Short Cut
شارٹ کٹ

ہماری سوسائٹی میں محنت مزدوری کو دکھ اور افسوس کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔ کامیاب ہونے والے بھی آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ بتاتے ہیں کہ انھوں نے کتنی محنت کی۔ مشکل حالت میں محنت مزدوری کرتے لوگوں کی وڈیو شیئر کرکے پیچھے دکھی سا میوزک دے کر تاثر دیا جاتا ہے یہ بہت افسوس کا مقام ہے۔ بوڑھے لوگوں کی محنت مزدوری کی بات الگ ہے وہ یقیناََ دکھ کی بات ہے کہ یہ عمر ان کے آرام کی ہے نہ کہ محنت کی۔ مگر محنت کی عمر میں آرام طلبی ہڈ حرامی ہے۔ انگلینڈ میں ساٹھ ستر سال کے بابے بھی شدید محنت کرتے ہیں، یہاں ریٹائرمنٹ کا مطلب بستر پر لیٹ کر ٹی وی پر خبریں دیکھنا نہیں ہوتا۔
شاہی نوکری کی ایک اصطلاح ہمارے ہاں پائی جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے ایسی ملازمت جس میں کوئی کام نہ کرنے پڑے۔ سرکاری نوکری کی فوائد میں اسے ایک نمایاں وصف کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً پوری پاکستانی قوم سرکاری ملازمت کے چکر میں ہے۔ نوجوان چاہتے ہیں کہ انہیں بی اے یا ایم اے ڈگری کے بعد سرکاری نوکری دے دی جائے۔ آفس میں ان کا الگ کمرہ ہو جس میں اے سی لگا ہو۔ یہ کمپیوٹر پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھے رہیں۔ کام کوئی نہ کرنا پڑے اور ہر مہینے ڈیڑھ دو لاکھ روپے تنخواہ اکاؤنٹ میں آتی رہے۔
محنت مزدوری سے کام کرنا خودداری اور اپنی صلاحیتوں کا استعمال ہے۔ اس کی بنیاد پر کامیاب ہونا ایک قابل فخر چیز ہونی چاہیے۔ میں نے خود نوجوانی ہی سے محنت مزدوری شروع کی تھی۔ مجھے اس پر فخر ہوتا ہے اور خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ہمت دی، کامیابی دی۔ میں نے اپنے خرچے خود اٹھائے ہیں۔
لیکن محنت مزدوری کو برا سمجھتے ہوئے پوری قوم اپنی غربت اور بےبسی کی کہانیاں سنا کر بھیک مانگنا چاہتی ہے۔ یہاں کوئی نہیں جو محنت کرکے حق حلال کی روزی روٹی کمائے، ہر بندہ شارٹ کٹ کے چکر میں لگا ہوا ہے۔ ہر بندہ راتوں رات امیر ہونا چاہتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔
میرا اس بات پر ایمان و یقین ہے کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا، اوپر جانے کے لیے سیڑھی چڑھنی پڑتی ہے۔