Punjab Mein Gas Bohran: Sardi, Bebasi Aur Riyasti Khamoshi
پنجاب میں گیس بحران: سردی، بے بسی اور ریاستی خاموشی
پنجاب بھر میں جاری گیس بحران اب محض انتظامی ناکامی نہیں رہا بلکہ ریاستی بے حسی کی واضح علامت بنتا جا رہا ہے۔ سردی کے عروج پر لاکھوں گھروں میں چولہے ٹھنڈے ہیں، مگر متعلقہ ادارے محض خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ کہیں گیس مکمل طور پر بند ہے اور کہیں پریشر اس قدر کم کہ کھانا پکانا بھی ممکن نہیں رہا۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ یہ بحران چند دنوں کا نہیں بلکہ ہفتوں سے جاری ہے۔ عوام باقاعدگی سے بل ادا کر رہے ہیں، مگر بدلے میں انہیں صرف محرومی مل رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ریاست بنیادی سہولت فراہم کرنے سے قاصر ہے تو بل وصول کرنے کا اخلاقی جواز کہاں رہ جاتا ہے؟
گیس بحران کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ اعلان کردہ گیس شیڈول پر کہیں بھی عمل درآمد نظر نہیں آتا۔ جن اوقات میں گیس فراہم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، انہی اوقات میں گھروں کے چولہے بند ملتے ہیں۔ یوں شیڈول محض ایک رسمی اعلان بن کر رہ گیا ہے، جس کی نہ کوئی وقعت ہے اور نہ جواب دہی۔
اس صورتحال نے گھریلو زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ خواتین شدید مشکلات کا شکار ہیں، بزرگ اور بچے سردی میں متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ غریب طبقہ مہنگے متبادل ایندھن کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہ بحران اب سہولت کا نہیں بلکہ انسانی وقار کا مسئلہ بن چکا ہے۔
انتظامیہ کی مسلسل خاموشی اور عوامی نمائندوں کی غیر حاضری اس تاثر کو مزید مضبوط کر رہی ہے کہ عوامی مسائل حکومتی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ اگر سردی کے موسم میں بھی گیس کی فراہمی ممکن نہیں اور اعلان کردہ شیڈول بھی کاغذی کارروائی ثابت ہو تو پھر منصوبہ بندی اور حکمرانی کے دعوے محض الفاظ رہ جاتے ہیں۔
یہ صورتحال فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف بل وصول کرنا نہیں بلکہ بنیادی سہولت کی یقینی فراہمی بھی ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ خوابِ غفلت سے بیدار ہوں، گیس کی فراہمی بحال کریں اور اعلان کردہ شیڈول پر عملی اور سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔
کیونکہ مسائل کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، مگر عوام کی محرومی کو ہمیشہ نہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموشی دیر نہیں لگائے گی کہ اجتماعی ردِعمل میں بدل جائے اور اس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

