی دوران "عاصمہ جہانگیر کانفرنس" نے سماجی اور قانونی شعور کی ایک نئی شمع روشن کی۔ فلیٹیز ہوٹل میں ہونے والی اس کانفرنس میں انسانی حقوق اور آئین کی بالادستی پر بے باک گفتگو نے ثابت کیا کہ لاہور آج بھی مزاحمت اور سچائی کا علمبردار ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ لاہور میں "مکالمہ کا کلچر" دوبارہ زندہ ہو رہا ہے، جو کسی بھی بنجر ہوتے ہوئے معاشرے میں نئی روح پھونکنے کے مترادف ہے۔

جب ہم کتابوں، پتنگوں اور دانشورانہ گفتگو کے درمیان ہوتے ہیں، تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ معاشرے کی ترقی کا راستہ اسلحے اور نفرت سے نہیں بلکہ قلم، فن اور رواداری سے ہو کر گزرتا ہے۔ لاہور کے شہریوں نے بھی اس بار غیر معمولی بلوغت کا ثبوت دیا۔ انہوں نے دکھایا کہ وہ ایک ہی وقت میں پتنگ بھی اڑا سکتے ہیں اور سنجیدہ علمی کتاب بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ رونقیں عارضی تھیں؟ کیا یہ جشن صرف چند دن کا تھا؟ وزیراعلیٰ پنجاب کا دیگر شہروں میں بھی بسنت کی اجازت دینے کا اشارہ ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کی شرط وہی نظم و ضبط ہے جو لاہور نے کر دکھایا۔

ہمارے معاشرے کو انتہا پسندی اور مایوسی سے بچانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ہم اپنے میدانوں کو کھیلوں سے، چھتوں کو پتنگوں سے اور ہالوں کو کتابوں اور مکالمے سے آباد رکھیں۔ لاہور کی یہ "تہذیبی مثلث" یعنی بسنت، کتاب اور مکالمہ وہ کامیاب ماڈل ہے جسے پورے ملک میں پھیلانے کی ضرورت ہے۔ لاہور کا یہ اختتامِ ہفتہ ہمیں ایک عظیم سبق دے گیا ہے کہ ترقی صرف سڑکیں اور پل بنانے کا نام نہیں، بلکہ حقیقی ترقی انسانی ذہن کو آزاد کرنے، اسے ثقافتی شناخت دینے اور تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کا نام ہے۔۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تسلسل کو ٹوٹنے نہ دیا جائے، کیونکہ جس معاشرے میں تہوار مر جاتے ہیں، وہاں خوف کے سائے آباد ہو جاتے ہیں۔

لاہور جیتے رہو، تم نے ہمیں جینا سکھا دیا!

Check Also

Libra

By Rauf Klasra