Do Wazir e Aala Aur Be Yaar o Madadgar Gilgit Baltistan
دو وزیرِ اعلیٰ اور بے یار و مددگار گلگت بلتستان

گلگت بلتستان کی سیاست بھی عجیب تماشا ہے یہاں ایک نہیں، گویا دو دو وزیرِ اعلیٰ موجود ہیں مگر عوام پوچھ رہے ہیں کہ حکومت آخر کہاں ہے؟ ایک سابق وزیرِ اعلیٰ ہیں جنہیں عمر اور وقت نے سست کر دیا ہے اور دوسرے موجودہ وزیرِ اعلیٰ ہیں جنہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جیت جانا ہی ان کے لیے سب سے بڑا صدمہ بن گیا ہو اقتدار تو مل گیا مگر اقتدار سنبھالنے کی تیاری شاید کبھی تھی ہی نہیں۔ یا اندر کا کوئی خوف ہے جو اس سے کھائی جارہا ہے۔
28ویں ترمیم کے صدقے میں وجود میں آنے والی یہ حکومت کسی متحرک انتظامیہ سے زیادہ ایک خاموش تصویر معلوم ہوتی ہے ایسا لگتا ہے جیسے وزیرِ اعلیٰ پر سکتہ طاری ہو یا پھر اختیار کی کمی خوف اور نااہلی نے ان کی زبان، قلم اور فیصلوں کو قفل لگا دیا ہو۔ حکومت اگر صرف فائلوں پر دستخط کرنے کا نام ہوتی تو شاید یہ خاموشی بھی قابلِ قبول ہوتی، مگر حکومت کا اصل امتحان میدان میں اترنے سے ہوتا ہے نہ کہ ایوانوں میں خاموش بیٹھنے سے قدرت نے ایک بار پھر گلگت بلتستان کو سیلاب کی آزمائش میں ڈال دیا ہے دریا بپھرے ہوئے ہیں سڑکیں ٹوٹ رہی ہیں پل بہہ رہے ہیں دیہات ایک دوسرے سے کٹ رہے ہیں اور لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔ ایسے وقت میں عوام کو ایک مضبوط قیادت چاہیے ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے اقتدار کے ایوانوں میں بلکل خاموشی یعنی سوگ کا سما ہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت نے حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے تماشائی بننے کا فیصلہ کر لیا ہو عوام پانی میں ڈوب رہے ہیں اور اقتدار خاموشی میں یہ خاموشی صرف سیاسی کمزوری نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے لیے بھی ایک خطرناک پیغام ہے۔
اقتدار کسی انعام کا نام نہیں یہ ایک بھاری امانت ہے جو اس امانت کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، انہیں کرسی پر بیٹھنے سے پہلے خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ وہ عوام کی امیدوں کا سہارا بنیں گے یا صرف ایک اور خاموش حکمران ثابت ہوں گے تاریخ کرسیوں کو نہیں کردار کو یاد رکھتی ہے اگر آج بھی حکومت نے اپنی خاموشی نہ توڑی تو آنے والے دنوں میں لوگ شاید یہ ضرور کہیں گے کہ گلگت بلتستان میں دو وزیرِ اعلیٰ تھے، مگر مشکل کی گھڑی میں ایک بھی نظر نہیں آیا دس ہزار نوکریاں دینے والا امجد ایڈووکیٹ اپنی نوکری بچا پائے گا یہ بڑا گہرا سوال ہے جس سے ہر کوئی نہیں سمجھ پائے گا میرے نزدیک یہ گلگت بلتستان کا سب سے ناپسندیدہ وزیر اعلٰی ہے یہ کہیں سے بھی اس عہدے کے اہل نہیں ہے۔

