Tuesday, 27 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Sona Aur Aam Admi

Sona Aur Aam Admi

سونا اور عام آدمی

2026 کے آغاز کے ساتھ ہی سونے کی قیمتوں نے جو اُڑان بھری، اس نے صرف عالمی منڈیوں کو ہی نہیں چونکایا بلکہ پاکستان کے عام آدمی کو بھی ایک نئی فکر میں مبتلا کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر فی اونس سونا 5,097 ڈالر تک جا پہنچا، جبکہ پاکستان میں 24 کیرٹ سونے کی قیمت 5 لاکھ 21 ہزار سے بڑھ کر 5 لاکھ 32 ہزار روپے فی تولہ تک پہنچ گئی۔ یہ وہ سطح ہے جہاں سونا اب زیور نہیں، خواب بنتا جا رہا ہے اور وہ خواب جو ہر کسی کی دسترس میں نہیں رہا۔

ایک وقت تھا جب بیٹی کی شادی کے لیے تھوڑا تھوڑا سونا جوڑنا متوسط طبقے کی روایت ہوا کرتی تھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ عام تنخواہ دار آدمی کے لیے ایک تولہ سونا خریدنا بھی کئی مہینوں کی کمائی کے برابر ہو چکا ہے۔ چاندی کی قیمت میں اضافے نے بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ مہنگائی صرف سونے تک محدود نہیں رہی، بلکہ ہر محفوظ چیز عام آدمی سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

یہ سوال اب گلی محلوں میں بھی پوچھا جا رہا ہے کہ آخر سونا اتنا مہنگا کیوں ہوگیا؟ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست اور طاقت کی کشمکش کا بوجھ بالآخر عام شہری کے کندھوں پر آ گرتا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں جنگوں، کشیدگی اور سیاسی عدم استحکام نے سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر رکھا ہے۔ ایسے میں بڑے سرمایہ دار اور ادارے اپنا پیسہ سونے میں لگا رہے ہیں، کیونکہ انہیں وہاں تحفظ نظر آتا ہے۔ مگر اس تحفظ کی قیمت عام صارف ادا کر رہا ہے۔

امریکی ڈالر کی کمزوری اور شرحِ سود میں ممکنہ کمی جیسے فیصلے عام آدمی کی سمجھ سے شاید باہر ہوں، مگر ان کا اثر براہِ راست اس کی جیب پر پڑتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں سونا مہنگا ہوتا ہے اور پاکستان میں ڈالر کی قیمت بڑھتی ہے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقامی صرافہ بازار میں نرخ آسمان کو چھونے لگتے ہیں۔ یوں مہنگائی کا ایک اور طوفان خاموشی سے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں یہ مسئلہ اس لیے بھی سنگین ہو جاتا ہے کہ سونا صرف زیور نہیں بلکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک محفوظ سرمایہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ لوگ مشکل وقت کے لیے سونا رکھتے ہیں، مگر جب وہی چیز ہاتھ سے باہر ہونے لگے تو عدم تحفظ کا احساس مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ شادیوں کے سیزن میں والدین کی پریشانی بڑھ جاتی ہے اور کئی خاندان یا تو زیور کم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں یا قرض کا سہارا لیتے ہیں۔

سونے کی قیمتوں میں یہ اضافہ دراصل اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی فیصلوں کی قیمت ہمیشہ عام آدمی ادا کرتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے لیے سونا ایک محفوظ پناہ گاہ ہو سکتا ہے، مگر عام شہری کے لیے یہ اب ایک دور کا خواب بنتا جا رہا ہے۔ اگر عالمی حالات میں بہتری آئی تو شاید قیمتوں میں کچھ نرمی آئے، مگر موجودہ حالات یہی بتاتے ہیں کہ مہنگائی کا یہ بوجھ فوری طور پر ہلکا ہونے والا نہیں۔

سونا آج بھی چمک رہا ہے، مگر اس کی چمک میں عام آدمی کی آنکھوں کی نمی صاف دکھائی دیتی ہے۔ یہ اضافہ صرف بازار کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہر اس گھر کی کہانی ہے جہاں خواب سونے سے جڑے ہوتے ہیں اور وہ خواب دن بدن مہنگے ہوتے جا رہے ہیں۔

Check Also

Wales Aur Manchester Mein Guzre Din

By Altaf Ahmad Aamir