Social Media Ka Jadu Aur Haqiqat Ka Zehar
سوشل میڈیا کا جادو اور حقیقت کا زہر
یہ دور اسکرین کا دور ہے۔ انگلی ہلتی ہے اور دنیا بدل جاتی ہے۔ ایک چھوٹا سا موبائل فون انسان کو وہ طاقت دے چکا ہے جو کبھی صرف ریاستوں اور اداروں کے پاس ہوا کرتی تھی۔ خبر، رائے، احتجاج، ہمدردی، نفرت، سب کچھ ایک کلک کی دوری پر ہے۔ یہی سوشل میڈیا کا جادو ہے۔ لیکن ہر جادو کی طرح، اس کے اثرات ختم ہوں تو اصل چہرہ سامنے آتا ہے اور وہ چہرہ اکثر زہریلا ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں۔ دور بیٹھے رشتے قریب ہو گئے، علم مفت ہوگیا، کاروبار کے دروازے کھل گئے، عام آدمی کو بولنے کا حق ملا۔ کسی ہنر مند نوجوان کے لیے یوٹیوب یونیورسٹی بن گیا، کسی مظلوم کے لیے آواز اٹھانے کا پلیٹ فارم، کسی بے روزگار کے لیے روزگار کی امید۔ یہ سب اس جادو کے روشن رنگ ہیں جن سے انکار ممکن نہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف یہی دیکھ رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا سب سے خطرناک زہر ذہن پر اثر انداز ہوتا ہے۔ آج کا نوجوان اپنی زندگی کو دوسروں کی فلٹر شدہ زندگیوں سے تول رہا ہے۔ انسٹاگرام کی مسکراہٹیں، ٹک ٹاک کی چمک، یوٹیوب کی کامیابیاں، سب کچھ ایسا دکھایا جاتا ہے جیسے زندگی میں دکھ، ناکامی اور جدوجہد نام کی کوئی چیز ہی نہ ہو۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام زندگی بھی ناکامی محسوس ہونے لگتی ہے، خود اعتمادی کمزور پڑ جاتی ہے اور ڈپریشن خاموشی سے دل و دماغ میں اتر جاتا ہے۔
یہ زہر صرف ذہن تک محدود نہیں۔ سوشل میڈیا نے انسان کی توجہ کی قوت کو بھی کھوکھلا کر دیا ہے۔ پندرہ سیکنڈ کی ویڈیوز نے گھنٹوں کی سوچ چھین لی ہے۔ کتاب بوجھ لگنے لگی ہے، سنجیدہ گفتگو مشکل ہوگئی ہے اور گہرائی کی جگہ سطحیت نے لے لی ہے۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں، مگر کچھ بھی سمجھتے نہیں۔
اس زہر کی ایک اور شکل جھوٹ ہے۔ فیک نیوز، آدھی سچائیاں اور جذباتی پروپیگنڈا سیکنڈوں میں پھیلتا ہے۔ پاکستان جیسے حساس معاشرے میں یہی جھوٹ نفرت، فرقہ واریت اور عدم برداشت کو جنم دیتا ہے۔ تحقیق کی زحمت ختم ہو چکی ہے، اسکرین پر جو نظر آیا، وہی سچ مان لیا جاتا ہے۔
پھر آتی ہے تنہائی۔ ایک عجیب تضاد ہے کہ ہزاروں فالوورز کے باوجود انسان اکیلا ہوتا جا رہا ہے۔ خاندان ایک ہی کمرے میں بیٹھا ہوتا ہے مگر ہر شخص اپنی اسکرین میں گم ہے۔ بات چیت کم، پیغامات زیادہ ہو گئے ہیں۔ رشتے کمزور اور جذبات خاموش ہوتے جا رہے ہیں۔
پاکستانی معاشرے میں یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہے۔ سائبر ہراسانی، بلیک میلنگ، جعلی رشتے اور دکھاوے کی دوڑ نے نوجوانوں کو ذہنی اور اخلاقی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ معاشی مسائل کے باوجود "پرفیکٹ لائف" دکھانے کی خواہش ایک ایسا بوجھ بن چکی ہے جو اندر سے توڑ دیتا ہے۔
لیکن سچ یہ ہے کہ قصور سوشل میڈیا کا نہیں، قصور ہمارے استعمال کا ہے۔ سوشل میڈیا نہ مکمل شیطان ہے نہ مکمل فرشتہ۔ یہ ایک آئینہ ہے۔ ہم اگر اس میں شعور، اخلاق اور مقصد ڈالیں گے تو یہ ترقی کا ذریعہ بنے گا اور اگر لاپرواہی، حسد اور نفرت ڈالیں گے تو یہی آئینہ ہمیں زہر لوٹا دے گا۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم ڈیجیٹل زندگی اور حقیقی زندگی کے درمیان حد کھینچیں۔ اسکرین کے وقت کو کم کریں، رشتوں کو وقت دیں، لائکس کی بجائے کردار کو اہمیت دیں اور یہ سمجھ لیں کہ اصل کامیابی وہ ہے جو دل کو سکون دے، نہ کہ صرف اسکرین کو روشن کرے۔
کیونکہ جادو وہی اچھا ہوتا ہے جس پر قابو ہو اور جو جادو قابو سے نکل جائے، وہ زہر بن جاتا ہے۔

