Friday, 10 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Pakistan Hamesha Zindabad

Pakistan Hamesha Zindabad

پاکستان ہمیشہ زندہ باد

پاکستان ہمیشہ زندہ باد نعرہ لگانا آسان ہے مگر عملی طور ثابت قدم رہنا بہت مشکل ہے۔ کھوکھلے نعروں سے وقتی دلوں کو گرمایا تو جاسکتا ہے مگر حقیقی خوشی نہیں۔ سیاسی میدان میں ایسے بہت سے بہروپئے موجود ہیں جب وہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو اداروں کے خلاف خوب زہر اگلتے ہیں۔ کھلے عام کہتے ہیں انہوں نے کونسی جنگ لڑی ہے کیا کبھی کسی نے ان سے پوچھا بھی ہے فلاں جنگ یہ ہارے فلاں جنگ یہ ہارے انکی ٹانگیں کانپ رہی تھیں ماتھے پر پسینے تھے۔ آج قدرت کے کرشمے دیکھیں وہی مفاد پرست زہر اگلنا والا مچلتی خواہشوں کے ساتھ اس ادارے کا سربراہ ہے یعنی وزیر دفاع ہے مطلب یہ سب مفاد کی سیاست ہے ملکی مفاد سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔

یہ کیسا عہد ہے کہ یہاں سچ بولنا جرم بنتا جا رہا ہے اور نعرہ لگانا حب الوطنی کی سند ٹھہرا ہے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد کی گونج میں ایک عجیب سی کھوکھلاہٹ سنائی دیتی ہے جیسے الفاظ تو زندہ ہوں مگر نیتیں مر چکی ہوں۔ جب بہادروں سے سامنا ہوتا ہے تو یہی نعرے باز استثنیٰ کی چادر اوڑھ کر خاموشی کے کسی کونے میں جا چھپتے ہیں اور جب میدان خالی ہو تو یہی لوگ حب الوطنی کے سب سے بڑے ٹھیکیدار بن جاتے ہیں۔

سچ یہاں بوجھ بن چکا ہے نہ کوئی اسے سننے کو تیار ہے نہ برداشت کرنے کو جو بولتا ہے وہ نشانِ عبرت بن جاتا ہے۔ اسکی بہت ساری مثالیں ہمارے سامنے ہیں جو لکھتا ہے اس کے لیے راستے تنگ کر دیے جاتے ہیں جو بولتا ہے اس سے غائب کیا جاتا ہے۔ میں نے پہلے ہی زکر کیا ہے کل تک ایوانوں میں ایک آواز گونجتی تھی، طنز سے بھری سوال سے لبریز یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کون سی جنگ لڑی ہے آج وہی آواز بدل چکی ہے، لہجہ نرم ہے کرسی مضبوط ہے اور سوال کہیں گم ہو چکا ہے یہ محض یوٹرن نہیں یہ ہمارے سیاسی ضمیر کی قیمت کا تعین ہے۔

یہاں موقف نہیں بدلتے صرف مفادات کا رخ تبدیل ہوتا ہے۔ اقتدار کے ایوان آج کسی نظریے کی نہیں مفاد کی نمائندگی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مختلف سمتوں سے آنے والے لوگ ایک ہی میز پر جمع ہیں اور اس میز پر قوم نہیں مفاد رکھا ہے۔ ایک عجیب سا اتحاد ہے نہ یہ نظریاتی ہے نہ اصولی یہ صرف مفادات کا بندھن ہے جہاں ہر کوئی اپنا حصہ محفوظ بنانے میں مصروف ہے۔ ادھر معیشت لڑکھڑا رہی ہے عام آدمی کی سانس تنگ ہو رہی ہے روزی روٹی ایک خواب بنتی جا رہی ہے اور ادھر اقتدار کے ایوانوں میں سکون کی چادر تنی ہوئی ہے۔

بیرونِ ملک جائیدادیں، بڑھتے ہوئے اثاثے یہ صرف سرمایہ نہیں سوال ہیں ایسے سوال جو فائلوں میں دفن نہیں ہوتے بلکہ وقت کے ساتھ اور بلند ہو جاتے ہیں۔ اصل المیہ یہ نہیں کہ یہاں مجرم موجود ہیں اصل المیہ یہ ہے کہ انہیں تقدس کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے اور جو سوال کرے وہی مشکوک ٹھہرتا ہے یہاں محبتِ وطن اب ایک نعرہ نہیں۔ ایک کاروبار ہے ایک ایسا سکہ جو ہر مفاد پرست اپنی جیب میں رکھتا ہے اور موقع دیکھ کر اچھال دیتا ہے حقیقی محبِ وطن وہ نہیں جو سب سے اونچی آواز میں بولے بلکہ وہ ہے جو سب سے کٹھن وقت میں بھی سچ کا ساتھ دے چاہے اس کی آواز دب ہی کیوں نہ جائے۔ سوال یہ نہیں کہ کون کتنا بڑا محبِ وطن ہے سوال یہ ہے کہ کون سچ کے ساتھ کھڑا ہے کون اس ملک اور اسکی قوم کے ساتھ کھڑا ہے کیونکہ قومیں نعروں سے نہیں کردار سے بنتی ہیں اور جب کردار کمزور ہو جائے تو سب سے بلند نعرہ بھی کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ پاکستان کو آج نعروں کی نہیں سچ کی ضرورت ہے مگر سچ وہ مہمان ہے جس کے لیے اس سرزمین پر دروازے کم اور دیواریں زیادہ کھڑی کر دی گئی۔

یہ بڑی عجیب بات ہے کہ اس دھرتی پر بسنے والے اکثر لوگ وطن سے محبت کے دعوے تو بڑے زور و شور سے کرتے ہیں مگر جب اس محبت کا امتحان آتا ہے تو کردار کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ نعرے بلند ہوتے ہیں جھنڈے لہرائے جاتے ہیں مگر مٹی کی سچی محبت کہیں گم ہو جاتی ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ محبت کو بھی نعروں میں قید کر دیا گیا ہےحب الوطنی اب ایک سلوگن بن چکی ہے ایک ایسا سلوگن جسے ہر وہ شخص استعمال کرتا ہے جو اپنے کردار کی کمزوری کو چھپانا چاہتا ہے۔ عجیب تضاد ہے کہ زبان پر وطن سے محبت اور ہاتھوں میں اس کے وسائل کی لوٹ مار یہاں محبت کا پیمانہ بھی نرالا ہے جو جتنا زیادہ شور مچائے وہ اتنا بڑا محبِ وطن سمجھا جاتا ہے اور جو خاموشی سے اپنے حصے کا کام کرے قانون کی پاسداری کرے سچ بولے دیانتداری سے جئے اسے کوئی نہیں پوچھتا حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ وطن سے محبت نعروں سے نہیں کردار سے ثابت ہوتی ہے۔

وہ شخص جو اپنے شہر کی گلی میں کوڑا پھینکتا ہے جو رشوت دے کر اپنا کام نکلواتا ہے جو حق مار کر آگے بڑھتا ہے وہ چاہے ہزار بار زندہ باد کے نعرے لگا لے اس کی محبت کھوکھلی ہے کیونکہ محبت صرف جذبات کا نام نہیں ذمہ داری کا نام بھی ہے۔

اصل محبِ وطن وہ ہے جو اپنے حصے کی شمع جلائے، جو اندھیرے کو کوسنے کے بجائے روشنی پیدا کرے، جو اس دھرتی کو صرف لینے کی جگہ نہ سمجھے بلکہ دینے کا حوصلہ بھی رکھے جو مشکل وقت میں پیچھے نہ ہٹے بلکہ اپنے وطن کے ساتھ کھڑا ہو بغیر کسی صلے، بغیر کسی نمود کے یہ وقت ہے کہ ہم نعروں اور حقیقت کے درمیان فرق کو سمجھیں وطن سے محبت کو جذباتی تقریروں سے نکال کر عملی زندگی میں لائیں کیونکہ یہ مٹی صرف تعریفوں سے نہیں کردار سے سنورتی ہے ورنہ تاریخ نے ہمیشہ ایسے لوگوں کو یاد رکھا ہے جو خاموشی سے اپنے وطن کے لیے جیتے اور مرتے رہے اور نعروں کے شور میں گم ہونے والوں کا کہیں ذکر تک نہیں ملتا۔۔

خیر پاکستان زندہ باد

Check Also

Saya Hai Yahan Par Mere Mola Ke Karam Ka

By Farhat Abbas Shah