Thursday, 09 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Marhoom Ban Jayen Ge Magar Mehroom Nahi

Marhoom Ban Jayen Ge Magar Mehroom Nahi

مرحوم بن جائیں مگر محروم نہیں

کچھ عرصہ پہلے ایک جنازے میں شرکت کا اتفاق ہوا نمازِ جنازہ ختم ہوئی لوگ مرحوم کے لیے دعا کرتے رہے پھر آہستہ آہستہ منتشر ہونے لگے اس دوران دو بزرگ آپس میں بات کر رہے تھے۔ ایک نے دوسرے سے کہا اللہ تعالیٰ ہر انسان کو مرحوم بنائے محروم نہ بنائے یہ جملہ مجھے تیر کی طرح میرے دل و دماغ میں پیوست ہوگیا۔ کہنے کو یہ ایک عام سا جملہ تھا مگر میں کئی دن تک اس کے بارے میں سوچتا رہا آخر مرحوم اور محروم میں فرق کیا ہے؟

دونوں لفظوں میں صرف چند حروف کا فرق ہے لیکن حقیقت میں یہ دو مختلف زندگیاں ہیں بلکہ دو مختلف انجام ہیں ہم سب ایک دن مریں گے اس میں کوئی شک نہیں موت نہ امیر کو چھوڑتی ہے نہ غریب کو نہ بادشاہ کو نہ فقیر کو لیکن مرنے کے بعد ہر شخص ایک جیسا نہیں ہوتا کچھ لوگ مرحوم بن جاتے ہیں اور کچھ صرف مر جاتے ہیں۔ مرحوم وہ نہیں جس کی موت پر بڑا مجمع جمع ہو جائے کیونکہ مجمع طاقت سے بھی جمع ہو جاتا ہے شہرت سے بھی اور عہدے سے بھی مرحوم وہ ہے جس کے جانے کے بعد لوگوں کی آنکھیں نم ہوں دل سے دعا نکلے اور زبان بے اختیار کہہ اٹھے اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے اس کے برعکس محروم وہ نہیں جس کے پاس پیسہ کم ہو دنیا میں بے شمار غریب ایسے گزرے ہیں جو مرحوم کہلائے اور بے شمار دولت مند ایسے بھی گزرے جنہیں لوگ آج بھی اچھے لفظوں میں یاد نہیں کرتے اصل محرومی دولت کی نہیں کردار کی ہوتی ہے۔

ہم نے کامیابی کے پیمانے بدل دیے ہیں۔ آج اگر کسی کے پاس بڑی گاڑی ہو بڑا گھر ہو اچھا عہدہ ہو اور بینک بیلنس بھرا ہوا ہو تو ہم اسے کامیاب سمجھتے ہیں لیکن ہم یہ نہیں پوچھتے کہ اس کے ملازم اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ اس کے پڑوسی اس کے لیے کیا محسوس کرتے ہیں اس کے رشتہ دار اس کا نام احترام سے لیتے ہیں یا مجبوری میں اس کے پڑوسی اس سے کتنے خوش ہیں۔ یہ سوال اس لیے اہم ہیں کہ انسان کا اصل تعارف اس کے کاروبار سے نہیں اس کے کردار سے ہوتا ہے زندگی ایک عجیب امتحان ہے ہم ساری عمر وہ چیزیں جمع کرتے رہتے ہیں جو آخرکار دوسروں کی ہو جاتی ہیں اور جن چیزوں کو نظرانداز کرتے رہتے ہیں وہی ہمارے ساتھ قبر تک جاتی ہیں۔

گھر دوسروں کے گاڑیاں دوسروں کی بینک بیلنس دوسروں کا لیکن اعمال ہمارے اپنے یہ دنیا بھی عجیب ہے یہاں لوگ کامیاب انسان سے ہاتھ ملاتے ہیں مگر اچھے انسان کے لیے دعا کرتے ہیں اور یقین مانیے ہاتھ ملانے سے زیادہ قیمتی چیز دعا ہے۔ ہمیں کبھی فرصت ملے تو اپنے موبائل فون کی رابطہ فہرست دیکھ لیجیے سینکڑوں نمبر محفوظ ہوں گے لیکن اگر آج ہمیں کوئی مشکل پیش آ جائے تو ان میں سے کتنے لوگ واقعی ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے اسی طرح اگر کل ہماری وفات ہو جائے تو ان سینکڑوں میں سے کتنے لوگ ہمارے لیے سچے دل سے دعا کریں گے یہی ہماری اصل کمائی ہے۔

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ نیکی کا مطلب صرف عبادت ہے حالانکہ عبادت کے ساتھ حسنِ اخلاق بھی ضروری ہے نرم لہجہ بھی صدقہ ہے کسی کا بوجھ ہلکا کرنا بھی عبادت ہے کسی کو معاف کر دینا بھی نیکی ہے اور کسی کا دل نہ توڑنا بھی عبادت ہے۔ زندگی کا حساب صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ ہم نے کتنا کمایا بلکہ اس پر بھی ہوگا کہ ہم نے کتنے دل جوڑے کتنے آنسو پونچھے کتنے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی اور کتنے لوگوں کو اپنی وجہ سے تکلیف پہنچی۔ شاید اسی لیے کچھ لوگ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں ان کا نام آتا ہے تو چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے اور دل دعا کے لیے اٹھ جاتا ہے اور کچھ لوگ زندہ رہتے ہوئے بھی لوگوں کی دعاؤں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس لیے آج سے ایک فیصلہ کر لیجیے اگر دولت ملے تو شکرکے ساتھ، اختیار ملے تو انصاف کے ساتھ علم ملے تو عاجزی کے ساتھ اور طاقت ملے تو رحم کے ساتھ استعمال کیجیے یہی وہ صفات ہیں جو انسان کو مرحوم بناتی ہیں آخر میں صرف ایک سوال۔۔

اگر آج رات ہماری زندگی کا آخری باب لکھ دیا جائے تو کیا ہماری خبرِ وفات سن کر لوگ صرف إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيُهِ رَاجِعُونَ۔ پڑھیں گے یا اس کے بعد دل سے یہ دعا بھی کریں گے اے اللہ! اس بندے پر اپنی رحمت نازل فرما اس کی مغفرت فرما اس کی لغزشوں سے درگزر فرما اگر اس سوال کا جواب ہاں میں ہے تو آپ خوش نصیب ہیں اور اگر جواب نہیں میں ہے تو گھبرائیے نہیں ابھی وقت باقی ہے زندگی نے ابھی مہلت دی ہوئی ہےکوشش کیجیے کہ جب دنیا سے جائیں تو لوگ آپ کے نام کے ساتھ صرف ایک لفظ لکھیں مرحوم کیونکہ مرحوم ہونا تقدیر نہیں کردار کا حاصل ہے جبکہ محرومی اکثر انسان اپنے ہاتھوں سے خود خریدتا ہے۔

آخر میں اپنے آپ سے صرف ایک سوال کیجیے اگر آج رات آپ کی زندگی کا چراغ بجھ جائے آپ کا موبائل ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے آپ کا گھر آپ کی گاڑی آپ کا بینک بیلنس آپ کا عہدہ آپ کی شہرت سب یہیں رہ جائیں اور صرف آپ کا کردار آپ کے ساتھ قبر میں اترے تو کیا آپ واقعی مطمئن ہوں گے؟ کیا آپ کے جانے کے بعد لوگوں کے ہاتھ صرف تعزیت کے لیے اٹھیں گے یا آپ کے لیے دعا کے لیے بھی بلند ہوں گے؟ کیا کسی یتیم کی آنکھ آپ کے لیے نم ہوگی؟

کیا کسی غریب کے ہونٹ آپ کے حق میں دعا کریں گے؟ کیا کسی مظلوم کا دل گواہی دے گا کہ یہ شخص میرے حق میں کھڑا ہوا تھا؟ اگر ان سوالوں کا جواب خاموشی ہے تو سمجھ لیجیے ابھی زندگی کا سب سے اہم امتحان باقی ہے وقت ابھی بھی ہاتھ میں ہے اپنے نام کے ساتھ لاکھوں روپے بڑے عہدے یا لمبی ڈگریاں نہیں جائیں گی صرف ایک لفظ جائے گا مرحوم یا محروم فیصلہ آج آپ کے ہاتھ میں ہے کہ کل لوگ آپ کو کس نام سے یاد کریں گے یاد رکھیے انسان کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ کتنی بڑی زندگی جیتا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے پیچھے کتنی بڑی دعا چھوڑ جاتا ہے۔

Check Also

Inqilab, Bayania Algorithm Ke Reham o Karam Par

By Syed Mehdi Bukhari