Imam Khamenei Isteqamat Ka Ehad (2)
امام خامنہ ای استقامت کا عہد (2)

تاریخ کے کچھ دن عام دن نہیں ہوتے۔ وہ کیلنڈر کی تاریخوں میں تو قید ہو جاتے ہیں مگر قوموں کے حافظے میں صدیوں تک سانس لیتے رہتے ہیں بعض جنازے صرف ایک انسان کو رخصت نہیں کرتے وہ ایک عہد کو الوداع کہتے ہیں ایک فکر کو نئی زندگی دیتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے سامنے ایسے سوال چھوڑ جاتے ہیں جن کے جواب صرف سیاست نہیں، وقت دیتا ہے تہران کی فضاؤں میں اٹھنے والی وہ صدائیں سڑکوں پر امڈتا ہوا انسانی سمندر دنیا کے مختلف خطوں سے آنے والے وفود مختلف زبانوں میں ادا ہونے والے تعزیتی کلمات اور لاکھوں آنکھوں میں تیرتی نمی یہ سب صرف ایک تدفین کا منظر نہیں تھا یہ تاریخ کے اس باب کا آخری صفحہ بھی تھا اور شاید ایک نئے باب کی پہلی سطر بھی طاقت کے ایوان ہمیشہ یہ گمان کرتے ہیں کہ تاریخ ان کے قلم سے لکھی جاتی ہے انہیں یقین ہوتا ہے کہ میزائل پابندیاں معاشی دباؤ اور عسکری برتری ہی آخری فیصلہ کرتے ہیں مگر تاریخ کا اپنا مزاج ہے وہ کبھی کبھی ان لوگوں کو بھی امر کر دیتی ہے جن کے پاس نہ دنیا کی سب سے بڑی فوج ہوتی ہے نہ سب سے مضبوط معیشت اور نہ ہی عالمی طاقتوں کی سرپرستی تاریخ اکثر کردار کی روشنائی سے لکھی جاتی ہے بارود کی سیاہی سے نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا میں نظریات کی جنگ کبھی ختم نہیں ہوئی سلطنتیں آئیں، فاتحین گزر گئے تاج اچھلتے رہے تخت بدلتے رہے، لیکن افکار کا سفر جاری رہا۔ انسان کو قتل کرنا شاید آسان ہو لیکن اس کے یقین کو دفن کرنا کبھی آسان نہیں رہا اسی لیے دنیا کی ہر بڑی طاقت نے پہلے جسموں کو نشانہ بنایا اور بعد میں محسوس کیا کہ نظریے ابھی تک زندہ ہیں ایران کی معاصر تاریخ بھی اسی حقیقت کی ایک پیچیدہ اور غیر معمولی مثال ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں میں اس ملک نے سخت معاشی پابندیوں سفارتی تنہائی، سیاسی دباؤ اور مسلسل علاقائی کشیدگی کا سامنا کیا ان حالات میں اس کی پالیسیاں عالمی سطح پر مسلسل بحث کا موضوع رہیں بعض حلقے اسے استقامت کی علامت قرار دیتے ہیں جبکہ دوسرے اس کے سیاسی اور معاشی نتائج پر تنقید کرتے ہیں یہ اختلاف اپنی جگہ موجود ہے، مگر ایک حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ طویل دباؤ کے باوجود ایک ریاست اور اس کے معاشرے نے اپنے وجود اور اپنے نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش جاری رکھی تاریخ ایسے واقعات کو ہمیشہ الگ نظر سے دیکھتی ہے کیونکہ وہ نتائج کے ساتھ ساتھ حوصلوں کا بھی حساب رکھتی ہے۔
امام خامنہ ای کے انتقال کے بعد ان کی تدفین میں دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والے وفود نے اس منظر کو ایک بین الاقوامی علامت میں بدل دیا وہاں صرف ایک قوم موجود نہیں تھی صرف ایک زبان بولنے والے لوگ نہیں تھے، صرف ایک مسلک کے افراد نہیں تھے مختلف قومیتیں مختلف تہذیبیں اور مختلف فکری پس منظر رکھنے والے افراد ایک مقام پر کھڑے تھے ہر شخص اپنے زاویۂ نظر کے ساتھ آیا تھا مگر سب ایک ایسے واقعے کے گواہ بن رہے تھے جس نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ بعض شخصیات اپنی زندگی سے بڑھ کر اپنی یاد کے ذریعے اثر چھوڑتی ہیں۔
یہ منظر ایک سوال بھی چھوڑ گیا آخر وہ کون سی قوت ہے جو جغرافیے کی حدیں مٹا دیتی ہے؟ کون سی کشش ہے جو رنگ، نسل، زبان اور ثقافت کے فاصلے سمیٹ دیتی ہے؟ شاید اس کا جواب صرف سیاست کے پاس نہیں شاید اس کا تعلق کردار استقامت، یقین اور اس احساس سے ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی ذات سے بڑا ہو جاتا ہے آج کی دنیا میں طاقت کا معیار ہتھیاروں کی تعداد، معیشت کے حجم اور عسکری اتحادوں سے ناپا جاتا ہے لیکن تاریخ اکثر ایک اور ترازو بھی استعمال کرتی ہے اس ترازو میں کردار کا وزن کیا جاتا ہے صبر کی قیمت لگائی جاتی ہے اور استقامت کی پیمائش کی جاتی ہے یہی وہ ترازو ہے جس میں بہت سے فاتح ہلکے ثابت ہوئے اور بہت سے بے سروسامان لوگ امر ہو گئے۔
کبھی کبھی ایک جنازہ صرف ایک انسان کی رخصتی نہیں ہوتا بلکہ پوری دنیا کے ضمیر کے سامنے ایک سوال بن کر کھڑا ہو جاتا ہے تہران کی سڑکوں پر رواں وہ انسانی سیلاب بھی شاید ایسا ہی ایک سوال تھا وہاں صرف سوگ نہیں تھا وہاں تاریخ اپنی خاموش زبان میں ایک مکالمہ کر رہی تھی اس اجتماع کی سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ مختلف ممالک سے آئے ہوئے وفود مختلف ثقافتوں کے نمائندے، سیاسی شخصیات مذہبی قائدین اور عام لوگ ایک ہی منظر کا حصہ تھے۔ ہر ایک کی اپنی سوچ تھی، اپنا سیاسی زاویہ تھا اپنی ترجیحات تھیں لیکن اس کے باوجود سب ایک ایسے لمحے کے گواہ تھے جس نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ بعض شخصیات کی زندگی اور وفات دونوں بین الاقوامی علامت بن جاتی ہیں۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ کون کس نظریے سے اتفاق کرتا ہے اور کون اختلاف اصل سوال یہ ہے کہ کیا کردار استقامت اور اپنے یقین پر ثابت قدم رہنے والی شخصیات وقت گزرنے کے بعد بھی انسانی شعور پر اثر چھوڑتی ہیں؟ تاریخ کا جواب اکثر ہاں میں ملتا ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں ایسی مثالیں کم نہیں ملتیں جہاں جسم مٹی میں دفن ہو گئے مگر ان کی فکر زندہ رہی وقت نے قبروں پر مٹی ضرور ڈالی مگر نظریات پر نہیں یہی وجہ ہے کہ طاقت کی زبان ہمیشہ شور مچاتی ہے، جبکہ کردار کی زبان خاموش رہ کر بھی نسلوں سے بات کرتی ہے۔ آج کی دنیا میں مسلمان شاید اپنی تاریخ کے سب سے نازک دور سے گزر رہے ہیں وسائل ہیں مگر وحدت نہیں آبادی ہے مگر اجتماعی قوت کمزور ہے جذبات ہیں مگر مشترکہ حکمتِ عملی کا فقدان ہے امت کے زخم صرف باہر سے نہیں لگے بہت سے زخم ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے ایک دوسرے کو دیے ہیں مسلک کے نام پر، قومیت کے نام پر زبان کے نام پر اور سیاست کے نام پر ہم نے وہ دیواریں کھڑی کر لیں جنہیں دشمنوں نے بھی شاید اتنی مضبوطی سے نہ بنایا ہوتا۔
اگر تہران کے اس اجتماع سے کوئی سبق لیا جا سکتا ہے تو شاید وہ یہی ہے کہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا بھی تہذیب کی علامت ہے اتحاد کا مطلب یکسانیت نہیں ہوتا اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ مشترکہ خطرات کے سامنے مشترکہ شعور پیدا کیا جائے اور مشترکہ اقدار کے لیے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما جائے۔
امتِ مسلمہ کو آج پہلے سے زیادہ اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا ان قوموں کی عزت کرتی ہے جو خود اپنی عزت کرنا جانتی ہیں۔ جو قومیں اندر سے منتشر ہوں وہ باہر سے کبھی مضبوط نہیں دکھائی دیتیں۔ طاقت صرف ہتھیاروں سے پیدا نہیں ہوتی طاقت اعتماد، انصاف، علم، اتحاد اور اخلاقی قوت سے بھی جنم لیتی ہے شاید اسی لیے آج کا یہ منظر ایک تدفین سے کہیں بڑا معلوم ہوتا ہے یہ ایک آئینہ ہے جس میں مسلمان اپنی اجتماعی صورت دیکھ سکتے ہیں۔ اگر اس آئینے میں ہمیں اپنی کمزوریاں نظر آ جائیں تو یہی اس اجتماع کا سب سے بڑا پیغام ہوگا وقت گزر جائے گا یہ ہجوم منتشر ہو جائے گا۔
تعزیتی بینر اتر جائیں گے کیمرے بند ہو جائیں گے خبریں پرانی ہو جائیں گی مگر تاریخ پھر بھی ایک سوال دہراتی رہے گی کیا ہم نے اس منظر سے کوئی سبق سیکھا؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر ہمیں نفرت کے بجائے احترام تعصب کے بجائے رواداری اور تقسیم کے بجائے اتحاد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ کیونکہ بکھرے ہوئے انسان صرف ہجوم بناتے ہیں لیکن مقصد پر جمع ہونے والی قومیں تاریخ کے دھارے بدل دیتی ہیں یہی وہ لمحہ ہے جہاں جنازے ختم ہوتے ہیں مگر نظریات اپنا سفر شروع کرتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان مٹی میں اترتا ہے مگر کردار تاریخ کی پیشانی پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا ہے تاریخ شاید یہی گواہی دے گی کہ قوموں کی عزت نہ ایٹمی ہتھیاروں سے بنتی ہے نہ دولت کے انباروں سے اور نہ ہی سپر پاورز کی سرپرستی سے عزت اس قوم کے حصے میں آتی ہے جس کے دل اللہ پر غیرمتزلزل ایمان اپنے مقصد پر کامل یقین اور آزمائشوں میں فولادی عزم سے معمور ہوں۔
ایران کی حالیہ داستان، بہت سے لوگوں کی نظر میں اسی حقیقت کی ایک مثال ہے کہ جب قومیں اپنے خوف سے بڑی ہو جائیں تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی ان کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتی۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ طاقت کے پلڑے میں نہیں گرتا کبھی وہ صبر، استقامت اور یقین کے حق میں بھی سنایا جاتا ہے اور یہی وہ فیصلے ہوتے ہیں جو قوموں کو زندہ اور کرداروں کو امر کر دیتے ہیں۔
جاری ہے۔۔

