Friday, 19 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Astor Halqa, Aik Nazriye Ka Referendum

Astor Halqa, Aik Nazriye Ka Referendum

استور حلقہ، ایک نظریے کا ریفرنڈم

سیاست میں بعض انتخابات صرف نشستوں کا فیصلہ نہیں کرتے وہ قوموں کے مزاج عوام کے شعور اور مستقبل کی سمت کا تعین بھی کرتے ہیں استور کے حلقہ 1 جی بی اے 13 کا حالیہ انتخاب بھی انہی انتخابات میں شمار کیا جائے گا بظاہر ایک امیدوار کامیاب ہوا اور دوسرا ہار گیا مگر اگر نتائج کی تہہ میں اتر کر دیکھا جائے تو ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔

شاہدہ خورشید صاحبہ نے سات ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرکے صرف ایک انتخاب نہیں لڑا بلکہ گلگت بلتستان کی سیاست میں ایک نئی حقیقت ثبت کر دی۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ عوامی اعتماد کسی سرکاری منصب طاقت یا وسائل کا محتاج نہیں ہوتا اگر عوام کسی شخص کو اپنا نمائندہ مان لیں تو اسے سیاسی منظرنامے سے حذف کرنا ممکن نہیں رہتا۔ یہ انتخاب اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ شاہدہ خورشید نے ایسے سیاسی خاندانوں اور شخصیات کا مقابلہ کیا جو برسوں سے اقتدار کے ایوانوں کا حصہ رہے ہیں اس کے باوجود ہزاروں لوگوں نے ان پر اعتماد کیا۔

یہ اعتماد کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی سیاسی جدوجہد اور عوام سے تعلق کا ثمر ہے ان کے حامی مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر سامنے آنے والے اعتراضات فارم 45 سے متعلق سوالات اور انتخابی عمل کی شفافیت پر اٹھنے والی آوازیں اس نتیجے کو متنازع بناتی ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ اور قانونی جانچ ہی ان سوالات کا جواب دے سکتی ہے اگر واقعی انتخاب مکمل طور پر شفاف تھا تو ایسی جانچ سے کسی کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے اور اگر بے ضابطگیاں ہوئیں تو ان کا سامنے آنا جمہوریت ہی کے مفاد میں ہوگا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ایک نشست کس کے پاس گئی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ سات ہزار سے زائد ووٹ کس سوچ کے حق میں ڈالے گئے؟ یہ ووٹ صرف ایک امیدوار کے لیے نہیں تھے بلکہ ایک سیاسی نظریے تبدیلی کی خواہش اور حقیقی نمائندگی کے مطالبے کے اظہار تھے۔

کچھ لوگ گزشتہ چند برسوں سے یہ اعلان کرتے آ رہے تھے کہ عمران خان کی سیاست ختم ہو چکی ہے ان کا بیانیہ دم توڑ چکا ہے اور ان کے حامی منتشر ہو گئے ہیں اگر واقعی ایسا ہوتا تو استور جیسے دور افتادہ ضلع میں جہاں وسائل اور روایتی سیاسی اثر و رسوخ ہمیشہ فیصلہ کن سمجھا جاتا رہا ہے ایک امیدوار اتنی بڑی عوامی تائید کیسے حاصل کرتا؟

تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ نظریے گرفتار ہو سکتے ہیں کارکن جیل جا سکتے ہیں رہنماؤں پر مقدمات قائم ہو سکتے ہیں مگر نظریات کو دفن نہیں کیا جاسکتا جب تک عوام کے دلوں میں امید زندہ رہتی ہے سیاست بھی زندہ رہتی ہےاگر کسی کو یقین ہے کہ موجودہ نتیجہ عوام کی حقیقی رائے کی مکمل عکاسی کرتا ہے تو پھر شفاف۔ غیر جانبدار اور مکمل اعتماد کے ماحول میں دوبارہ انتخاب کروا کر یہ بحث ہمیشہ کے لیے ختم کی جا سکتی ہے یہی جمہوریت کا حسن بھی ہے اور عوامی اعتماد بحال کرنے کا بہترین راستہ بھی استور نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا ہے کہ یہاں کے لوگ ووٹ کی طاقت کو سمجھتے ہیں وہ صرف شخصیات نہیں بلکہ سوچ کا انتخاب کرتے ہیں۔

شاہدہ خورشید صاحبہ آج صرف ایک امیدوار نہیں رہیں بلکہ بہت سے لوگوں کے لیے عوامی مزاحمت سیاسی شعور اور امید کی علامت بن چکی ہیں۔ جمہوریت میں ووٹ گنے جاتے ہیں مگر تاریخ صرف ووٹ نہیں گنتی وہ عوام کے جذبات اعتماد اور سیاسی شعور کو بھی محفوظ رکھتی ہے۔ ممکن ہے ایک انتخاب کا نتیجہ کسی کے حق میں آ جائے مگر عوام کے دلوں میں بنائی گئی جگہ کسی فارم کسی فہرست اور کسی سرکاری اعلان کی محتاج نہیں ہوتی۔ استور کا حلقہ نمبر ایک شاید ایک نشست کا انتخاب تھا مگر اس نے یہ اعلان ضرور کر دیا ہے کہ نظریے کو شکست دینا ممکن نہیں عوامی طاقت کو وقتی طور پر روکا جا سکتا ہے دبایا جا سکتا ہے لیکن اسے ختم نہیں کیا جا سکتا اور جب قومیں نظریات کے ساتھ کھڑی ہو جائیں تو تاریخ کا رخ بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔

ہر طرف سے شدید سیاسی مخالفت، محدود وسائل، غیر مساوی انتخابی ماحول اور طاقتور سیاسی حریفوں کے باوجود آزاد حیثیت سے میدان میں اترنے والی پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ امیدوار شاہدہ خورشید نے سات ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرکے استور کی سیاست میں ایک اہم باب رقم کیا یہ محض ووٹوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ہزاروں شہریوں کے اعتماد، امید اور سیاسی وابستگی کا اظہار تھا۔

انتخابی نتائج سے اختلاف یا اتفاق اپنی جگہ لیکن یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ انہوں نے روایتی سیاسی قوتوں کو سخت مقابلہ دیا اور ثابت کیا کہ عوامی حمایت صرف اقتدار، وسائل یا انتخابی مشینری کی مرہونِ منت نہیں ہوتی استور کے اس انتخاب نے ایک بار پھر یہ احساس دلایا کہ نظریات کو محض سیاسی دباؤ یا وقتی حالات کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا اگر کسی سوچ کے ساتھ عوام کی ایک بڑی تعداد کھڑی ہو جائے تو وہ سوچ سیاسی منظرنامے میں اپنی موجودگی منوا لیتی ہے۔

شاہدہ خورشید کی انتخابی مہم اور انہیں ملنے والی عوامی تائید اسی حقیقت کی عکاس ہے کہ عوام کے دلوں میں جگہ بنانے کے لیے صرف طاقت نہیں، اعتماد، مسلسل رابطہ اور سیاسی ساکھ بھی درکار ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سے مبصرین کے نزدیک استور حلقہ نمبر 1 کا انتخاب صرف ایک نشست کا مقابلہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک سیاسی نظریے کی عوامی قبولیت کا امتحان بھی تھا۔

تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار بدلتا رہتا ہے انتخابی نتائج بھی بدلتے رہتے ہیں، لیکن وہ نظریات جو عوام کے شعور میں جگہ بنا لیں انہیں ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ استور نے کم از کم اتنا ضرور ثابت کر دیا کہ نظریات کو دبایا جا سکتا ہے، مگر انہیں عوام کے دلوں سے مٹایا نہیں جا سکتا۔

Check Also

Aalmi Tanhai Se Aalmi Salisi Tak

By Muhammad Riaz