Qaum, Quaid Aur Khamoshi Ka Azab
قوم، قائد اور خاموشی کا عذاب

یہ تاریخ کا ایک کڑوا مگر سچا اصول ہے کہ زندہ قومیں اپنے قائدوں کو بچاتی ہیں اور مردہ قومیں اپنے قائدوں کو تنہا چھوڑ دیتی ہیں جب قومیں شعور کھو بیٹھیں تو پھر قائدین کے ساتھ وہی سلوک ہوتا ہے جو ہم اپنی تاریخ میں بار بار دیکھتے آئے ہیں پاکستان ہو یا گلگت بلتستان یہاں جو بھی شخص عوام کے حقوق کی بات کرتا ہے وہ دراصل اپنے لیے مصیبتوں کا دروازہ کھول دیتا ہے گویا سچ بولنا اور مظلوم کی آواز بننا خود کو عذاب کے حوالے کرنے کے مترادف بن چکا ہے۔
ہماری تاریخ اس تلخ حقیقت کی گواہ ہےسب سے پہلے قائد اعظم محمد علی جناح کو دیکھ لیجیے وہ شخص جس نے اپنی صحت، اپنی جوانی اور اپنی تمام توانائیاں ایک آزاد وطن کے لیے قربان کر دیں مگر آزادی کے بعد اسی قائد کو تنہائی اور بے اعتنائی کے سپرد کر دیا گیا۔ قوم سب کچھ جانتی تھی مگر خاموش رہی وہ خاموشی زہر قاتل بن کر ہماری اجتماعی رگوں میں سرایت کر گئی اور آج تک ہمیں ڈس رہی ہے۔
پھر ذوالفقار علی بھٹو آئے ایک عوامی رہنما جس نے سیاست کو ایوانوں سے نکال کر گلی کوچوں تک پہنچایا۔ مگر جب اسے تختہ دار تک لے جایا جا رہا تھا تو قوم کا بڑا حصہ تماشائی بنا رہا تاریخ کے اس موڑ پر بھی خاموشی نے سچ کا ساتھ نہیں دیا آج کا منظرنامہ دیکھ لیجیے۔ عمران خان جس نے ایک آسودہ اور شاہانہ زندگی چھوڑ کر سیاست کا راستہ اختیار کیا اور اپنے دعوے کے مطابق قوم کے لیے جدوجہد کی آج وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں اور قوم کا ایک بڑا حصہ اس ساری کہانی کو کسی سیاسی ڈرامے کی طرح دیکھ رہا ہے جس نے اس سوئی ہوئی قوم کو جگایا پورے غلیظ نظام کو اور اس سے ملحقہ بندوں کو ننگا کیا اس قوم کی حقیقی آزادی کے لئے قوم کو آزادی تو نہیں مل سکی مگر وہ خود قید تنہائی کا شکار ہوئے ہم ایک تماشا بین قوم ہیں مردہ ضمیر قوم جسکا کوئی ویژن نہیں سوائے حرام خوری کے۔
یہی کہانی کسی اور زاویے سے گلگت بلتستان میں بھی دہرائی جاتی ہے یہاں جو بھی حقیقی اور وطن دوست لیڈر اپنی عوام کے حقوق کی بات کرتا ہے اس پر فوراً غداری اور را کے ایجنٹ ہونے کے فتوے لگا دیے جاتے ہیں۔ پھر اس کے خلاف مقدمات بنتے ہیں اسے پابندِ سلاسل کیا جاتا ہے اور ہر ممکن طریقے سے اسے عوامی سیاست سے دور رکھا جاتا ہےگویا یہاں اصول یہ بنا دیا گیا ہے کہ جو جتنا زیادہ اپنی دھرتی اور اپنے لوگوں کے حق میں بولے گا وہ اتنا ہی زیادہ مشکوک قرار دیا جائے گا۔
گلگت بلتستان کے اصل عوامی لیڈروں کو کبھی آگے آنے ہی نہیں دیا گیا کھٹپتلی وفاق کے غلاموں کو راستے کھلے چھوڑ دئے گئے اور انہیں استعمال کرکے حقوق پر ڈاکے ڈالے گئے امجد اور حفیظ جیسے وفاقی غلاموں کے لئے آزادی ہے جبکہ حقیقی نمائندوں کےکئے تمام دروازے بند ہیں حقیقی نمائندوں کو مختلف ذرائع سے ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں ان کی کردار کشی کی جاتی ہے اور یوں ایک ایسا تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ جیسے اپنے لوگوں کے حق کی بات کرنا ہی جرم ہو۔
اس کی ایک تلخ مثال جعفر شاہ جیسے بزرگ رہنما کی ہے انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ادوار میں گلگت بلتستان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی مگر جب وہ اس جدوجہد کے عروج پر تھے تو اچانک ان کی زندگی کا چراغ بجھ گیا۔ بظاہر وجہ بیماری بتائی گئی مگر بہت سے لوگوں کے دلوں میں آج بھی سوال زندہ ہے کہ اصل کہانی کیا تھی۔ اسکے علاوہ گلگت بلتستان کے ابھرتے ہوئے عوامی لیڈر خالد خورشید کے ساتھ جو دلوں روا رکھا گیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے راتوں رات امجد جیسے وفاقی غلام اور طاقتوروں کی ملی سازش سے اسکی حکومت ختم کردی گئی اور جعلی ڈگری کیس میں اقتدار سے دور کردیا گیا اور 34 سال کی سزا سنائی گئی۔
یہ صرف ایک دو نام نہیں ایسے بہت سے عوامی رہنما ہیں جن کے ساتھ طاقتور اداروں اور نظام نے ایسا سلوک کیا جو تاریخ کے حافظے سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ کسی کو جیل میں ڈالا گیا کسی کو خاموش کر دیا گیا اور کسی کو سیاست کے میدان سے ہمیشہ کے لیے باہر کر دیا گیا مسئلہ صرف حکمرانوں کا نہیں مسئلہ اس قوم کی نفسیات کا بھی ہے جو ہر اہم موڑ پر خاموش ہو جاتی ہے۔ یہ ہجوم تو ہے مگر قوم نہیں اور جب قوم ہجوم بن جائے تو اس پر مسلط حکمران دراصل اسی ہجوم کے رویّوں کا عکس بن جاتے ہیں شاید اسی لیے آج ہمیں ایسے حکمران ملے ہیں جو ایک عذاب سے کم نہیں جنہوں نے عوام کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے مہنگائی، بے بسی اور ناامیدی کا جو طوفان ہے وہ صرف سیاسی ناکامی نہیں بلکہ کسی حد تک اجتماعی سزا بھی محسوس ہوتا ہے۔
تاریخ کا اصول بڑا واضح ہے قومیں اگر بیدار نہ ہوں تو عذاب صرف آسمان سے نہیں اترتا وہ اقتدار کے ایوانوں سے بھی نازل ہو جاتا ہے اور گلگت بلتستان کی اس خاموش وادی میں بھی بہت سی کہانیاں ابھی دفن ہیں ان کہانیوں ان کرداروں اور ان مظالم کی تفصیل ان شاء اللہ کسی آئندہ خصوصی کالم میں قارئین کے سامنے رکھی جائے گی تاکہ تاریخ کے اوراق پر وہ سچ بھی درج ہو سکے جو آج تک دبایا جاتا رہا ہے۔

