Wednesday, 11 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Fatima Jinnah, Ayub Khan Aur Aik Vote Ki BD Memberi

Fatima Jinnah, Ayub Khan Aur Aik Vote Ki BD Memberi

فاطمہ جناح، ایوب خان اور ایک ووٹ کی بی ڈی ممبری

میرے پاس بہت عرصے تک ایک قیمتی امانت محفوظ رہی، محترمہ فاطمہ جناح کا وہ خط جو انہوں نے سن انیس سو پینسٹھ میں میرے والد محترم کو بی ڈی ممبر منتخب ہونے پر مبارکباد کے طور پر لکھا تھا۔ وہ خط برسوں میری ڈائری کے اوراق میں دبا رہا، جیسے تاریخ کی کوئی سانس لیتی ہوئی نشانی ہو۔ آج میں اسے تلاش کرنے کی بہت کوشش کرتا ہوں مگر وہ کہیں کاغذوں کے ڈھیر میں گم ہو چکا ہے۔ کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خط صرف کاغذ نہ تھا بلکہ ایک عہد، ایک خواب اور ایک کردار کی گواہی تھا، جو اب یادوں کی دھند میں چھپ گیا ہے، مگر اس کی خوشبو آج بھی میرے دل میں زندہ ہے۔

یہ خط والد صاحب جناب گلستان خان نے ایک خزانے کی صورت برسوں اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ یہ خط نہ تھا، گویا ہفت اکلیم تھی۔ اس خط سے قائد اعظمؒ کی خوشبو آتی تھی اور یہ اصل مسلم لیگ کی تاریخ تھی، وہ مسلم لیگ جس کی قائد اعظم نے اپنے ہاتھوں سے بنیاد رکھی۔

یہ کہانی پنجاب اور سرحد کے سنگم پر آباد ہمارے قدیم گاؤں کے اس بازار سے شروع ہوتی ہے جہاں سن انیس سو پینسٹھ میں سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ غیرت، وقار اور عوامی خدمت کا نام تھی۔

انہی دنوں ایک صبح بازار میں ایک دراز قد، مضبوط جسامت کے بزرگ، جن کی عمر کوئی چھتیس برس کے لگ بھگ ہوگی، ہاتھ میں کلہاڑی لیے بازار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چکر لگا رہے تھے اور بلند آواز میں للکار رہے تھے:

"ہے کوئی مرد کا بچہ جو ہمارے مقابل آئے اور ہمیں شکست دے؟"

یہ بزرگ محمد ایوب تھے، رشتے میں میرے چچا، مضبوط جسامت کے، جن کی للکار میں اس دور کے دیہی معاشرے کی سادگی، جرات اور بے ساختہ پن صاف جھلکتا تھا۔

وہ زمانہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دور تھا۔ جس وارڈ سے بی ڈی ممبر منتخب ہونا تھا وہ چار پانچ بڑے گاؤں پر مشتمل تھا، ایک ایسا حلقہ جو آج کے دور کے کسی ضلع کونسل کے حلقے سے کم نہ تھا۔ پنجاب کے آخری کنارے پر واقع باڑیاں کے بازار میں والد صاحب کا کاروبار تھا اور علاقے کے لوگوں نے اپنے اعتماد کا بوجھ ان کے کندھوں پر رکھ دیا۔ مگر مقابلہ نہایت سخت تھا۔ مخالفین مالی وسائل، برادری کی طاقت اور ایک پرانے سیاسی خاندان کی پشت پناہی رکھتے تھے۔ بظاہر سب اندازے یہی کہتے تھے کہ یہ جنگ یکطرفہ ہوگی۔

الیکشن سے ایک رات پہلے ایک ایسا منظر رقم ہوا جس کے راوی والد صاحب تھےاور یہ کہانی میں اپنے بچوں کو درجنوں بار سنا چکا ہوں۔

میرے دادا مرحوم، جناب سلطان خان، ٹھیک آدھی رات کو مصلے پر بیٹھ گئے۔ تہجد تک وہ سجدے میں رہے، آنسوؤں اور دعاؤں کے ساتھ اپنے رب سے فریاد کرتے رہے۔ فجر کے وقت انہوں نے اٹھ کر والد صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا، پیشانی پر شفقت سے تھپکی دی اور کہا: "جا بچہ، اللہ تمہیں کامیاب کرے گا"۔ ان کی آواز میں ایسا یقین تھا جیسے آسمان سے فیصلہ سنایا جا چکا ہو۔

جب والد صاحب بازار پہنچے تو وہاں انسانوں کا ایک سمندر موجزن تھا۔ اہل علاقہ کے علاوہ قریبی کینٹ میں کام کرنے والے مسیحی مزدوروں کی بڑی تعداد پرجوش نعروں کے ساتھ موجود تھی۔ فضا میں ایک عجیب سا تناؤ بھی تھا، کیونکہ مخالفین کی طرف سے بیلٹ باکس چھین لینے کی دھمکیاں گردش کر رہی تھیں۔ انہی خطرات کے بیچ ہمارے ایک بزرگ عزیز راجہ برخوردار خان نے کمال ہوشیاری سے بیلٹ باکس سائیکل کے کیرئر پر، چادر میں چھپا کر کلڈنا بازار سے پولنگ سٹیشن تک بحفاظت پہنچا دئیے۔

شام ڈھلی، سورج افق کے پیچھے چھپ گیا اور نتیجہ سامنے آیا۔ چند سو رجسٹرڈ ووٹوں میں، میرے والد محترم صرف ایک ووٹ کی برتری سے کامیاب قرار پائے۔ ایک ووٹ! مگر اس ایک ووٹ میں ایک پورے عہد کی سچائی سمٹی ہوئی تھی۔ آج جب میں موجودہ دور کے انتخابات کو دیکھتا ہوں، جہاں ہزاروں ووٹوں کی برتری بھی متنازع بنا دی جاتی ہے، تو حیرت ہوتی ہے کہ اس سادہ زمانے میں ایک ووٹ کے فیصلے کو کھیل کے جذبے کے ساتھ قبول کر لیا گیا۔ شکست کھانے والوں نے ہار تسلیم کی اور جیتنے والوں نے غرور نہیں کیا۔ کیا وضع داری تھی۔

یہ دراصل وہ تاریخی انتخاب تھا جو صدر جنرل ایوب خان اور قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کے درمیان عہدۂ صدارت کے لیے ہو رہا تھا۔ سن انیس سو انسٹھ اور انیس سو ساٹھ میں ملک بھر سے تقریباً چالیس ہزار بی ڈی (Basic Democrats) ممبرز منتخب کیے گئے اور پھر سن انیس سو پینسٹھ میں مزید قریباً چالیس ہزار نمائندوں کا اضافہ کیا گیا۔ یوں تقریباً اسی ہزار بی ڈی ممبرز پر مشتمل یہ انتخابی مجلس براہِ راست ان دونوں شخصیات میں سے ایک کو صدر منتخب کرنے والی تھی۔ میرے والد محترم مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے پُرجوش سپورٹر تھے اور وہ اس انتخاب کو محض سیاسی معرکہ نہیں بلکہ اصول اور ضمیر کی جنگ سمجھتے تھے۔ بہرحال اس وقت کی مقتدرہ کی طاقت کے سبب فاطمہ جناح کو 28,691 ووٹ پڑے اور ایوب خان اکثریتی ووٹوں سے صدر منتخب ہوئے۔

اسی سی جڑی ایک یاداشت میں والد صاحب اپنی ڈائری میں یوں رقم طراز ہیں "آج سب ڈویژنل مجسٹریٹ ہمارے علاقے میں تشریف لائے۔ میں نے اہل علاقہ کی مشاورت سے علاقے کے مسائل کی ایک لسٹ تیار کی۔ الحمدللہ جتنے مطالبات تھے، وہ تسلیم ہوئے، ایس ڈی ایم صاحب کو تالیوں کی گونج میں ہم نے رخصت کیا، میرا دل مطمئن تھا، آج اپنے لوگوں کے حقوق کی پاسداری میں، میں سرخرو ہوا"۔

اور جب میں آج اس گمشدہ خط کو یاد کرتا ہوں، مادرِ ملت کا وہ مبارکبادی پیغام، تو یوں لگتا ہے جیسے وہ صرف ایک شخص کے نام نہیں تھا، بلکہ ایک پورے کردار، ایک نسل اور ایک خواب کے نام تھا۔ میرے والد کی زندگی مجھے یہ سکھاتی ہے کہ اصل وراثت زمین یا جائیداد نہیں ہوتی، بلکہ وہ اصول ہوتے ہیں جو انسان اپنے عمل سے آنے والی نسلوں کے دلوں میں رقم کر جاتا ہے۔ شاید وہ خط کاغذ کی صورت میں کھو گیا ہو، مگر اس کا مفہوم آج بھی ہماری رگوں میں دوڑتا ہے، ایک خاموش مگر طاقتور یاد دہانی کہ سچائی، خدمت اور ایمان کبھی ضائع نہیں ہوتے۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Pak Kazak Tawun Ke Imkanat o Asraat

By Hameed Ullah Bhatti