Wednesday, 10 August 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Saleem Zaman/
  4. Hazrat Ayesha (1)

Hazrat Ayesha (1)

بابا جی۔۔ کیا واقعی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا نکاح کے وقت 6 سال کی تھیں اور رخصتی ان کی 9 سال کی عمر میں ہوئی۔۔! فرحان نے موٹر سائیکل سے اترتے ہی سلام دعا کئے بغیر سوال جڑ دیا۔۔ اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور چہرے پر کسی بحث سے ہارنے کے بعد کا پسینہ چمک رہا تھا۔۔

بابے نے اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا۔۔ اور منہ میں دبے سگار کا کش لیتے ہوئے اسے کہا جاو منہ دھو کر آو۔۔

نہیں۔۔ مجھے پہلے جواب چاہئے! فرحان تلملایا۔۔

بابا مسکرایا۔۔ اور بولا جواب دوں گا۔۔ لیکن پہلے منہ دھو کر آو۔۔

فرحان مجبوری میں واش روم کی طرف چلا پڑا۔۔ جب واپس آیا تو۔۔ کچھ تازہ دم تھا۔۔

بابے نے فریج سے ٹھنڈی یخ پانی کی بوتل نکالی اور شیشے کے گلاس میں ڈال کر فرحان کے آگے بڑھا دیا۔۔ اس گرمی میں گلاس پر ٹھنڈے پانی نے شیشے کے گلاس پر بھاپ بنا دی جس پر بابے کی انگلیوں کے نشانات واضح تھے۔۔

فرحان ایک ہی گھونٹ میں پورا گلاس پی گیا۔۔

اب بولو بابا۔۔ کیا واقعی!

بابا مسکرایا اور بولا ہاں کتابوں میں تو ایسا ہی لکھا ہے!

فرحان بولا پھر تو لوگ، یہ مغرب والے ٹھیک اعتراض کرتے ہیں۔۔ آج پورا دفتر یہی بات کر رہا تھا اور میں جو کتاب کھولتا گوگل کرتا یہی جواب ملتا تھا۔۔ میں غصے سے وہاں سے آٹھ آیا کہ آپ سے پوچھوں گا۔۔ یہ کہتے اس کی آنکھوں میں بے بسی کی نمی اتر آئی۔۔

اب بابا کچھ خاموش ہو گیا۔ سگار رکھا اور کہنے لگا میں کلی کر کے آتا ہوں۔۔ تاکہ منہ تو کم از کم صاف ہو مبارک ہستیوں کی بات ہونے لگی ہے۔۔ بابا کلی کر کے آیا۔۔ پھر اس نے ماحول میں ائیر فیشنر کیا۔۔ اور بولا تمام مسالک کے آئمہ جب بھی حدیث پاک پڑھتے یا آقاﷺ کا یا اہل بیت اطہار کا زکر کرتے تو خود کو اور ماحول کو پہلے خوشبودار کرتے۔۔ ہم کم از کم ان کی نقل تو کر سکتے ہیں نا؟

اب فرحان پرسکون ہوتا جا رہا تھا۔۔

بابا بولا۔۔ بیٹا! تم نے سب کتابوں میں جواب ڈھونڈا۔۔ کاش قران سے ڈھونڈھتے۔۔ یہی تو دلوں کا اطمینان اور شفا ہے۔ جب کہیں راستہ نہ دکھائی دے تو قران کی روشنی راستے کھول دیتی ہے۔۔

بابا جی۔۔ کیا حضرت عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا کی عمر کا جواب قران میں ہے؟

بالکل ہے۔۔ بابا کامل یقین سے بولا

بابا پھر عالم اسلام میں اس نقطے پر اتنی بحث اور بے چینی کیوں ہے؟

بابا بولا۔۔ کیونکہ لوگ قران دوسروں کو سمجھانے کو پڑھتے ہیں خود کو یقین دلانے کے لئے نہیں۔۔

سنو! آقا ﷺ کہ جن کی شان میں اللہ رب العزت نے سارا قرآن نازل فرمادیا۔ قرآن شانِ محمدی حضور علیہ السلام کے سراپا پُرنور سے لے کر اخلاق و کردار تک آپ کی گفتار سے لے کر اٹھنے، بیٹھنے، کھانے، پینے، چلنے پھرنے کی ایک ایک ادا تک کو قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ سیرت مطہر کو اہل ایمان کے لیے کامل اسوہ حسنہ، خوبصورت ماڈل قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اﷲِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔

"فی الحقیقت تمہارے لیے رسول اﷲ (ﷺ کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونۂِ (حیات) ہے۔ "

آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوصاف و کمالات کا ایسا رنگ چڑھایا کہ آپ کو تمام صفاتِ الہٰیہ اور اخلاق الہٰیہ کا مظہر اتم بناکر بھیج دیا اور آپ کے اخلاق کی اس بلندی کی خود اللہ تعالیٰ نے گواہی دے دی اور فرمایا:

وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔

"اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں (یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں)۔ "

(القلم، 66: 4)

اور حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد ہی اخلاق کی تکمیل قرار دیتے ہوئے فرمایا:

بعثت الیکم لاتمم مکارم الاخلاق۔

"میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ شریفانہ اخلاق کی تکمیل کروں۔ "

(الموطا کتاب حسن الخلق، ص: 756)

حدیث پاک ہے نا کہ کہ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضور ﷺ کے اخلاق کی بابت حضرت عائشہؓا سے دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا:

"آپ ﷺ نے فرمایا آپ کا اخلاق قرآن کریم ہے۔ "

اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کے اخلاق کا آئینہ قرآن کریم ہے۔۔ اب جو کچھ قرآن میں ہے نبی کریمﷺ نے اپنی حیات میں اس پر عمل کر کے دکھایا ہے۔۔ اس بات کو تم مانتے ہو کہ نہیں؟ بابا نے سوال کیا

بالکل مانتا ہوں۔۔ بلکہ میرا ایمان ہے کہ۔ آپ کریمﷺ قرآن کے نزول سے پہلے بھی صادق اور امین تھے۔۔ یعنی ہر حال میں سچے اور ہر حال میں امانتدار تو قرآن کی امانت میں کمی بیشی کا تو سوچا ہی نہیں جا سکتا۔۔

بابا بولا بالکل۔۔ تو قران مجید میں نکاح کی عمر کا تعین اللہ کریم نے یوں فرمایا ہے۔۔

ترجمہ: اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں، پھر اگر ان میں ہوشیاری دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو، (النساء)

یہاں اللہ کریم نے نکاح کی عمر کو عربی میں " اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَۚ" فرمایا ہے۔۔ یعنی وہ بالغ ہو جائیں۔۔ بلوغت جسمانی تبدیلی کا نام ہے۔ یا تو حیض شروع ہو جائے، یا جسمانی خدو خال عورت کی طرح ہو جائیں اور دیکھنے میں وہ بچی نہ معلوم ہو۔۔

لیکن بابا۔۔! یہاں تو یتیم بچیوں کا زکر ہے۔۔ والدین کی بچیوں کا زکر تو نہیں؟

بابا قہقہہ مار کر ہنسا۔۔ اور بولا۔۔ یہ سورہ النساء کی 6 آیت ہے اور اسی سورہ النساء کی آیت 3 ہے کہ

ترجمہ: اور اگر تم یتیم لڑکیوں سے بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کر لو،۔

اس آیت کو استدلال بنا کر پورا عالم اسلام 4 شادیوں کا شوقین ہے جبکہ یہاں بھی یتیم بچیوں کا ہی ذکر ہے۔۔

اس کا مطلب اگر 4 شادیاں یتیم سے مشروط ہیں تو شادی کی بلوغت بھی صرف یتیم سے مشروط ہو گی۔ اگر وہ عام اعلان ہے تو یہاں بھی ہر شادی کے لئے بلوغت شرط ہو گی۔۔

اب اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ جس چیز کی نبی کریم تعلیم فرما رہے ہیں اس کے خلاف خود عمل فرمائیں گے تو تم مسلمان ہی نہیں ہو۔ آپ ﷺ جس قرآن کی تعلیم فرماتے اپنی عملی زندگی میں اس کو قابل تقلید بناکر پیش کرتے قرآن کے بعد اگر کوئی چیز ہے تو وہ صاحب قرآن کی سیرت مبارکہ ہے۔۔ یعنی اگر حضرت عائشہ صدیقہ سلام اللہ علیہا سے نکاح کا حکم وحی نہیں تھا اور عام حالات میں تھا تو نبی کریم قرآن کے اصولوں کی پاسداری فرمائیں گے اور بالغ خاتون سے ہی نکاح فرمائیں گے۔۔ اور حضورنبی کریمﷺ کے کم اوبیش 2 لاکھ صحابہ کرام میں نہ اس نکاح پر اختلاف ہے اور نہ ہی کسی نابالغ لڑکی سے نکاح کی مثال ہمیں صحابہ کرام کے زمانے سے ملتی ہے۔۔ کیونکہ اگر حضورنبی کریمﷺ نے ایسا کیا ہوتا تو صحابہ کرام صرف اتباع نبی میں ان گنت مثالیں ایسی شادیاں کر کے ادا کرتے۔۔

Check Also

Julius Caesar

By Sami Ullah Rafiq