Monday, 22 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Peer Intizar Hussain Musawir
  4. Dunya Ki Hoshiyari Aur Deen Ki Susti

Dunya Ki Hoshiyari Aur Deen Ki Susti

​دنیا کی ہوشیاری اور دین کی سستی

​انسانی رویوں اور معاشرتی نفسیات کا اگر گہرا مشاہدہ کیا جائے تو بعض تضادات اس قدر حیران کن اور افسوس ناک ہوتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ہم ایک ایسی عجیب بستی کے مسافر ہیں جہاں عارضی، فانی اور مٹ جانے والی چیزوں کے لیے ہماری ہوشیاری، چالاکی، دور اندیشی اور باریک بینی آسمان کو چھوتی ہے، لیکن جب معاملہ ابدی زندگی، روح کے سودے، ایمان اور دین کا آتا ہے تو ہم سُستی، غفلت اور اندھی تقلید کی گہری چادر تان کر سو جاتے ہیں۔ یہ تضاد صرف ہماری انفرادی زندگی تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ ہمارے مجموعی فکری زوال اور معاشرتی بربادی کا ایک بہت بڑا المیہ بن چکا ہے۔ ہم دنیا کے بازار میں تو سقراط اور افلاطون بن جاتے ہیں، مگر دین کی دہلیز پر آتے ہی اپنی عقل کو تالا لگا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

​روزمرہ زندگی کی ایک عام اور ادنیٰ سی مثال لیجیے۔ جب ہم بازار میں ایک چھوٹی سے چھوٹی اور حقیر چیز، مثلاً چند روپے کلو ملنے والی سبزی، آلو، یا کپڑے کا ایک معمولی ٹکڑا خریدنے جاتے ہیں، تو ہمارا رویہ دیکھنے لائق ہوتا ہے۔ ہم ہر طریقے سے اس چیز کو پرکھتے ہیں، الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں کہ کہیں سے کوئی نقص نہ ہو، کوئی کمی نہ ہو۔ کپڑے کا ریشہ ریشہ باریک بینی سے چیک کرتے ہیں کہ کہیں سے لٹھا کمزور تو نہیں۔ دکاندار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بحث کرتے ہیں، ناپ تول کا پورا حساب رکھتے ہیں اور ایک ایک پائی کا ریٹ لگا کر سودا طے کرتے ہیں۔ اگر زندگی میں کوئی بڑا سودا کرنا ہو، کوئی موبائل فون، موٹر سائیکل یا گاڑی خریدنی ہو تو مہینوں تک ریسرچ کی جاتی ہے، دوستوں کے دروازے کھٹکھٹائے جاتے ہیں اور ماہرین کی رائے لی جاتی ہے تاکہ کوئی ہمیں ایک روپے کا بھی دھوکہ نہ دے سکے۔ یہ ساری تگ و دو صرف اس لیے ہوتی ہے کیونکہ وہاں ہمارا دنیاوی مال اور خون پسینے کا پیسہ لگ رہا ہوتا ہے، جس کا ادنیٰ سا نقصان بھی ہماری انا اور جیب پر بھاری گزرتا ہے۔

تعجب کی بات ہے کہ اس کے بالکل برعکس، جب معاملہ دین کا ہو، آخرت کی ابدی زندگی کا ہو، یا اسلام کے کسی قطعی حکم کا ہو، تو ہمارا پورا رویہ ہی بدل جاتا ہے۔ وہاں عقل کے سارے دریچے بند ہو جاتے ہیں۔ وہاں جو کوئی، جو کچھ بھی کہہ دیتا ہے، ہم اسے من و عن، آنکھیں بند کرکے مان لیتے ہیں۔ کوئی سوشل میڈیا کے کسی تاریک گوشے سے ایک من گھڑت بات یا ضعیف روایت شیئر کر دے، کوئی یوٹیوب کا کم علم خطیب اپنے سستے ویوز بڑھانے کے لیے دین کا کوئی انوکھا اور من پسند رخ پیش کر دے، ہم بغیر کسی تصدیق کے، بغیر کسی پس منظر کے اسے عینِ اسلام تسلیم کر لیتے ہیں اور ثواب کا کام سمجھ کر آگے پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم وہاں کیوں نہیں تحقیق کرتے؟ ہمارے لبوں پر وہاں یہ سوال کیوں نہیں مچلتا کہ میاں! جو بات تم اتنے دعوے سے کہہ رہے ہو، آیا کہ یہ بات سچ اور مستند بھی ہے کہ نہیں؟ اس کا ماخذ کیا ہے؟ اس کی سند کیا ہے؟ ہمارے پاس دنیا کی ہر عارضی اور مٹی میں مل جانے والی چیز کی پڑتال کے لیے تو وقت بھی ہے اور گہری عقل بھی موجود ہے، لیکن روح کے ابدی سودے کے لیے ہم اندھے، بہرے اور گونگے بن جاتے ہیں۔

​یہ رویہ اس لیے بھی زیادہ تکلیف دہ اور مجرمانہ ہے کیونکہ اسلام اندھی تقلید کا نہیں بلکہ علم، تحقیق، تدبر اور دلیل کا دین ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو 'اشرف المخلوقات' کے منصب پر فائز کیا ہے اور اسے عقل و شعور کی وہ لازوال نعمت دی ہے جو کائنات کی کسی اور مخلوق کے حصے میں نہیں آئی۔ قرآنِ پاک پر غور کریں تو رب ذوالجلال بار بار انسان کو جھنجھوڑتا ہے اور پکارتا ہے کہ "کیا تم عقل نہیں رکھتے؟" اور "کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟" سورہ الحجرات میں تو باقاعدہ ایک واضح ضابطہ بیان کر دیا گیا کہ:

​یٰۤاَیُّہَا الَّذِیُنَ اٰمَنُوُۤا اِنُ جَآءَکُمُ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوُۤا، ​(ترجمہ: "اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔ ")

​جب تک اللہ کا یہ حکم ہر عام خبر کی تصدیق کا تقاضا کرتا ہے، تو ہم دین جیسے حساس اور نازک معاملے میں اتنے لاپروا اور بے باک کیسے ہو سکتے ہیں؟ ذرا تنہائی میں بیٹھ کر سوچیے، خدا پاک خود فرماتا ہے کہ "اے انسان! میں تو تجھ سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہوں"۔ ایک دنیاوی ماں اپنی اولاد کو کبھی کسی کانٹے کی چبھن، کسی نقصان یا گمراہی کے گڑھے میں گرتے نہیں دیکھ سکتی، تو وہ رب جو ستر ماؤں سے زیادہ شفیق اور مہربان ہے، وہ کیسے چاہے گا کہ اس کا بندہ عقل کو تالا لگا کر گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتا پھرے؟ اللہ نے انسان کو عقل اور شعور اس لیے دیا ہے تاکہ وہ حق اور باطل میں تمیز کر سکے۔ رب کی اس عظیم محبت کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہم اس کے دین کو سمجھنے کے لیے دن رات ایک کر دیتے، مستند کتابوں سے رجوع کرتے اور اپنے ایمان کو وہم و گمان کی دلدل سے نکال کر یقین کے پکے درجے پر لاتے، لیکن ہم نے رب کی دی ہوئی عقل کو دنیاوی فائدوں کے لیے تو وقف کر دیا، مگر دین کے معاملے میں اسے سُستی اور مصلحتوں کی نذر کر دیا۔

​ہم بحیثیت مسلمان یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہمارا اصل دشمن ایک ہی ہے، جو ہمیں کبھی ایک نہیں ہونے دیتا اور ہماری اسی سُستی، غفلت اور عدمِ تحقیق کا فائدہ اٹھا کر ہمیں مختلف فرقوں اور گروہوں میں بانٹتا ہے۔ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو روح کانپ اٹھتی ہے کہ جب بھی مسلمانوں میں کوئی بڑا تفرقہ یا فتنہ اٹھا، اس کے پیچھے کسی نہ کسی بیرونی دشمن کی عیارانہ سازش کام کر رہی تھی۔ تاریخ کا ایک مشہور اور آنکھیں کھول دینے والا واقعہ یاد کیجیے، اسلام کے ابتدائی دور میں ایک یہودی (عبداللہ بن سبا) بظاہر مسلمان بنا، اس نے لمبا لبادہ اوڑھا اور زہد و تقویٰ کا ڈھونگ رچایا۔ وہ شام، مصر اور بصرہ جیسے اہم اسلامی مراکز میں گیا اور مسلمانوں کے اندر گھس کر ایسی من گھڑت، پرفریب اور جذباتی باتیں پھیلائیں کہ مسلمان آپس میں دست و گریبان ہو گئے۔ اس نے مسلمانوں کے جذبات سے کھیل کر ان کے مابین ایسی تفریق اور خلیج پیدا کی کہ جب وہ فتنہ پھیلا کر غائب ہوگیا اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو اصل میں ایک یہودی تھا، تب تک امت کے وجود پر ایسا گہرا زخم لگ چکا تھا جس سے خون آج تک رس رہا ہے۔ آج کے اس جدید دور میں بھی دشمن یہی پرانا طریقہ کار نئے ہتھیاروں (واٹس ایپ، فیس بک اور یوٹیوب) کے ذریعے استعمال کر رہا ہے اور ہم اب بھی آنکھیں بند کیے اس کے بچھائے ہوئے جال میں پھنستے جا رہے ہیں۔

​اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہمیں واضح طور پر اور بڑے سخت لہجے میں اتحاد کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے: ​وَاعُتَصِمُوُا بِحَبُلِ اللہِ جَمِیُعًا وَّلَا تَفَرَّقُوُا، ​(ترجمہ: "اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو"۔)

​مگر افسوس! ہم نے اللہ کی اس مضبوط رسی کو چھوڑ کر تفرقے اور نفرت کی بوسیدہ رسیوں کو تھام لیا ہے۔ ہم نے مستند علما اور محققین کی گراں قدر کتابوں کو لائبریریوں میں دھول چاٹنے کے لیے چھوڑ دیا ہے اور سوشل میڈیا پر موجود سستی شہرت کے بھوکے خطیبوں اور دشمن کے ایجنٹوں کو اپنا حقیقی رہنما بنا لیا ہے۔ یہ فکری سُستی اور ذہنی غلامی نہیں تو اور کیا ہے؟

​اس فکری پسماندگی سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم علم کے حقیقی سرچشموں سے اپنا ناطہ دوبارہ جوڑیں۔ ہم دنیاوی تعلیم کے لیے تو اپنے بچوں کو بہترین اکیڈمیوں اور یونیورسٹیوں میں بھیجتے ہیں، بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں، لیکن دین سیکھنے کے معاملے میں ہم صرف چند روایتی تقاریر سننے پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ ہمیں اپنے گھروں میں مطالعے کا رجحان پیدا کرنا ہوگا۔ جب تک ہم خود قرآن و حدیث کا براہِ راست مطالعہ نہیں کریں گے، جب تک ہم ائمہ کرام اور معتبر مفسرین کی تاریخ کو خود نہیں کھنگالیں گے، تب تک کوئی بھی عیار ہمیں اپنے ذاتی مفادات یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ دین سیکھنا فرضِ عین ہے اور اس فرض کی ادائیگی میں سُستی برتنا دراصل اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

​یہاں یہ بات واضح کرنا بھی بہت ضروری ہے کہ دین کے معاملے میں "سوال کرنے" یا "تحقیق کرنے" کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ انسان بدتمیزی پر اتر آئے، اسلاف کی شان میں گستاخی کرے یا علما اور بزرگوں کا ادب احترام چھوڑ دے۔ ادب تو معرفت کا پہلا اصول ہے، لیکن ادب کے دائرے میں رہ کر دلیل مانگنا، مستند حوالہ طلب کرنا اور بات کی حقیقت تک پہنچنا ہر مسلمان کا دینی حق بھی ہے اور فرض بھی۔ اگر ہم دنیا کے بازار میں ایک معمولی دھوکے سے بچنے کے لیے اتنے ہوشیار اور بیدار مغز ہیں، تو آخرت کے بازار میں تو ہمیں اس سے کہیں زیادہ باخبر، محتاط اور سنجیدہ ہونا چاہیے، کیونکہ وہاں کا نقصان کوئی عارضی نقصان نہیں بلکہ ابدی اور دائمی نقصان ہے۔

​وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے اس تضاد کو دور کریں۔ دنیا کے مال کا ناپ تول ضرور کریں، لیکن اپنے دین اور آخرت کے معاملے کو اس سے کہیں زیادہ اولیت اور اہمیت دیں۔ سنی سنائی باتوں پر کان دھرنے اور جذبات کی رو میں بہنے کے بجائے خود پڑھنے، سمجھنے اور تحقیق کرنے کی عادت ڈالیں۔ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والے رب نے ہمیں جو عقل کی شمع دی ہے، اس کا بہترین استعمال یہی ہے کہ ہم اس کے ذریعے دین کی اصل روح کو پہچانیں، دشمن کی خفیہ چالوں کو سمجھیں اور اپنے ایمان کو اندھی تقلید کے اندھیروں سے بچا کر علم و بصیرت کی روشنی سے منور کریں۔ اگر آج ہم نے اپنے گریبانوں میں جھانک کر سوال نہ کیا، آج ہم نے تحقیق کی راہ اختیار نہ کی، تو کل روزِ قیامت آخرت کے دربار میں ہمارے پاس اپنی اس مجرمانہ سُستی اور لاپرواہی کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔

Check Also

Ustad e Mohtaram, Urdu Bhi Ehteram Ki Mustahiq Hai

By Asif Masood