Friday, 09 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Social Media: Azadi e Izhar Ya Belagam Taqeed?

Social Media: Azadi e Izhar Ya Belagam Taqeed?

سوشل میڈیا: آزادیِ اظہار یا بے لگام تنقید؟

کہا جاتا ہے کہ قلم کی طاقت تلوار سے زیادہ ہوتی ہے۔ آج کے دور میں یہ طاقت سوشل میڈیا کو حاصل ہو چکی ہے، جہاں ہر شخص کے ہاتھ میں ایک "ڈیجیٹل قلم" ہے اور ہر فرد خود کو "رائے دہندہ" اور "انصاف پسند" سمجھتا ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے کی آزادی دی ہے، وہیں اس آزادی نے بعض اوقات اخلاقی حدود کو بھی پار کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اظہارِ رائے کی آزادی ہے یا بے لگام تنقید کا نیا نام؟

آزادیِ اظہار جمہوری معاشروں کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ ہر فرد کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے دے، مسائل کی نشاندہی کرے اور اقتدار یا طاقت کے مراکز سے سوال پوچھے۔ سوشل میڈیا نے اس عمل کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ اب کسی اخبار میں جگہ کی ضرورت نہیں، کسی نیوز چینل کی منت نہیں، بس ایک پوسٹ، ایک ویڈیو، یا ایک ٹویٹ اور بات دنیا بھر میں پھیل جاتی ہے۔ لیکن اس سہولت نے ایک خطرناک رجحان کو بھی جنم دیا ہے، بغیر تحقیق الزام تراشی، شخصی کردار کشی اور بدتمیزی کو رائے کا نام دینا۔

آج سوشل میڈیا پر اگر کوئی عوامی شخصیت، استاد، صحافی یا سیاستدان کسی متنازع بات کا ذکر کرے تو اُسے فوری طور پر تنقید، طنز اور گالیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تنقید اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ بعض اوقات لوگ ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں یا سوشل میڈیا چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

تنقید اگر تعمیری ہو تو معاشرے کے لیے مفید ہے، لیکن جب یہ حد سے بڑھ جائے، تو نہ صرف افراد بلکہ پورا معاشرہ اس کے زہر سے متاثر ہوتا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی روایت کم ہوتی جا رہی ہے۔ دلیل کی جگہ دھمکی نے لے لی ہے اور مکالمے کی جگہ مذاق اڑانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

سوشل میڈیا کی دنیا ایک کھلی عدالت بن چکی ہے جہاں ہر شخص جج بھی ہے، وکیل بھی اور جلاد بھی۔ اس عدالت میں کسی کو صفائی کا موقع نہیں ملتا اور "virality" کو ہی سچ مان لیا جاتا ہے۔ ایسے میں معصوم لوگوں کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں اور بہت سے ہنر مند افراد سوشل میڈیا کے ڈر سے خاموشی اختیار کر چکے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آزادیِ اظہار اور بے لگام تنقید کے درمیان فرق سمجھیں۔

رائے دینا حق ہے، مگر کسی کی تذلیل کرنا جرم ہے۔ سوال کرنا لازم ہے، مگر بدتمیزی ہرگز نہیں۔ ہمیں سوشل میڈیا کو اظہار کا ذریعہ بنانا ہے، انتشار کا نہیں۔ اگر ہم نے اس ہتھیار کو سنبھالا نہ، تو یہ ہمارے معاشرتی رشتوں، ذہنی سکون اور اخلاقی اقدار کو چیر پھاڑ دے گا۔

آزادی خوبصورت ہوتی ہے، مگر جب وہ ذمے داری کے بغیر ہو، تو وہ تباہی بن جاتی ہے۔

Check Also

Kuwan Pyase Ki Talash Mein

By Muhammad Zeashan Butt