Kheme Ka Fasla Aur Chand Minton Ka Safar
خیمے کا فاصلہ اور چند منٹوں کا سفر

سفرِ عشق کی سب سے خوبصورت اور دلنشین حقیقت یہ ہے کہ ہدایت کبھی کسی مصلحت، کسی دنیاوی نسب یا کسی سابقہ فکری نظریے کی محتاج نہیں ہوتی۔ جب بارگاہِ الٰہی سے کسی انسان کے دل کی کایا پلٹنے کا فیصلہ صادر ہو جائے، تو کائنات کے تمام ظاہری اسباب، جغرافیائی مجبوریاں اور راستوں کی رکاوٹیں اسے زبردستی گھسیٹ کر اس ابدی مرکز پر لے آتی ہیں جہاں اس کی روح کی نجات لکھی ہوتی ہے۔
تاریخِ اسلام، بالخصوص واقعۂ کربلا ایسے ہی انوکھے، سچے اور سحر انگیز انقلابات سے بھری پڑی ہے جو عقل کو حیران اور دلوں کو تڑپا کر رکھ دیتے ہیں۔ معرکۂ کربلا کے میدان میں اگر ہم غور کریں تو ہمیں دو طرح کے باوفا جانثار نظر آتے ہیں، ایک وہ مخلص نفوس جو پہلے دن سے خانوادۂ رسولﷺ کی محبت میں سرشار تھے اور وقت کے سنگین ترین سرکاری پہرے اور قید و بند کی صعوبتیں توڑ کر مقتل تک پہنچے اور دوسرے وہ مسافر جو اپنی مخصوص گھریلو یا کاروباری مصلحتوں کے سبب نواسۂ رسولﷺ کے قافلے سے دور بھاگ رہے تھے، مگر تقدیر کا ہاتھ انہیں زبردستی کھینچ کر حسین ابنِ علیؑ کے قدموں میں لے آیا۔ یہ رقت آمیز داستان کوفہ کے جری اور بوڑھے صحابی حضرت حبیب ابنِ مظاہر اسدی کی غیرتِ ایمانی اور زہیر ابنِ قین بجلی کے دل کی کایا پلٹ کی ہے، جن کا اسلوبِ زندگی اور سفرِ کربلا آج کے بھٹکے ہوئے انسان کے لیے ایک عظیم مژدہ اور مشعلِ راہ ہے۔
ذوالحجہ سن 60 ہجری کا آخری عشرہ دم توڑ رہا تھا اور اسلامی تاریخ کا نیا سال 61 ہجری شروع ہونے میں محض چند ہی سورج باقی رہ گئے تھے۔ حجاز کی تپتی ہوئی ریت پر حج کے مناسک ادا کرنے کے بعد کوفہ کا ایک نہایت معزز، صاحبِ ثروت اور نامور تاجر اپنے قبیلے اور رفقا کے ساتھ بڑی شان سے واپس اپنے وطن لوٹ رہا تھا۔ اس ممتاز شخصیت کا نام نامی زہیر ابنِ قین بجلی تھا۔ زہیر کوئی عام انسان نہیں تھے، بلکہ وہ عرب کے ایک مانے ہوئے نامور جنگجو اور اپنے قبیلے کے بااثر سردار تھے، مگر وہ اس دور کے بگڑتے ہوئے ملکی حالات اور اموی حکومت کی بے جا سختیوں کی وجہ سے خود کو ملکی سیاست سے بالکل الگ تھلگ اور غیر جانبدار رکھنا چاہتے تھے۔ ان کی دلی خواہش اور سوچ یہ تھی کہ وہ موجودہ وقت کی مصلحتوں اور نئے پیدا ہونے والے طوفان سے دور رہ کر کسی طرح اپنی جان، مال اور اپنے خاندان کی عافیت کو بچا لیں۔
اسی دوران، وقت کے حاکم یزید کی بیعت سے انکار کرکے، کائنات کے صادق ترین انسان اور نواسۂ رسول، امام حسینؑ بھی مکہ کی سرزمین چھوڑ کر کوفہ کی طرف روانہ ہو چکے تھے۔ مکہ سے عراق جانے والی صحرائی شاہراہ ایک ہی تھی، جہاں پانی کے کنویں، چشمے اور مسافروں کے رکنے کے پڑاؤ مخصوص اور محدود فاصلوں پر بنے ہوئے تھے۔ اب زہیر ابنِ قین کے لیے سب سے بڑی سفری آزمائش اور ذہنی الجھن یہ تھی کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسی ایک راستے پر سفر کرنے پر مجبور تھے جس پر سید الشہدا کا کاروانِ مظلومیت چل رہا تھا۔ زہیر کا دل اندر سے خوفزدہ تھا کہ کہیں ان کا سامنا خانوادۂ رسولﷺ سے نہ ہو جائے، چنانچہ وہ جان بوجھ کر اپنے قافلے کی رفتار کو اس طرح ترتیب دیتے کہ دونوں خیمے کبھی ایک جگہ جمع نہ ہو سکیں۔ جب امام کا قافلہ آگے بڑھتا، تو زہیر اپنے رفقا کو روک کر پیچھے رہ جاتے۔ جب امام کا قافلہ کہیں پڑاؤ کرتا، تو زہیر تیزی سے آگے نکل کر اپنے خیمے بہت دور، کسی ویران اور الگ تھلگ کونے میں لگا لیتے۔
مگر دوسری طرف، کوفہ کے تپتے ہوئے اور حبس زدہ ماحول میں ایک اور ہی تڑپ انگڑائیاں لے رہی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر اور بوڑھے صحابی اور امیر المومنین حضرت علی ابنِ ابی طالبؑ کے وفادار ترین ساتھی، حضرت حبیب ابنِ مظاہر اسدی، عبیداللہ ابنِ زیاد کے بٹھائے ہوئے سخت ترین سرکاری پہروں اور ناکہ بندیوں کے باوجود اپنے مظلوم امام کے انتظار میں دن رات تڑپ رہے تھے۔ جب کوفہ کے تمام راستے سیل کر دیے گئے، مسلم بن عقیل شہید کر دیے گئے اور اموی فوج نے امام حسینؑ کو کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں لا کر گھیر لیا، تو حبیب کی غیرتِ ایمانی نے چین سے گھر بیٹھنا گوارا نہ کیا۔ وہ بوڑھے شیر جن کی عمر ستر سال سے متجاوز ہو چکی تھی اور جن کی داڑھی کے سفید بال ان کے علم و فضل کی گواہی دیتے تھے، ایک رات اپنی شریکِ حیات کی ترغیب اور حیدرِ کرارؑ کی محبت کے زیرِ اثر، یزیدی پہرے داروں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر چھپتے چھپاتے کوفہ کی اس سنگین قید سے نکل بھاگے۔ ان کے بوڑھے جسم میں جوانوں سے زیادہ خونِ جگر کھول رہا تھا اور دل میں صرف ایک ہی لگن چٹکیاں لے رہی تھی کہ کسی طرح ابنِ فاطمہؑ تک پہنچ کر اپنی بوڑھی ہڈیوں کو ان کے قدموں میں قربان کر دیا جائے۔ یہ حبیب کا وہ تڑپتا ہوا حسینی جذبہ تھا جو زہیر ابنِ قین کے اس خوف کے بالکل برعکس تھا جو وہ مکہ سے آتے ہوئے راستے میں محسوس کر رہے تھے۔
تقدیر نے ان دونوں متضاد راستوں اور مختلف سوچوں کو ایک ہی مقتل میں لا کر ملانا تھا۔ اسی ذوالحجہ کے آخری دنوں میں، جب حسینی کاروان عراق کی حدود کے قریب پہنچ رہا تھا، "وزرود" نامی ایک گمنام مقام پر زہیر اور امام کے قافلوں کا آمنا سامنا ہوگیا۔ اس جگہ پانی کا چشمہ ایک ہی تھا، اس لیے زہیر کو مجبوراً امام کے خیموں کے سامنے ہی اپنا ڈیرہ ڈالنا پڑا۔ زہیر ابھی اپنے خیمے میں اپنے رفقا کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھا ہی رہے تھے کہ اچانک خیمے کا پردہ اٹھا اور امامِ عالی مقام کے قاصد نے اندر داخل ہو کر نہایت رقت آمیز اور باادب لہجے میں کہا: "زہیر! تمہیں ابو عبداللہ (امام حسینؑ) اپنے خیمے میں بلا رہے ہیں"۔ اس ایک پکار نے جیسے پورے خیمے پر سکتہ طاری کر دیا۔ زہیر کے ہاتھ سے لقمہ چھوٹ گیا اور ان پر گہری خاموشی چھا گئی۔ وہ جس سائے سے بچ رہے تھے، وہ سایہ اب ان کے سر پر آ چکا تھا۔ زہیر ہچکچائے اور انکار کا بہانہ سوچنے لگے، لیکن اسی نازک لمحے تاریخ نے ایک عظیم ادبی اور ایمانی کروٹ لی۔ زہیر کی نیک بخت زوجہ، دلحم بنتِ عمرو تڑپ اٹھیں اور انہوں نے شوہر کی اس مصلحت پسندی پر جلال میں آ کر کہا: "سبحان اللہ! رسولﷺ کا نواسہ تمہیں بلا رہا ہے اور تم جانے سے کتراتے ہو؟ کیا تمہاری غیرت یہ گوارا کرے گی؟ جاؤ، ان کی بات سنو اور واپس آ جاؤ"۔
اپنی بیوی کے ان تیکھے اور ایمان افروز الفاظ نے زہیر کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ وہ اٹھے اور گنتی کے چند قدم چل کر امامِ مظلوم کے خیمے کی طرف روانہ ہو گئے۔ یہ چند قدم صرف زمین کا فاصلہ نہیں تھے، یہ ایک مصلحت پسند دنیا دار انسان سے ابدیت اور عظمت کے سفر کا آغاز تھا۔ زہیر خیمے کے اندر داخل ہوئے۔ اب خیمے کے اندر کیا سحر انگیزی ہوئی، یہ تاریخ کے صفحات میں لفظوں کی شکل میں درج نہیں، کیونکہ وہاں کائنات کے سردار کے نواسے اور ایک بھٹکے ہوئے مسافر کے علاوہ کوئی تیسرا موجود نہیں تھا سحر۔ امامِ مظلوم نے زہیر کو کس درد بھری نگاہ سے دیکھا، ان کی غربت و بے وطنی کا کیا عالم تھا اور انہوں نے زہیر کے دل پر کون سی دستک دی، یہ ایک ایسا الٰہی راز ہے جو ان دونوں کے درمیان ہی دفن رہا۔ لیکن مؤرخین کہتے ہیں کہ امام کی وہ مخلصانہ پکار، ان کا پُردرد چہرہ اور نگاہِ امامت کی ایک ہی کاٹ دار نظر نے زہیر کے دل پر جمے ہوئے تمام دنیاوی خوف، مصلحت اور سیاسی ابہام کے پردے ایک ہی جھٹکے میں چاک کرکے رکھ دیے۔
خیمے کے اندر ہونے والے اس معجزے کا اندازہ صرف اس منظر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب خیمے کا پردہ دوبارہ اٹھا، تو اندر جانے والا زہیر کوئی اور تھا اور باہر آنے والا زہیر کوئی اور۔ زہیر کا چہرہ چمک رہا تھا، ان کی آنکھوں سے پشیمانی اور سچے عشق کے آنسو رواں تھے اور ان کا دل پوری طرح حسینی ہو چکا تھا۔ چند منٹوں کی وہ صامت گفتگو صدیوں کے فاصلے مٹا چکی تھی۔ زہیر نے اپنے خیمے میں واپس آتے ہی اپنی زوجہ سے روتے ہوئے کہا: "میں نے امام حسینؑ پر اپنی جان قربان کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، میں تمہیں دنیاوی رشتوں سے آزاد کرتا ہوں اور تمہاری ساری دولت تمہارے حوالے کرتا ہوں تاکہ تم اپنے میکے چلی جاؤ اور میری وجہ سے تم پر کوئی مصیبت نہ آئے"۔ ان کی وفادار زوجہ یہ سن کر رو پڑیں اور بولیں: "آپ نے تو اپنے لیے آخرت چن لی، مگر قیامت کے دن رسول اللہﷺ کی بارگاہ میں میری مظلومیت کی سفارش ضرور کرنا"۔ اس کے بعد زہیر نے اپنے قبیلے کے ساتھیوں کو الوداع کہا اور ہمیشہ کے لیے حسینی کاروان کا حصہ بن گئے۔
جب محرم سن 61 ہجری کا خونی سورج کربلا کی تپتی اور جلتی ہوئی ریت پر چمکا، تو تاریخِ انسانی نے ایک محیر العقول منظر دیکھا۔ کوفہ کی سخت ترین قید اور پہرے توڑ کر جان ہتھیلی پر رکھ کر آنے والے بوڑھے صحابی حضرت حبیب ابنِ مظاہر اسدی اور راستے میں نگاہِ امامت سے مسخر ہونے والے زہیر ابنِ قین بجلی، دونوں وفا کی معراج پر شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ 10 محرم الحرام (روزِ عاشور) کی صبح جب جنگ کا طبل بجا، تو امام حسینؑ نے اپنے مختصر سے لشکر کا دایاں بازو (میمنہ) زہیر ابنِ قین کے حوالے کیا اور بائیں بازو (میسرہ) کی اہم کمان بوڑھے جری حبیب ابنِ مظاہر کو سونپی۔ ان دونوں بوڑھے شیروں نے پیاس کی شدت اور بوڑھاپے کے باوجود اس دلیری، شجاعت اور جلال سے جنگ کی کہ یزیدی فوج کے جرار لشکریوں کے پیر اکھڑ گئے۔ حبیب ابنِ مظاہر نے تلوار چلاتے ہوئے اپنی سفید داڑھی کو اپنے ہی پاکیزہ خون سے خضاب کیا اور اپنے مولا کے سامنے تڑپ کر شہید ہو گئے، جبکہ دوسری طرف زہیر ابنِ قین نے وہ تاریخی بہادری دکھائی کہ جب ظہر کے وقت نمازِ خوف کا وقت آیا، تو وہ امام کے سامنے فولادی ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے اور دشمن کی طرف سے آنے والے زہریلے تیروں اور نیزوں کو اپنے سینے اور چہرے پر روکتے رہے تاکہ ان کا مظلوم امام زندگی کی آخری نماز سکون سے ادا کر سکے۔ بالآخر، درجنوں تیروں اور تلواروں کے زخموں سے چور ہو کر یہ عظیم تاجر زمین پر گرا اور شہادت کے سب سے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوگیا۔
زہیر ابنِ قین اور حبیب ابنِ مظاہر کی یہ پُردرد داستانِ حیات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ راستے چاہے جتنے بھی مختلف ہوں اور انسان کا ماضی کیسا ہی کیوں نہ ہو، اگر دل کے کسی گوشے میں سچائی کا درد اور حق کی تڑپ موجود ہو، تو خدا کا لطف و کرم انسان کو گھسیٹ کر حسینؑ کے قدموں کی پناہ میں لا کھڑا کرتا ہے۔ حبیب پہلے دن سے مخلص اور باوفا تھے اور زہیر کو سفر کے آخری لمحوں میں ہدایت کی یہ پناہ ملی، لیکن جب دونوں کے دلوں سے دنیا کا فاصلہ مٹا، تو دونوں کا مرتبہ یکساں ہوگیا اور دونوں ہمیشہ کے لیے حسینی ہو گئے۔ آج بھی کربلا کے مقدس حرم میں امام حسینؑ کے روضے کے پاس جب دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں زائرین شہدا کو رو کر سلام پیش کرتے ہیں، تو زہیر ابنِ قین اور حبیب ابنِ مظاہر کے نام وفاداری، بہادری، شجاعت اور سچے عشق کی ایک لازوال، بے عیب اور سچی تاریخی علامت بن کر آسمانِ عقیدت پر چمکتے نظر آتے ہیں۔

