Baba Kab Wapis Aayen Ge (2)
بابا کب واپس آئیں گے (2)

ریاستیں صرف آئین سے نہیں چلتیں ان کی بنیاد اعتماد پر بھی کھڑی ہوتی ہے۔ آئین کتابوں میں لکھا جاتا ہے لیکن اعتماد لوگوں کے دلوں میں جب دلوں سے اعتماد نکل جائے تو بہترین قوانین بھی کاغذ کے چند اوراق سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ بلوچستان کی کہانی بھی اسی اعتماد کے ٹوٹنے کی کہانی ہے یہ وہ سرزمین ہے جہاں قدرت نے ہر نعمت رکھی سونے، تانبے، گیس اور معدنیات سے مالا مال زمین، سینکڑوں کلومیٹر طویل ساحل، بلند پہاڑ، وسیع صحرا اور بہادر لوگ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ جتنی دولت اس دھرتی کے نیچے ہے اتنی ہی بے چینی اس کے اوپر آباد لوگوں کے دلوں میں بھی موجود ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں شورش عسکریت دہشت گردی ریاستی کارروائیاں اور انسانی حقوق سے متعلق سنگین الزامات ایک ساتھ چلتے آئے ہیں۔ ریاست کا مؤقف ہے کہ وہ ملک کی سلامتی، شہریوں کے تحفظ اور قانون کی عملداری کے لیے کارروائیاں کرتی ہے۔ جبکہ متعدد متاثرہ خاندان اور انسانی حقوق کی تنظیمیں یہ مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ بعض افراد لاپتا ہوئے ان کے اہلِ خانہ کو بروقت معلومات نہیں ملیں اور اس مسئلے کو قانون کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ یہی وہ خلا ہے جہاں اعتماد ٹوٹتا ہے بلکہ ہمارے وزیر داخلہ نے بیان بھی داغ دیا یہ بلوچی ایک ایس ایچ او کی مار ہے مطلب یہ الجھی گٹھی کو سلجھانے کی بجائے الجھانے کے مترادف ہے ورنہ ریاستی اداروں اور زمداران کو نفرت نہیں محبت سے پیش آنے کی ضرورت ہے۔ یہ دھمکیوں کا کونسا طریقہ ہے کیا یہ اس ملک کے باشندے نہیں کیا یہ کہیں اور سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں آخر بلوچستان کے ساتھ اسکی عوام کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں ہے؟
ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کی آواز بھی اسی خلا سے ابھری انہوں نے مختلف مواقع پر یہ کہا کہ اگر کسی شخص پر سنگین الزامات ہیں تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ فیصلہ قانون کرے نہ کہ افواہیں خوف یا خاموشی۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ عدالتیں آخر کیوں قائم کی جاتی ہیں؟ اگر جرم ثابت کرنا ضروری نہ ہو اگر صفائی کا حق اہم نہ ہو اگر ثبوت کی ضرورت نہ رہےتو پھر عدالتوں کی عمارتیں صرف اینٹوں کا ڈھیر رہ جائیں گی اور جج بھوت پن کا مظارہ کریں گے قانون کی اصل طاقت یہی ہے کہ وہ طاقتور اور کمزور دونوں کو ایک ہی کٹہرے میں ایک ہی اصول کے تحت کھڑا کرتا ہے۔
دنیا کی بڑی جمہوریتوں نے بھی دہشت گردی کا سامنا کیا ہے کہیں بم دھماکے ہوئے کہیں علیحدگی پسند تحریکیں چلیں کہیں مسلح بغاوتیں ہوئیں لیکن آخرکار پائیدار امن وہاں آیا جہاں قانون نے بندوق پر برتری حاصل کی جہاں عدالتیں بولیں، وہاں بندوقیں خاموش ہوئیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ریاست کو دہشت گردی سے نمٹنے کا حق اور ذمہ داری حاصل ہے جو لوگ بے گناہ شہریوں پر حملے کرتے ہیں انہیں قانون کے مطابق جوابدہ ہونا چاہیے لیکن اسی کے ساتھ یہ اصول بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہے کہ ہر الزام کا فیصلہ آزاد عدالت کرے اور ہر شہری کو قانونی حقوق حاصل ہوں یہی فرق ایک قانون کی حکمرانی والی ریاست اور محض طاقت کے استعمال میں ہوتا ہے۔
اسلام آباد کے سرد موسم میں جب گمشدہ افراد کے اہلِ خانہ اپنے مطالبات لے کر بیٹھے تھے تو ان کی تصاویر پورے ملک میں پھیل گئیں ایک طرف ریاستی اداروں کی ذمہ داریاں تھیں دوسری طرف اپنے پیاروں کی تلاش میں سرگرداں خاندان ان مناظر نے یہ سوال پھر زندہ کر دیا کہ اختلاف کرنے والے شہری کو سب سے پہلے سنا جانا چاہیے یا خاموش کرایا جانا چاہیے؟ تاریخ کا ایک عجیب اصول ہے تاریخ بندوق کی آواز نہیں لکھتی وہ انسان کی چیخ لکھتی ہے اسکی جدوجہد لکھتی ہے مظلوم کا درد لکھتی ہے ظالم کا ظلم لکھتی ہے لوگ یہ نہیں یاد رکھتے کہ کسی دور میں کتنی گرفتاریاں ہوئیں کتنے مقدمات بنے یا کتنے بیانات جاری ہوئے لوگ یہ یاد رکھتے ہیں کہ اس دور میں انصاف کا معیار کیا تھا اگر انصاف مضبوط ہو تو تاریخ نرم ہو جاتی ہے اور اگر انصاف کمزور پڑ جائے تو تاریخ کے فیصلے بہت سخت ہوتے ہیں۔
میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ ریاست کا اصل وقار اس کی طاقت میں نہیں بلکہ اس کے ظرف میں ہوتا ہے طاقتور وہ نہیں جو مخالف کو خاموش کر دے طاقتور وہ ہے جو مخالف کی بات سن کر بھی اپنے نظام پر اعتماد رکھے۔ بلوچستان کے مسئلے کا مستقل حل نہ صرف امن اور سلامتی میں ہے بلکہ اعتماد مکالمے، شفاف انصاف اور قانون کی بالادستی میں بھی پوشیدہ ہے جب تک سوال پوچھنے والوں کو صرف مخالف سمجھا جائے گا اور ریاستی مؤقف پر سوال اٹھانے والوں کو صرف خطرے کی نظر سے دیکھا جائے گا فاصلے کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتے ہیں کیونکہ آخر میں ہر تنازع، ہر شورش اور ہر بحران کو ایک میز پر بیٹھ کر ہی حل کرنا پڑتا ہے۔ بندوق راستہ بنا سکتی ہے منزل نہیں اور شاید یہی وہ سبق ہے جسے ہم بار بار بھول جاتے ہیں۔
جاری ہے۔۔

